جھاڑ پھونک اور جائز دم کے درمیان فرق

jar-phoonk-aur-jaiz-dam-mai-farak

 

جھاڑ پھونک اور جائز دم کے درمیان فرق احادیث کی روشنی میں

جھاڑ پھونک کی ممانعت:
حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاِرشادفرمایا :’’میرے سامنے اُمَّتیں پیش کی گئیں تو میں نے ایک نبی( عَلَیْہِ السَّلَام) کو دیکھا، اُن کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔ ایک نبی( عَلَیْہِ السَّلَام) کو دیکھا اُن کے ساتھ ایک یا دو آدمی ہیں اور ایک نبی (عَلَیْہِ السَّلَام) کویوں دیکھا کہ اُن کے ساتھ کوئی بھی نہیں ۔اچانک ایک بہت بڑی جماعت میرے سامنے پیش کی گئی تومیں نے خیال کیا کہ شاید یہ میری اُمَّت ہوگی لیکن مجھے کہا گیا کہ یہ موسیٰ( عَلَیْہِ السَّلَام) اور اُن کی اُمَّت ہے، البتہ آپ آسمان کے کنارے کی طرف دیکھئے، میں نے دیکھا تو وہاں ایک بہت بڑی جماعت تھی۔مجھے کہا گیا کہ دوسرے کنارے کی طرف دیکھئے تو وہاں بھی ایک بہت بڑی جماعت تھی۔ مجھ سے کہاگیا:یہ آپ کی اُمَّت ہے اور اِن کے ساتھ سترہزار 70000اَفرادایسے ہیں جو بِلا حساب وعذاب جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھڑے ہوئے اور کاشانہ ٔ اَقدس میں تشریف لے گئے ۔صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بلا حساب وعذاب جنت میں داخل ہونے والوں کے بارے میں بحث کرنے لگے ۔ بعض نے کہا: ’’شاید وہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحبت یافتہ ہوں گے۔‘‘بعض نے کہا : ’’شاید وہ ہوں گے جومسلمان پیدا ہوئے اور پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ۔‘‘الغرض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے مختلف خیالات کا اِظہار کیا ۔ پھرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم باہر تشریف لائے اور فرمایا:’’کس چیزکے بارے میں بحث کررہے ہو؟‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے زیر بحث مسئلہ بتایا توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’یہ وہ لوگ ہیں جو نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں ، نہ کراتے ہیں اور نہ ہی بد فالی لیتے ہیں اور اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ پر توکل کرتے ہیں ۔‘‘ (یہ سن کر) عُکَّاشہ بن مِحْصَن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کھڑے ہوئے اور عرض کی:’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! دعا کیجئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے بھی اُن میں شامل فرمادے۔‘‘ فرمایا :’’تو اُن میں سے ہے۔‘‘پھر ایک اور شخص کھڑا ہواورعرض کی: ’’دعا کیجیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے بھی اُن لوگوں میں شامل فرمادے ۔‘‘ فرمایا :’’اِس میں عُکَّاشَہ تم پرسبقت لے گئے۔‘‘
(مسلم، کتاب الایمان ، باب الدلیل علی دخول طوائف ۔۔۔الخ، ص ۱۳۶، حدیث:۲۲۰، بدون شیئا۔)

صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی دَم کیا کرتے تھے:

حضرتِ سَیِّدُنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا ایک قافلہ عرب کے کسی قبیلے میں گیا تو قبیلے والوں نے اُن کی ضِیافت نہ کی، اِسی دوران قبیلے کے سردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا، قبیلے والوں نے اہلِ قافلہ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اِس کاٹے کا دَم یا دَوَا ہے؟انہوں نے فرمایا: ’’چونکہ تم لوگوں نے حق ِضیافت ادا نہ کیا اس ‏لیے جب تک ہمارے ‏لیے کچھ مقرر نہ کرو ہم علاج نہیں کریں گے ۔‘‘ چنانچہ قبیلے والوں نے کچھ بکریاں دینا منظور کر لیں ۔ پس ایک صحابی نے درد والی جگہ پر اپنا لعاب لگایا اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تودَرد فوراً ختم ہوگیا ۔ پس قبیلے والے مقرر ہ بکریاں لے آئے ۔مگر صحابۂ کرام نے کہا کہ جب تک ہم اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نہ پوچھ لیں اُس وقت تک نہ لیں گے ۔جب حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے معاملہ پیش کیا گیا تو آپ مسکرائے اورفرمایا: ’’تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورۂ فاتحہ سے دَم کیا جاتا ہے؟ بہر حال تم وہ بکریاں لے لو اور میرا حصہ بھی رکھو۔‘‘
(بخاری، کتاب الطب، باب الرقی بفاتحۃ الکتاب، ۴‏/ ۳۰، حدیث:۵۷۳۶۔)

نظرکا دَم کرنے کا حکم:

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :’’ مجھے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حکم دیا کہ نظر لگنے کا دم کیا کرو۔‘‘
(بخاری، کتاب الطب، باب رقیۃ العین، ۴‏/ ۳۱، حدیث:۵۷۳۸۔)

زہریلے جانور کے کاٹے پر دَم کرنا:

 

حضرتِ سَیِّدُنا عبدالرحمٰن بن اَسْوَد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے زہریلے جانور کے کاٹے پر دَم کرنے کے بارے میں پوچھا تو فرمایا:’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہر زہریلے جانور کے کاٹے پر دَم کرنے کی اِجازت مَرحَمَت فرمائی ہے۔‘‘
(بخاری، کتاب الطب، باب رقیۃ الحیۃ والعقرب ، ۴‏/ ۳۲، حدیث:۵۷۴۱۔)

 

سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دَم کرنا:

حضرتِ سَیِّدُنا عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضرت سَیِّدُنَااَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہوئے توحضرت سَیِّدُنَاثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُن سے عرض کی: ’’اے ابو حمزہ ! میں بیمار ہوں ۔‘‘ حضرت سَیِّدُنَااَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں وہ دَم نہ کروں جو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیا کرتے تھے؟‘‘ عرض کی:’’ کیوں نہیں ۔‘‘ توحضرت سَیِّدُنَا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ دعا پڑھ کر اُنہیں دَم کیا: ’’اَللّٰھُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْھِبَ الْبَاسِ اِشْفِ اَنْتَ الشَّافِی لَا شَافِی اِلَّااَنْتَ شِفَآءً لَا یُغَادِرُسَقَمًا یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اے لوگوں کے ربّ! اے تکالیف کو دُور کرنے والے!شفا عطافرما، توہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ، ایسی شفا عطا فرما جو اپنے بعد بیماری نہ چھوڑے ۔‘‘
(بخاری کتاب الطب ،باب رقیۃ النبی،۴‏/۳۲، حدیث:۵۷۴۲۔)

حضرت جبریل عَلَیْھِ السَّلَام کا دم کرنا:

اُمُّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ جب حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیمار ہوئے تو حضرت جبریل عَلَیْھِ السَّلَام نے آکر اِن کلمات کے ساتھ دم کیا:’’بِسْمِ اللہِ یُبْرِیْکَ وَمِنْ کُلِّ دَاءٍ یَشْفِیْکَ وَمِنْ شَرِّحَاسِدِِاِذَاحَسَدَوَشَرِّ کُلِّ ذِی عَیْنٍیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام سے وہ آپ کو تندرست کر دے گا اور ہر بیماری سے شفا عطا فرمائے گااور ہر حاسِد کے حَسَد سے جب و ہ حَسَد کرے اور نظر لگانے والی آنکھ سے محفوظ رکھے گا۔‘‘
(مسلم ،کتاب السلام ،باب الطب والمرضی والرقی،ص۱۲۰۱، حدیث:۲۱۸۵۔)

حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اپنے اہلِ خانہ پر دم کرنا:

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ ’’جب رسولِ اَکرم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اہلِ خانہ میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آ پ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مُعَوَّذَات

(یعنی سورۃالفلق اورسورۃ الناس)پڑھ کر اُس پر دَم کرتے۔ پھرجب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مرضِ وفات لاحِق ہوا تو میں آپ پر دَم کرتی اور آپ کے دست مبارک کو آپ پر پھیرتی، کیونکہ آپ کے دستِ مبارک میں میرے ہاتھ سے زیادہ برکت تھی۔‘‘
(مسلم ،کتاب السلام ،باب رقیۃ المریض بالمعوذات والنفث ،ص۱۲۰۵،حدیث:۲۱۹۲۔)

دم کرنے کا جواز اور مُمَانعت میں مُطابَقت:

حدیثِ مذکور میں جھاڑ پھونک کی ممانعت کا بیان ہے جبکہ کئی احادیثِ مبارکہ سے دم کا ثبوت ملتا ہے تو اِن دو طرح کی حدیثوں میں کیسے مطابقت ہوگی؟آئیے اِس کی وضاحت ملاحظہ فرمائیے۔شیخ الحدیث علامہ غلام رسول رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیتفہیم البخاری میں فرماتے ہیں :’’بعض اَحادیث میں دَم (جھاڑ پھونک) کرنے کا جواز اور بعض میں ممانعت مذکور ہے، دونوں قسم کی اَحادیث بکثرت ہیں ، اِن میں اِتِّفَاق کی صورت یہ ہے کہ جن اَحادیث میں ممانعت ہے وہ اُس دم پر محمول ہیں جس میں غیر شرعی کلما ت ہوں اور جس دم میں کلماتِ قرآن اور اَسما ء ِ ا لہٰیہ مذکور ہیں وہ منتر (دَم) جا ئز ہیں ۔‘‘
(تفہیم البخاری،۸‏/۷۷۴۔)

 

جو جھاڑ پھونک غیر شرعی کلمات کے ذریعے ہو وہ منع ہے ۔جبکہ آیات قرآنیہ اور اَسمائے اِلٰہیَّہ کے ذریعے کیا گیا دم نا صرف جائز بلکہ باعث ِخیر وبرکت ہے۔ 

اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہم دین اسلام کی سمج عطا فرماۓ اور ہماری دنیاوآخرت بہتر بنائے ،ہمیں اپنی دائمی رضا سے مالا مال فرمائے ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: