(Zarb-e-Kaleem-012) (اجتہاد) Ijtihaad

 

IJTEHAD (Struggle to find deep answers from Quran and Hadith)

اس نظم میں اقبال نے، ہندی مسلمانوں کے دین اسلام سے شوق اور معلومات کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں طلبِ علم، تحقیق اور غور و فکر کا شوق بالکل نہیں رہا۔ اور ان کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ اپنی زندگی کو قرآن کے مطابق کرنے کی بجائے دین اسلام کو اپنے خیالات کے مطابق کرنے کےلئے قرآن سے دلیلیں تلاش کرتے ہیں۔

_________________________________

ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذت کردار، نہ افکار عمیق

عميق: گہرے۔

There is no place in Ind where from to learn; the tenets that the Muslim Faith concern. They are devoid of zeal for godly acts, and are not wont to seek its basic facts.

حلقہ شوق میں وہ جرات اندیشہ کہاں
آہ محکومی و تقلید و زوال تحقیق!

تقليد: پیروی۔
جرات انديشہ: سوچنے کی طاقت۔
زوال تحقيق: تحقیق کا نہ ہونا۔

The mystics, who were keen their Faith to spread, are silent now and thought for them a dread. Alas! The state of bondage deprives of zest, slaves tread the beaten path and relinquish quest.

خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق!

فقيہان حرم: مسلمان علماء۔

The jurists are helpless to such extent can’t change themselves, but would change Koran’s content. How sad, the jurists can’t shift their outlook, but would prefer to change the Holy Book.

ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق!

These abject slaves opine and cling to creed that Holy Book is full of flaws indeed. They think it incomplete for this fact because it fails to teach the slavish tact.

________________________________

1. ہندوستان میں مسلمان جو دینی علوم پڑھتے ہیں وہ صرف درسی کتابوں کے مطالعہ کو کافی سمجھتے ہیں۔ دین اسلام میں جو حکمت ہے، شریعت میں جو نکات اور اسرار مخفی ہیں، ان کی تحقیق کا کسی میں ذوق نہیں ہے۔ نہ کہیں عمل کی طرف اور رغبت نظر آتی ہے۔ نہ علماء میں غور و فکر کا مادہ دکھائی دیتا ہے۔

2. اب رہے صوفی تو ان میں بھی جرآت غوروخوص نہیں ہے۔ افسوس یہ سب غلامی اور کورانہ تقلید اور ذوق تخقیق کے کے زوال کا نتیجہ ہے۔

3. اور جو لوگ علم دین پڑھتے ہیں اُن کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو تو دین کے سانچے میں ڈالتے نہیں بلکہ دین کو اپنے خیالات کے تابع بناتے رہتے ہیں۔

4. غلامی میں ان کی فطرت عزت اس درجہ نہ مسخ کر دی ہے کہ کتاب اللہ سے کفار کی غلامی کے جواز کی دلیلیں تلاش کرتے ہیں گویا ان کے اس طرز عمل سے یہ معلوم ہوتا ہے ہے کہ ان کی رائے میں میں کتاب اللہ ناقص ہے کیونکہ وہ مومنوں کو غیر اللہ ( حکمران یا غیر شریک نظام) کی غلامی کا طریقہ نہیں سکھاتی۔

اس شعر میں ان دنیا پرست علماؤں کی طرف اشارہ ہے ہیں جنہوں نے انگریزوں اور دوسرے کافروں کی غیرشرعی حکومت کو اپنی ناقص عقل سے اجتہاد کرکے قرآن اور حدیث کی رو سے مسلمانوں کے لیے رحمت قرار دیا۔ اور مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا کہ ان دشمنانِ دین کی کی حمایت کریں۔

____________

1. Hind Mein Hikmat-e-Deen Koi Kahan Se Sikhe
Na Kahin Lazzat-e-Kirdar, Na Afkar-e-Aumeeq

2. Halqa-e-Shouk Mein Woh Jurrat-e-Andesha Kahan
Aah Mehkoomi-o-Taqleed-o-Zawal-e-Tehqeeq !

3. Khud Badalte Nahin, Quran Ko Badal Dete Hain
Huwe Kis Darja Faqeehan-e-Haram Be-Toufeeq !

4. In Ghulamon Ka Ye Maslak Hai Ke Naqis Hai Kitab
Ke Sikhati Nahin Momin Ko Ghulami Ke Tareeq!

_____
Dr. Allama Muhammad Iqbal R.A

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: