الله والوں کے الله کی عطا سے دُور سے دیکھنے اور سُننے کے واقعات

Allah-walu-k-Allah-ki-ata-say-dur-say-dekhne-aur-sune-k-waqaiyat

اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے برگزیدہ بندوں کو دُور سے دیکھنے ، سننے اور تصرُّف کرنے کی طاقت عطا فرمائی ہے لہٰذا وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے دُور سے دیکھتے ، سنتے اور تصرُّف بھی فرماتے ہیں جیسا کہ قرآن کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اپنے لشکروں کے ساتھ طائف یا شام میں اس وادی پر سے گزرے جہاں چیونٹیاں بکثرت تھیں ۔جب چیونٹیوں کی ملکہ نے حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لشکر کو دیکھا تووہ کہنے لگی:اے چیونٹیو!اپنے گھروں میں داخل ہوجاؤ، کہیں حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے لشکر بے خبری میں تمہیں کچل نہ ڈالیں ۔ملکہ نے یہ اس لئے کہا کہ وہ جانتی تھی کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبی ہیں ، عدل کرنے والے ہیں ، جبر اور زیادتی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شان نہیں ہے۔ اس لئے اگر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لشکر سے چیونٹیاں کچلی جائیں گی تو بے خبری ہی میں کچلی جائیں گی کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ گزرتے ہوئے اس طرف توجہ نہ کریں ۔ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چیونٹی کی یہ بات تین میل سے سن لی اور ہوا ہر شخص کا کلام آپ کی مبارک سماعت تک پہنچاتی تھی جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام چیونٹیوں کی وادی کے قریب پہنچے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے لشکر وں کو ٹھہرنے کا حکم دیا یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے گھروں میں داخل ہوگئیں ۔ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ سفر ہوا پر نہ تھا بلکہ پیدل اور سواریوں پر تھا۔
( جلالین، النمل، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۳۱۸، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳/۴۰۵، ملتقطاً)
اس قرانی واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ چیونٹی کی آواز کو تین میل کی دوری سے سن لینا یہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کا معجزہ ہے اور اس سے معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء کرام علیھم السَّلَام کی بصارت و سماعت کو عام انسانوں کی بصارت و سماعت پر قیاس نہیں کر سکتے بلکہ حق یہ ہے کہ انبیاء کرام کا سننا اور دیکھنا اور دوسری طاقتیں عام انسانوں کی طاقتوں سے بڑھ چڑھ کر ہوا کرتی ہیں۔

اور جیسا کہ قرآن میں حضرت سلیمان کا ایک اور واقعہ ہے: سلیمان نے فرمایا: اے درباریو!تم میں کون ہے جو ان (بلقیس) کے میرے پاس فرمانبردار ہوکر آنے سے پہلے اس کا تخت میرے پاس لے آئے۔ ایک بڑا خبیث جن بولا کہ میں وہ تخت آپ کی خدمت میں آپ کے اس مقام سے کھڑے ہونے سے پہلے حاضر کردوں گا اور میں بیشک اس پر قوت رکھنے والا، امانتدار ہوں ۔ اس ( حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ) نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھاکہ میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا (چنانچہ) پھرجب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوادیکھا تو فرمایا: یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ؟اور جو شکر کرے تووہ اپنی ذات کیلئے ہی شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے پرواہ ہے، کرم فرمانے والا ہے۔
( قرآن، النمل،: ۳۸، ۳۹، ۴۰)
اس قرانی واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ الله اپنے اولیاء کو بڑی بڑی روحانی طاقت و قوت عطا فرماتا ہے۔ دیکھ لیجیے حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے پلک جھپکنے بھر کی مدت میں تخت بلقیس کو ملک سباسے دربار سلیمان میں حاضر کر دیا ۔ اور خود اپنی جگہ سے ہلے بھی نہیں ۔

حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے رِوایت ہے کہ نبی ٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے زمانۂ مبارک میں سورج کو گرہن لگا ، تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے نماز پڑھی،(دَورانِ نماز ہاتھ بڑھا کر کچھ لینا چاہا لیکن پھر دَستِ مبارک نیچے کر دیا ، نماز کے بعد )صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نےعرض کی: یَارسولَ اﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! ہم نے دیکھا کہ آپ اپنی جگہ سے کسی چیز کو پکڑ رہے تھے ، پھر ہم نے دیکھا کہ آپ پیچھے ہٹے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:اِنِّىْ أُرِيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُوْدًا وَلَوْ اَخَذْتُهُ لَاَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا مجھے جنت دِکھائی گئی تو میں اس میں سے ایک خوشہ توڑنے لگا، اگر میں اس خوشے کو توڑ لیتا تو تم رہتی دُنیا تک اس میں سےکھاتے رہتے۔
(بخاری ،کتاب الاذان ، باب رفع البصر الی الامام فی الصلٰوة ،۱/۲۶۵، حدیث:۷۴۸)

مُفسّرِشہیر،حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: اِس حدیث سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جنت اور وہاں کے پھلوں وغیرہ کے مالِک ہیں کہ خوشہ توڑنے سے ربّ نے منع نہ کیا خود نہ توڑا ، کیوں نہ ہو کہ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ اے محبوب بے شک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں۔ (پ۳۰، الکوثر:۱) اسی لیے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کو کوثر کا پانی بارہا پلایا۔ دوسرے یہ کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو ربّ تعالیٰ نے وہ طاقت دی ہے کہ مدینہ میں کھڑے ہو کر جنت میں ہاتھ ڈال سکتے ہیں اور وہاں تصرُّف کر سکتے ہیں،جن کا ہاتھ مدینہ سے جنت میں پہنچ سکتا ہے کیا ان کا ہاتھ ہم جیسے گنہگاروں کی دَستگیری کے واسطے نہیں پہنچ سکتا اور اگر یہ کہو کہ جنت قریب آگئی تھی تو جنت اور وہاں کی نعمتیں ہر جگہ حاضرہوئیں۔ بہرحال اِس حدیث سےیاحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو حاضر ماننا پڑے گا یا جنت کو۔
(مِراٰۃُ المناجیح ،۲/۳۸۲)

حدیثِ پاک اور اس کی شرح سے واضح طور پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہمارے پیارے سرکار، مکے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بعطائے پروردگار زمین پر کھڑے ہو کر ساتوں آسمانوں سے بھی اوپر جنت کو نہ صرف دیکھ لیا بلکہ اپنا دَستِ مبارک بھی جنت کے خوشے تک پہنچا دیا۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے صدقے میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین کو بھی دُور سے دیکھنے ، سننے اور تصرُّف کرنے کی قوت حاصل ہے چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن حارث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ اَمیرُالمؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نےحضرتِ سَیِّدُنا ساریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کواِسلامی لشکر کا سپہ سالار بنا کر نَہاوَنْد بھیجا ، (نہاوند ایران میں صوبہ آذر بائیجان کے پہاڑی شہروں میں سے ہے اور مدینۂ منورہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً سے اتنا دُور ہے کہ ایک ماہ چل کر بھی آدمی وہاں نہیں پہنچ سکتا۔
(حاشیه اشعة اللمعات ، ۴/۶۱۵ کوئٹه) )
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جہاد میں مصروف تھے ، اِدھر مدینۂ طیبہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں امیرُ المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جمعہ کا خطبہ فرما رہے تھے ،یکایک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے خطبہ چھوڑ کر تین بار فرمایا:” یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلَ یعنی اے ساریہ! پہاڑ کی طرف جاؤ۔“ پھر اس کے بعد خطبہ شروع فرما دیا ،بعدِ نماز حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس پکار کی وجہ دریافت کی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :میں نے مسلمانوں کو دیکھا کہ وہ پہاڑ کے پاس لڑ رہے ہیں اور کفار نے انہیں آگے پیچھے سے گھیر رکھا ہے ،یہ دیکھ کر مجھ سے ضبط نہ ہو سکا اور میں نے کہہ دیا:” یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلَ یعنی اے ساریہ! پہاڑ کی طرف جاؤ۔اس واقعے کے کچھ روز بعد حضرتِ سیِّدُنا ساریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قاصد ایک خط لے کر آیا جس میں لکھا تھا کہ ہم لوگ جمعہ کے دن کفار سے لڑ رہے تھے اور قریب تھا کہ ہم شکست کھا جاتے کہ عین جمعہ کی نماز کے وقت ہم نے کسی کی آواز سنی:” یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلَ یعنی اے ساریہ! پہاڑ کی طرف جاؤ۔“اس آواز کو سن کر ہم پہاڑ کی طرف چلے گئے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کفار کو شکست دی ہم نے انہیں قتل کر ڈالا ،اس طرح ہمیں فتح حاصل ہو گئی ۔
(کنزالعمّال ،کتاب الفضائل ، فضائل الصحابة، فضائل الفاروق، الجزء:۱۲، ۶/۲۵۶، حدیث: ۳۵۷۸۵- ۳۵۷۸۳ ملخصًا )

حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ عفیفُ الدِّین عبدُ اللہ یافعی یمنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:اس حدیث شریف سے اَمیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی دو کرامتیں ظاہر ہوئیں:
(۱) آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مدینۂ منوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے (چودہ سو (1400) میل دُور) مقام نَہاوَنْد میں موجود لشکرِ اسلام اور ان کے دُشمن کو مُلاحظہ فرما لیا اور
(۲) مدینۂ طیبہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً سے اتنی دُور آواز پہنچا دی۔
(روضُ الریاحین ، ص۳۹ ماخوذا ً دار الکتب العلمیة بیروت )

حضرتِسیِّدُنا شیخ عارِف ابو القاسم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبدُالقادِر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَانِی دَورانِ وَعظ اِسْتِغراق کی حالت میں ہو گئے یہاں تک کہ آپ رَحْمَۃُاللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ کے عِمامے کا بَل (یعنی پیچ)کھل گیا تو تمام حاضرین نے بھی اپنے عِمامے اور ٹوپیاں غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کی کُرسی کی طرف پھینک دئیے۔ جب آپ رَحْمَۃُاللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ وَعظ سے فارِغ ہوئے تو اپنے عِمامہ شریف کو دُرست فرمایا اور مجھے حکم دیا کہ اے ابو القاسم! لوگوں کو ان کے عِمامے اور ٹوپیاں دے دو۔ میں نے سب لوگوں کو اُن کے عِمامے اور ٹوپیاں دے دیں لیکن آخر میں ایک دوپٹہ رہ گیا میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کس کا ہے؟ حالانکہ مجلس میں کوئی بھی ایسا نہ بچا تھا جس کا کچھ رہ گیا ہوں۔حُضُور غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے مجھ سے فرمایا: یہ مجھے دے دو۔ میں نے وہ دوپٹہ آپ رَحْمَۃُاللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو دے دیا۔آپ نے اسے اپنے کندھے پر رکھا تو وہ غائب ہو گیا۔ میں حیرانگی سے دَمْ بخود رہ گیا۔ فرمایا:اے ابو القاسم!جب مجلس میں لوگوں نے اپنے عِمامے اُتار دئیے تو ہماری ایک بہن نے اَصبہان سے اپنا دوپٹہ اُتار کر پھینک دیا تھا۔ پھر جب میں نے اس دوپٹے کو اپنے شانوں پر رکھا تو اس نے اَصبہان سے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اپنے دوپٹے کو اُٹھا لیا۔
(بهجةُ الاسرار ، ذکر و عظه ، ص۱۸۵ ملتقطاً دار الكتب العلمية بيروت)

معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک اور برگزیدہ بندے دُور سے دیکھتے ،سنتے اور تصرُّف بھی فرماتے ہیں۔ دیکھیے!آج کے اِس ترقی یافتہ دور میں سائنسی آلات (موبائل،ریڈیو اور ٹی وی وغیرہ)کے ذَریعے بیک وقت ایک ہی لمحے میں دُنیا کے کونے کونے میں آواز اور شبیہ کو سنا اور دیکھا بھی جا سکتا ہے۔ جب سائنسی آلات کے ذَریعے یہ سب کچھ ہو سکتا ہے تو روحانی رابطے (Conection) کے ذَریعے کیوں نہیں ہو سکتا؟ روحانی رابطہ تو سائنسی رابطے سے زیادہ طاقتور (Powerfull) ہے۔ سائنس والا دُور کی آواز اور شبیہ سنا اور دِکھا دے تو کسی کو وَسوسہ نہیں آتا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی عطا سے اپنے محبوب بندوں کو دُور کی آواز سنا دے تو وسوسے آنے شروع ہو جاتے ہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے مقبول بندوں کی محبت نصیب فرمائے اور ان کے فضائل و کمالات ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: