رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت

ہر شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے عقل و فہم کی دولت سے سرفرا ز فرمایاہے۔ یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ جس کے ساتھ عقیدت و نیاز مندی ایمان میں داخل ہو اور بغیر اس کو مانے ہوئے آدمی مومن نہ ہوسکے اس کی محبت تمام عالم سے زیادہ ضروری ہوگی ماں باپ ، اولاد ، عزیزواقارب کے بھی انسان پر حقوق ہیں اور ان کاا دا کرنا لازم ہے۔ جب تک لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ) کا معتقدنہ ہو ہرگز مومن نہیں ہو سکتا تو اگر اس کا رشتۂ محبت رسول علیہ الصلوٰۃ و السلام سے ٹوٹا تو یقیناایمان سے خارج ہوا کہ تصدیق رسالت بے محبت باقی نہیں رہ سکتی۔ اس لئے شرع مطہر نے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت ہر شخص پر اس کے تمام خویش و اقارب، اعزہ واحباب سے زیادہ لازم کی ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:

آیت: ١
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَاتَتَّخِذُوۡۤا اٰبَآءَکُمْ وَ اِخْوٰنَکُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الۡاِیۡمٰنِ ؕ وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۳﴾
اے ایمان والو اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کودوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گاتو وہی ظالم ہیں۔
(پ۱۰،التوبۃ:۲۳)

آیت: ٢
قُلْ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَ اِخْوٰنُکُمْ وَاَزْوٰجُکُمْ وَعَشِیۡرَتُکُمْ وَ اَمْوٰلُۨ اقْتَرَفْتُمُوۡہَا وَتِجٰرَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَجِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ ؕ وَاللہُ لَایَہۡدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیۡنَ ﴿۲۴﴾

تم فرماؤاگرتمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔
(پ۱۰،التوبۃ:۲۴)

آیت:٣
وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۱﴾

اور وہ جو رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
(پ۱۰،التوبۃ:۶۱)

آیت:٤
وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ اِنۡ کَانُوۡا مُؤْمِنِیۡنَ ﴿۶۲﴾

اور اللہ و رسول کا حق زائد تھاکہ اسے راضی کرتے اگر ایمان رکھتے تھے۔
(پ۱۰،التوبۃ:۶۲)

آیت:٥
اَلَمْ یَعْلَمُوۡۤا اَنَّہٗ مَنۡ یُّحَادِدِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ فَاَنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدًا فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ الْخِزْیُ الْعَظِیۡمُ ﴿۶۳﴾

کیا انھیں خبر نہیں کہ جو خلاف کرے اللہ اور اس کے رسول کا تو اس کے لئے جہنم کی آگ ہے کہ ہمیشہ اس میں رہے گا یہی بڑی رسوائی ہے۔
(پ۱۰،التوبۃ:۶۳)

مؤمنین اور مؤمنات کی شان میں ارشاد فرمایا:
آیت:٦
وَیُطِیۡعُوۡنَ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ سَیَرْحَمُہُمُ اللہُ ؕ اِنَّ اللہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۷۱﴾

اور اللہ و رسول کا حکم مانیں یہ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحم کرے گا بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔
(پ۱۰،التوبۃ:۷۱)

آیت:٧
مَاکَانَ لِاَہۡلِ الْمَدِیۡنَۃِ وَمَنْ حَوْلَہُمۡ مِّنَ الۡاَعْرَابِ اَنۡ یَّتَخَلَّفُوۡا عَنۡ رَّسُوۡلِ اللہِ وَلَایَرْغَبُوۡا بِاَنۡفُسِہِمْ عَنۡ نَّفْسِہٖ ؕ

مدینے والوں اور ان کے گرد دیہات والوں کو لائق نہ تھا کہ رسول اللہ سے پیچھے بیٹھ رہیں اور نہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان پیاری سمجھیں۔
(پ۱۱،التوبۃ:۱۲۰)

ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی محبت آباء و اجداد، انبیاء و اولیاء، اولاد، عزیز، اقارب، دوست، احباب، مال، دولت، مسکن، وطن سب چیزوں کی محبت سے اور خود اپنی جان کی محبت سے زیادہ ضروری و لازم ہے۔ اور اگر ماں باپ یا اولاد اللہ و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ رابطۂ عقیدت و محبت نہ رکھتے ہوں تو ان سے دوستی و محبت رکھنا جائز نہیں۔ قرآن پاک میں اس مضمون کی صدہا آیتیں ہیں۔ اب چند حدیثیں پیش کی جاتی ہیں :

حدیث:۱
بخار ی ومسلم نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔

حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلمنے فرمایا :تم میں کوئی مومن نہیں ہوتا جب تک میں اُسے اس کے والد اور اولاد اور سب لوگوں سے زیاد ہ پیار ا اور محبوب نہ ہوں۔
(صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب حب الرسول من الایمان،الحدیث:۱۵، ج۱،ص۱۷)

حدیث:۲
قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلٰثٌ مَّنْ کُنَّ فِیْہِ وَجَدَ بِھِنَّ حَلَاوَۃَ اْلاِیْمَانِ مَنْ کَانَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِمَّا سِوَاھُمَا وَمَنْ اَحَبَّ عَبْدًا لَا یُحِبُّہٗ اِلَّا لِلّٰہِ وَمَنْ یَکْرَہُ اَنْ یَّعُوْدَ فِی الْکُفْرِ بَعْدَ اَنْ اَنْقَذَہُ اللہُ مِنْہٗ کَمَا یَکْرَہُ اَنْ یُّلْقٰی فِی النَّارِ
(رواہ البخاری ومسلم عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلمنے فرمایا: تین چیزیں جس میں ہوں وہ لذت و شیر ینی ایمان کی پالیتا ہے۔{۱}جس کوا للہ و رسول سارے عالم سے زیادہ پیارے ہوں {۲}اور جو کسی بندے کو خاص اللہ کے لئے محبوب رکھتا ہو{۳}اور جو کفر سے رہائی پانے اور مسلمان ہونے کے بعد کفر میں لوٹنے کو ایسا برا جانتا ہو جیسا اپنے آپ کو آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔
(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان خصال۔۔۔الخ، الحدیث:۶۷، ص۴۱ وصحیح البخاری،کتاب الایمان، باب من کرہ ان یعود فی الکفر۔۔۔الخ، الحدیث:۲۱،ج۱،ص۱۹)

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت رکھنے والی چیزوں کو محبوب رکھنا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں داخل ہے قدرتی طور پر انسان جس سے محبت رکھتا ہے اس سے نسبت رکھنے والی تمام چیزیں اس کو محبوب ہوجاتی ہیں۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلمسے محبت رکھنے والے بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلمکے وطن پاک اور حضور کے وطن پاک کے رہنے والوں اور حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام سے نسبت رکھنے والی ہر چیز کو جان و دل سے محبوب رکھتے ہیں۔

حدیث:۳
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَحِبُّوْا الْعَرَبَ لِثَلَاثٍ لِاَنِّیْ عَرَبِیٌّ وَالْقُرْاٰنُ عَرَبِیٌّ وَکَلَامُ اَھْلِ الْجَنَّۃِ عَرَبِیٌّ۔
(رواہ البیہقی فی شعب الایمان)

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور اقدس رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اہل عرب کو محبوب رکھو تین وجہ سے، وہ یہ ہیں :{۱}میں عربی ہوں {۲}قرآن عربی ہے{۳}اہل جنت کی زبان عربی ہے۔
(شعب الایمان للبیہقی، باب فی تعظیم النبی۔۔۔الخ، فصل فی معنی الصلاۃ علی النبی۔۔۔الخ، الحدیث:۱۶۱۰،ج۲،ص۲۳۰)

حدیث:۴
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ یَدْخُلْ فِیْ شَفَاعَتِیْ وَلَمْ تَنَلْہُ مَوَدَّتِیْ
(رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَضَعَّفَہٗ وَالضِّعَافُ فِیْ مِثْلِ ھٰذَا الْمَقَامِ مَقْبُوْلَۃٌ)

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل عرب سے بغض وکدورت رکھی میری شفاعت میں داخل نہ ہوگا اور میری مودّت سے فیض یاب نہ ہوگا۔
(سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب فی فضل العرب،الحدیث:۳۹۵۴،ج۵،ص۴۸۷)

حدیث:۵
عَنْ سَلْمَانَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَاتَبْغَضْنِیْ فَتُفَارِقُ دِیْنَکَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللہِ کَیْفَ اَبْغَضُکَ وَبِکَ ھَدَانَا اللہُ قَالَ تَبْغَضُ الْعَرَبَ فَتَبْغَضُنِیْ
(رواہ الترمذی وحسنہ)

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضور اکرم رسول مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ کرنا کہ دین سے جدا ہو جائے گا۔میں نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کیسے بغض کرسکتا ہوں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہی کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت فرمائی۔ فرمایا کہ عربوں سے بغض کرے تو ہم سے بغض کرتا ہے۔
(سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب فی فضل العرب،الحدیث:۳۹۵۳، ج۵،ص۴۸۷)

ان احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت رکھنے کی وجہ سے اہل عرب کے ساتھ محبت رکھنا مؤ من کے لئے لازم اور علامت ایمان ہے اور اگر کسی کے دل میں اہل عرب کی طرف سے کدورت ہو تو یہ اس کے ایمان کاضعف اور محبت کی خامی ہے اور اہل عرب توحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے وطن پاک کے رہنے والے ہیں ، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت رکھنے والی ہر چیز مومنِ مخلص کے لئے قابلِ احترام اور محبوبِ دل ہے۔ صحابہ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین حضو ر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی قدم گاہ کا ادب کرتے تھے۔ چنانچہ منبرشریف کے جس درجہ پرحضورانورعلیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف رکھتے خلیفۂ اول نے ادباً اس پر بیٹھنے کی جرأت نہ کی اورخلیفۂ دوم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نشست گاہ پر بھی بیٹھنے کی جرأ ت نہ کی اور خلیفۂ ثالث حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نشست گاہ پر کبھی نہ بیٹھے۔
(رواہ الطبرانی عن ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما)
(المعجم الاوسط للطبرانی، باب من اسمہ محمود، الحدیث:۷۹۲۳، ج۶، ص۴۰)

اس سے اندازہ کرنا چاہیے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آل و اصحاب کے ساتھ محبت کرنا اور ان کے ادب و تعظیم کو لازم جاننا کس قدر ضروری ہے۔ اور یقینا ان حضرات کی محبت سیّد عالم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت ہے اورحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ایمان۔

حدیث:۶
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اللہَ اللہَ فِیْ اَصْحَابِیْ لَا تَتََّخِذُوْھُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِی فَمَنْ اَحَبَّھُمْ فَبِحُبِّیْ اَحَبَّھُمْ وَمَنْ اَبْغَضَھُمْ فَبِبُغْضِیْ اَبْغَضَھُمْ وَمَنْ اٰذَا ھُمْ فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اَذَی اللہَ وَمَنْ اٰذَی اللہَ یُوْشِکُ اَنْ یَّأْخُذَہٗ
(رواہ الترمذی)

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مکرر فرمایا کہ میرے اصحاب کے حق میں خدا سے ڈرو خدا کا خوف کرو۔ انھیں میرے بعد نشانہ نہ بناؤ۔جس نے انھیں محبوب رکھا میری محبت کی وجہ سے محبوب رکھا اور جس نے ان سے بغض کیا وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے، اس لئے اس نے ان سے بغض رکھا، جس نے انھیں ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی جس نے مجھے ایذا دی اس نے بیشک خدائے تعالیٰ کو ایذا دی ،جس نے اللہ تعالیٰ کو ایذا دی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے گرفتار کرے۔
(سنن الترمذی،کتاب المناقب، باب فی من سب اصحاب النبی،الحدیث:۳۸۸۸، ج۵،ص۴۶۳)

مسلمان کو چاہیے کہ صحابہ کرام کا نہایت ادب رکھے اور دل میں ان کی عقیدت و محبت کو جگہ دے۔ ان کی محبت حضور کی محبت ہے اور جو بد نصیب صحابہ کی شان میں بے ادبی کے ساتھ زبان کھولے وہ دشمنِ خدا و رسول ہے۔مسلمان ایسے شخص کے پاس نہ بیٹھے۔

حدیث:۷
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رُسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا رَاَیْتُمُ الَّذِیْنَ یَسُبُّوْنَ اَصْحَابِیْ فَقُوْلُوْا لَعْنَۃُ اللہِ عَلٰی شَرِّ کُمْ۔
(رواہ الترمذی)

حضور اقدس رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :جب تم اُ ن لوگوں کو دیکھو جو میرے اصحاب کی بدگوئی کرتے ہیں تو کہہ دو کہ تمہارے شر پر خدا کی لعنت۔
(سنن الترمذی،کتاب المناقب، باب فی من سب اصحاب النبی،الحدیث:۳۸۹۲، ج۵،ص۴۶۴)

ان احادیث سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا مرتبہ اور مؤمن کے لئے اُن کے ساتھ محبت و اخلاص و ادب و تعظیم کا لازم ہونا اور ان کے بدگویوں سے دور رہنا ثابت ہوا۔ اصحابِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں سے میل جول مؤمن ِخالص الاعتقاد کا کام نہیں۔ آدمی اپنے دشمنوں کے ساتھ نشست و برخاست اور بخوش دلی بات کرنا گوارا نہیں کرتا ہے تو دشمنانِ رسول و دشمنانِ اصحا ب رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ کیسے گوارا کرسکتا ہے۔
اصحاب کبار میں خلفاء راشدین یعنی
{۱}سیدنا حضرت ابوبکر صدیق
{۲}سیدنا حضرت عمر فاروق
{۳}سیدنا حضرت عثمان غنی
{۴}سیدنا حضرت علی مرتضیٰ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا مرتبہ سب سے بلند وبالا ہے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: