اسلام میں سودکو حرام کئے جانے کی حکمتیں: ( سود کے نقصانات)

سود کو حرام فرمانے میں بہت سی حکمتیں ہیں ، ان میں سے بعض یہ ہیں کہ
1۔ سود میں جو زیادتی لی جاتی ہے وہ مالی معاوضے والی چیزوں میں بغیر کسی عوض کے مال لیا جاتا ہے اور یہ صریح ناانصافی ہے۔

2۔ سود کی حرمت میں دوسری حکمتیہ ہے کہ سود کا رواج تجارتوں کو خراب کرتا ہے کہ سود خور کو بے محنت مال کا حاصل ہونا ،تجارت کی مشقتوں اور خطروں سے کہیں زیادہ آسان معلوم ہوتا ہے اور تجارتوں کی کمی انسانی معاشرت کو ضرر پہنچاتی ہے۔

3۔ تیسری حکمت یہ ہے کہ سود کے رواج سے باہمی محبت کے سلوک کو نقصان پہنچتا ہے کہ جب آدمی سود کا عادی ہوا تو وہ کسی کو قرض حَسن سے امداد پہنچانا گوارا نہیں کرتا۔

4۔ چوتھی حکمت یہ ہے کہ سود سے انسان کی طبیعت میں درندوں سے زیادہ بے رحمی پیدا ہوتی ہے اور سود خور اپنے مقروض کی تباہی و بربادی کا خواہش مند رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی سود میں اور بڑے بڑے نقصان ہیں اور شریعت کی سود سے ممانعت عین حکمت ہے۔

5۔ سود، قرضہ دینے کی نیکی اور احسان جیسے دروازے کو بند کر دیتا ہے کیونکہ جب بنا مشقت و نقصان کے خوف کے ایک درہم کے بدلے دو درہم مل رہے ہو تو پھر کوئی بھی ایک درہم کے بدلے میں ایک ہی درہم لینا گوارا نہ کرے گا۔
اور اگر یہی سود وقت پر ادا نہ کیا جائے تو اس کی شرح بڑھتی جاتی اور مقروض پر سود کا بوجھ بڑھتا جاتا اور بل اور بالآخر غریب مقروض اپنی آزادی امیر سود خور کو اپنے ہاتھوں بھیج دیتا ہے امیر امیر تر ہوتا جاتا ہے اور غریب غریب تر ہوجاتا ہے۔ اور اگر یہی سودی نظام کسی ملک پر لاگو کردیا جائے تو اس کی عوام وقت کے ساتھ ساتھ قرضوں کے بوجھ تلے دبتی جاتی ہے اور چند سود حوروں کے ہاتھ میں غریب عوام کی آزادی کے ساتھ ساتھ ساری معیشیت کا پیسہ چلا جاتا ہے۔

سود کی مذمت پر احادیث مبارکہ:
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
ہلاکت میں ڈالنے والے ساتھ (٧) گناہوں سے بچتے رہو۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی
یارسول اللہ ﷺ وہ کونسے گناہ ہیں؟
تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
١- اللہ عزوجل کا شریک ٹھہرانا
٢- جادو کرنا
٣- اللہ عزوجل کی حرام کردہ جان کو ناحق قتل کرنا
٤- سود کھانا
٥- یتیم کا مال کھانا
٦- جنگ کے دن میدان جنگ سے بھاگ جانا
٧- پاک دامن سیدھی سادی شادی شدہ مومن عورتوں پر تہمت لگانا
(صحیح البخاری الحدیث: ٢٧٦٦)

مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے
“سود دینے والے، لینے والے، اس کے کاغذات تیار کرنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ وہ سب گناہ میں برابر ہیں۔”

(مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب لعن آکل الربا ومؤکلہ، ص۸۶۲، الحدیث:۱۰۶(۱۵۹۸))

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ
“اللہ تعالیٰ سود خورکا نہ صدقہ قبول کرے، نہ حج، نہ جہاد، نہ رشتے داروں سے حسنِ سلوک۔”
(تفسیر قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۷۶، ۲ / ۲۷۴، الجزء الثالث)

حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:
’’بے شک سود ستر (70) گناہوں کا مجموعہ ہے ،ان میں سب سے چھوٹا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔”
(ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا، ۳ / ۷۲، الحدیث: ۲۲۷۴)

حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’سود کا گناہ 73درجے ہے ، ان میں سب سے چھوٹا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زناکرے۔
(مستدرک، کتاب البیوع، انّ اربی الربا عرض الرجل المسلم، ۲ / ۳۳۸، الحدیث: ۲۳۰۶)

حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سرورِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:
’’سود کا ایک درہم جو آدمی کو ملتا ہے اس کے36 بار زنا کرنے سے زیادہ بُرا ہے۔
(شعب الایمان، الثامن والثلاثون من شعب الایمان، ۴ / ۳۹۵، الحدیث: ۵۵۲۳)

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا
’’معراج کی رات میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے پیٹ گھروں کی مانند بڑے تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے نظر آ رہے تھے، میں نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا تو انہوں نے عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے تھے۔
(ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا، ۳ / ۷۱، الحدیث:۲۲۷۳)

سود خور قیامت میں ایسے مَخبوطُ الحَواس ہوں گے اور ایسے گرتے پڑتے کھڑے ہوں گے ، جیسے دنیا میں وہ شخص جس پر بھوت سوار ہو کیونکہ سود خور دنیا میں لوگوں کے لئے بھوت بنا ہوا تھا۔

آج کل سودی قرضہ لینے دینے کا ابتدائی انداز تو بڑا مُہَذّب ہوتا ہے۔ اچھے اچھے ناموں سے اور خوش کُن ترغیبات سے دیا جاتا ہے لیکن کچھ ہی عرصے بعد قرض دینے والوں کی خوش اخلاقی، ملنساری اور چہرے کی مسکراہٹ سب رخصت ہوجاتی ہے اور اصل چہرہ بے نقاب ہوجاتا ہے جو گالیاں دے رہا ہوتا ہے، غنڈے بھیج رہا ہوتا ہے، گھر کے باہر کھڑے ہو کر ذلیل و رسوا کررہا ہوتا ہے، دکان، مکان، فیکٹری سب پر قبضہ کرکے فقیر و کنگال اور محتاج و قَلّاش کرکے بے گھر اور بے زر کر رہا ہوتا ہے۔

قرآن میں سود کا بیان:
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر اس شخص کے کھڑے ہونے کی طرح جسے آسیب نے چھو کرپاگل بنادیا ہو۔ یہ سزا اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے کہا: خریدوفروخت بھی تو سود ہی کی طرح ہے حالانکہ اللہ نے خریدوفروخت کو حلال کیا اورسود کو حرام کیا تو جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت آئی پھر وہ باز آ گیا تو اس کیلئے حلال ہے وہ جو پہلے گزرچکا اور اس کامعاملہ اللہ کے سپرد ہے اور جودوبارہ ایسی حرکت کریں گے تو وہ دوزخی ہیں ، وہ اس میں مدتوں رہیں گے۔
(قرآن ٢: ٢٧٥)
اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے، بڑے گنہگار کوپسند نہیں کرتا۔ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
(قرآن ٢: ٢٧٦-٢٧٧)
اے ایمان والو! اگر تم ایمان والے ہو تواللہ سے ڈرو اور جو سودباقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو۔
(قرآن ٢: ٢٧٨)

پھر اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے لڑائی کا یقین کرلو اور اگر تم توبہ کرو تو تمہارے لئے اپنا اصل مال لینا جائز ہے۔ نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ اورنہ تمہیں نقصان ہو۔
(قرآن ٢: ٢٧٩)

اے ایمان والو! دُگنا دَر دُگنا سود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں کامیابی مل جائے۔
(قرآن ٣: ١٣٠)

اور اس لئے (حرام کیں ) کہ وہ سود لیتے حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا اور وہ باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھا جاتے تھے اور ان میں سے کافروں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
(قرآن ٤: ١٦١)
_____________________

سود کی حرمت کا حکم نازل ہوچکا، اس کے بعد بھی جو سودی لین دین جاری رکھے گا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جنگ کا یقین کرلے۔ لیکن آج کل کے نام نہاد مسلمان دانشوروں کا حال یہ ہے کہ وہ توبہ کی بجائے آگے سے خود اللہ تعالیٰ کو اعلانِ جنگ کررہے ہیں اور سود کی اہمیت و ضرورت پر کتابیں ، آرٹیکل، مضامین اور کالم لکھ کر ورق سیاہ کررہے ہیں۔

دو گناہوں پر اعلانِ جنگ دیا گیا:
خیال رہے کہ دو گناہوں پر اعلانِ جنگ دیا گیا ہے۔
(1) سود لینے پر جیسا کہ یہاں آیت میں بیان ہوا۔
(2)اللہ تعالیٰ کے ولی سے عداوت رکھنے پر،

جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا
’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’جو میرے کسی ولی سے عداوت رکھے تو میں نے اس سے جنگ کا اعلان کردیا۔
(بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع،۴ / ۲۴۸، الحدیث: ۶۵۰۲)

{وَ اِنْ تُبْتُمْ: اور اگر تم توبہ کرو۔}
ارشاد فرمایا کہ اگر تم توبہ کرو تو جو تمہارا اصل دیا ہوا قرض ہے وہ لینا تمہارے لئے جائز ہے اور اس کا مطالبہ کرسکتے ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ سود حرام ہونے سے پہلے جو سود لیا گیا وہ حلال تھا، وہ رقم اصلِ قرض سے نہ کٹے گی بلکہ اب پورا قرض لینا جائز ہوگا۔

{لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ: نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ اور نہ تمہیں نقصان ہو۔}
یعنی نہ تو مقروض سے زیادہ لے کر اس پر تم ظلم کرو اور نہ اصل قرضے کی رقم سے محروم ہوکر خود مظلوم بنو۔

ظلم کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے:

یہ آیت اگرچہ سود کے حوالے سے ہے لیکن عمومی زندگی میں بھی شریعت اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ نہ ظلم کیا جائے اور نہ ظلم برداشت کیا جائے یعنی ظلم کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ظلم کو برداشت کرنا ظالم کو مزید جَری کرتا ہے۔ ہاں جہاں عَفْو و درگزر کی صورت بنتی ہو وہاں اسے اختیار کیا جائے۔ شریعت کا قاعدہ ہے
’’ لَا ضَرَرَوَلَا ضِرَارَ‘‘ نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ نقصان برداشت کرو۔
(ابن ماجہ، کتاب الاحکام، باب من بنی فی حقہ ما یضرّ بجارہ، ۳ / ۱۰۶، الحدیث: ۲۳۴۰)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: