(Zarb-e-Kaleem-010) (مسلمان کا زوال) Musalman Ka Zawal

مسلمان کا زوال

اگرچہ زر بھی جہاں میں ہے قاضی الحاجات
جو فقر سے ہے میسر، تو نگری سے نہیں
قاضي الحاجات: حاجتیں یا ضرورتیں پوری کرنے والا۔

اگر جواں ہوں مری قوم کے جسور و غیور
قلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیں
جسور و غيور: دلیر اور غیرتمند۔

سبب کچھ اور ہے، تو جس کو خود سمجھتا ہے
زوال بندہ مومن کا بے زری سے نہیں
بے زري: دولت کا نہ ہونا۔

اگر جہاں میں مرا جوہر آشکار ہوا
قلندری سے ہوا ہے، تو نگری سے نہیں
آشکار: ظاہر۔
جوہر: صلاحیت۔

از- علامہ محمد اقبال ؒ

Roman Urdu:
Musalman Ka Zawal

Agarcha Zar Bhi Jahan Mein Hai Qazi-Ul-Hajat
Jo Faqar Se Hai Mayassar, Toungari Se Nahin

Agar Jawan Hon Meri Qoum Ke Jasoor-o-Ghayyoor
Qalandari Meri Kuch Kam Sikandari Se Nahin

Sabab Kuch Aur Hai, Tu Jis Ko Khud Samajhta Hai
Zawal Banda-e-Momin Ka Be-Zarri Se Nahi

Agar Jahan Mein Jouhar Aashkara Huwa
Qalandari Se Huwa Hai, Toungari Se Nahin

Dr. Allama Muhammad Iqbal R.A


English Translation:
The Decline of the Muslims

اگرچہ زر بھی جہاں میں ہے قاضی الحاجات
جو فقر سے ہے میسر، تو نگری سے نہیں
قاضي الحاجات: حاجتیں یا ضرورتیں پوری کرنے والا۔
Though wealth and gold provide the worldly needs of man; but what Faqr can bestow, no wealth or gold e’er can.

اگر جواں ہوں مری قوم کے جسور و غیور
قلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیں
جسور و غيور: دلیر اور غیرتمند۔
If youth of nation mine were jealous of their creed; my Qalandar’s state won’t mind Alexander’s might indeed.

سبب کچھ اور ہے، تو جس کو خود سمجھتا ہے
زوال بندہ مومن کا بے زری سے نہیں
بے زري: دولت کا نہ ہونا۔
With ease you can divine to some thing else is due: Penury can not cause decline of Moslems True.

اگر جہاں میں مرا جوہر آشکار ہوا
قلندری سے ہوا ہے، تو نگری سے نہیں
آشکار: ظاہر۔
جوہر: صلاحیت۔
Wealth has played no part to bring my worth to light; my Faqr this spell has cast, the share of wealth is slight.

[Translated by Syed Akbar Ali Shah]


مسلمان کا زوال

نظم کا خلاصہ یہ ہے کہ اقبال کی رائے میں مسلمان کے زوال کا باعث یہ نہیں کہ وہ بے زر ہے. بلکہ یہ ہے کہ اس میں شان فقر نہیں پائی جاتی.

خودی کی طرح اقبال نے فقر کو بھی بڑی اہمیت دی ہے. اور اس کا سبب یہ ہے کہ خودی کی تربیت اور اس کا مرتبہ کمال تک پہنچنا، سب کچھ پر منحصر ہے. اس لیے مختصر طور پر فقر کو بھی سمجھ لینا چاہئے

فقر کے ایک معنی تو مفلسی کے ہیں. مثلاً……………….. قریب ہے کہ مفلسی انسان کو کافر بنادے. یعنی مفلسی انسان کو کفر کے قریب پہنچا دیتی ہے.

فقر کے دوسرے معنیٰ ہیں صرف اللہ پر بھروسہ کرنا اور دنیا سے بے نیاز ہوکر، اپنی تمام حاجات، اللہ کی درگاہ میں پیش کرنا. یہ وہ صورت ہے کہ مرد مومن پہلے دنیا کو فتح کرتا ہے. پھر اللہ کے لیے اس دنیا اور اس کی دلفریبی اور لذت پر لات مارتا ہے. اگرچہ روم اور شام عراق اور ایران اس کے باجگذار ہوتے ہیں. لیکن وہ بودئیے پر سوتا ہے. اور پیوند لگا ہوا کرتا پہنچتا ہے.

(دوسری مثال) سارا عرب اس کے زیرنگیں ہوتا ہے. لیکن ایک ایک مہینہ تک اس کے چولھے میں آگ نہیں جلتی. اور جس کمرے میں وہ (صلی اللہ علیہ وسلم) رہتا ہے، اس میں ایک چارپائی، ایک بوریا اور ایک پانی کے گھڑے کے علاوہ اور کوئی سامان نہیں ہوتا.

چنانچہ ارشاد ہوتا ہے………….. میں اپنی شان فقر پر فخر کرتا ہوں. یا فقر، میرے لیے باعث فخر ہے.

یعنی جس طرح دنیا کے بادشاہ اپنی دولت، فوج اور طاقت پر فخر کرتے ہیں، میں فقر پر فخر کرتا ہوں کہ دنیا میں کسی کا محتاج نہیں ہوں، صرف اللہ کا محتاج ہوں.

فقر، اقبال کی اصطلاح بھی ہے. اور مجھے افسوس ہے. کہ میں اس جگہ اس کی پوری تشریح نہیں کرسکتا. کیونکہ میں نے اس تشریح میں دوسو صفحے کی کتاب انگریزی میں لکھی ہے جو ابھی تک طبع نہیں ہوئی بس دو لفظوں میں اس قدر کہہ سکتا ہوں. کہ فقر کے تیسرے معنی یعنی اقبال معنی روح اسلام کے ہیں، اور یہی وہ جوہر ہے جس کی بدولت خودی مرتبہ کمال تک پہنچتی ہے.

اب اقبال کی زبان سے اس کی تشریح سنو!

اقبال کہتے ہیں کہ

فقر قرآں اختلاط ذکروفکر

فکرراکامل ندیدم جزبہ ذکر

یعنی فقر دو چیزوں کے مجموعہ کا نام ہے ذکر اور فکر

ذکر کے معنی ہیں یاد کرنا، یاد رکھنا، دھیان رکھنا ہر گھڑی مدنظر رکھنا، محبت کرنا، اطاعت کرنا، تعمیل احکام کرنا، فرمانبرداری. اور فکر کے معنی ہیں تدبر کرنا. غور کرنا، تعقل کرنا، تفقہ کرنا، غوروخوض کرنا، استدلال استنباط اور استخراج کرنا ادراک حقائق کرنا، اور جزئیات سے کلیات بنانا.

یہ دو لفظ اس آیت سے ماخوذ ہیں.

……….. صاحبان عقل وہ لوگ ہیں، جو کھڑے

………. بیٹھے اور لیٹے یعنی ہر حالت میں اور

………. ہر وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں، یعنی ہر

……….حال میں اس کی اطاعت کرتے ہیں اور

……… آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غوروفکر

……… کرتے ہیں اور اس غوروفکر کی بناء پر

…….. وہ بے اختیار یہ کہہ اٹھتے ہیں کہ اے

…….. ہمارے رب! تو نے اس کائنات کو بلا

سورۃ آل عمران آیت ا٩ا. مقصد پیدا نہیں کیا ہے.

اقبال کہتے ہیں کہ ایک فقر تو وہ ہے جس کی تلقین دنیا کے اکثر مذاہب کرتے ہیں، یعنی یعنی رہبانیت یا ترک دنیا. لیکن اسلام جس فقر کی تعلیم دیتا ہے. وہ رہبانیت نہیں، بلکہ وہ ذکر اور فکر کے امتزاج کا نام ہے یعنی مومن اللہ ساتھ ساتھ اپنی عقل خدادادے کام لےکر کائنات میں غوروفکر کرتا ہے اور تحقیق سے کام لےکر عناصر پر حکمرانی کرتا ہے یعنی فقر کا مفہوم ہے اللہ کی اطاعت اور کائنات پر حکومت میں نے خودی کی طرح فقر کا مفہوم بھی قدرے وضاحت کے ساتھ لکھ دیا ہے. کیونکہ اقبال کے کلام میں خودی اور فقر یہ دہ اصطلاحیں اکثر استعمال ہوئی ہیں.

یہی وہ فقر ہے جس کی بدولت خودی مرتبہ کمال کو پہنچتی ہے چنانچہ اقبال خود لکھتے ہیں.

چڑھتی ہے جب فقر کی سان پہ تیغ خودی!

ایک سپاہی کی ضرب کرتی ہے کار سپاہ!

اس جگہ ایک نکتہ اور بھی واضح کردوں. ابتداء میں ہم لکھ چکے ہیں کہ خودی ہے تیغ، فساں لاالہ الااللہ

یعنی خودی کو اگر تلوار فرض کیا جائے تو توحید بمنزلہ فساں یعنی سان ہے

یہاں انہوں نے کہا ہے کہ

چڑھتی ہے جب فقر کی سان پہ تیغ خودی

یعنی خودی تیغ ہے، فقر سان ہے.

پس ثابت ہواکہ توحید اور فقر ہم معنی ہیں. کیونکہ خودی کے حق میں دونوں کا اثر یکساں ہے. توحید بھی سان ہے اور فقر بھی.

بات یہ ہے کہ غور سے دیکھو تو جب تک آدمی صحیح معنوں میں موحد نہ ہو، اس میں شان فقر پیدا ہی نہیں ہوسکتی. یعنی دراصل، موحد اور فقیر مرادف الفاظ ہیں. دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں. کہ جب کسی مسلمان میں شان فقر پیدا ہوجاتی ہے، تب وہ موحد کامل بنتا ہے.

اب نظم کا مطلب بیان کرتا ہوں. اور امید ہے کہ بآسانی سمجھ میں آجائے گا.

(١) اگرچہ دولت بھی اس دنیا میں ہماری ضرورتوں کو پورا کرسکتی ہے. لیکن جو عزت اور وجاہت، ایک انسان کو شان فقر سے حاصل ہوسکتی ہے وہ دولت سے حاصل نہیں ہوسکتی.

(٢) اگر مسلمان نوجوان اپنے اندر بہادری اور غیرت کا جذبہ پیدا کرلیں تو قوم مفلسی کے باوجود دنیا میں سکندری یعنی حکمرانی کرسکتی ہے. حکومت کے لیے دراصل دولت اور کثرت افراد درکار نہیں، بلکہ جسارت حوصلہ، بے جگری، اور غیرت دینی درکار ہے. یعنی دین پر مڑمٹنے کا جذبہ.

(٣) اگر دنیا میں مسلمانوں کا زوال ہواتو وہ بے زری سے نہیں ہوا بلکہ اس کا سبب کچھ اور ہے، جس کو تو خود سمجھتا ہے یعنی بے غیرتی

اسی خیال کو اقبال نے یوں بیان کیا ہے:۔

تاکجابے غیرت دیں زیستن

اے مسلمان مردن است ایں زیستن!

(۴) اگر دنیا میں میری عزت ہوئی، یا میرا جوہر نمایاں ہوا، تو یہ شرف مجھے تو نگری سے حاصل نہیں ہوا، کیونکہ دولت میرے پاس ہے ہی نہیں، بلکہ یہ عزت مجھے قلندری سے حاصل ہوئی ہے.

واضح ہوکہ اقبال نے قلندری کو فقر کے معنوں میں استعمال کیا ہے.

(1) موجودہ مسلمانوں کو اجتماعی زندگی دینی بے غیرتی کی بہترین مثال ہے جس کی تشریح بالکل لاحاصل ہے کیونکہ وہ تو اظہر من الشمش ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: