دوقبروں میں ہونے والے عذاب کے اسباب :

حضرت سیِّدُناابو بکرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔
ایک آدمی آپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بائیں طرف تھا۔ دریں اثنا ہم نے اپنے سامنے دو قبریں پائیں توآپصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:
’’ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے امر کی وجہ سے نہیں ہو رہا۔‘‘
یہ فرماکر رودیئے، پھر فرمایا:
’’ تم میں سے کون ہے جو مجھے ایک ٹہنی لا دے۔‘‘
ہم نے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو میں سبقت لے گیا اور ایک ٹہنی لے کر حاضرِ خدمت ہوا۔ آپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے دو ٹکڑے کرکے دونوں قبروں پر ایک ایک رکھ دیا پھر ارشاد فرمایا:
’’یہ جب تک تر رہیں گے ان پر عذاب میں کمی رہے گی اور ان دونوں کو غیبت اور پیشاب کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے۔‘‘

المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث أبی بکرۃ، الحدیث:۲۰۳۹۵،ج۷،ص۳۰۴،’’بکی‘‘ بدلہ’’ بلی‘‘۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: