(Zarb-e-kaleem-005) LA ILAHA ILLALLAH (لا الہٰ الا اللہ) No god Except One ALLAH

لا الہ الا اللہ خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ  خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا اللہ سر نہاں: چھپا ہوا بھید۔  فساں:تلوار کی دھار تیز کرنے والا آلہ۔ یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے  صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الا اللہ براہيم: ابراہیم (علیہ) جنہوں نے اپنے وقت کے بادشاہ کا بتخانہ تباہ کیا تھا۔  کدہ: بت خانہ۔ صنم کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا  فریب سود و زیاں، لا الہ الا اللہ متاع غرور: غرور کی دولت، مراد ہے دنیا کی دولت۔  سود و زياں: نفع اور نقصان۔ یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند  بتان وہم و گماں، لا الہ الا اللہ رشتہ و پيوند: عزیز داریوں اور تعلقات کے رشتے۔ خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری  نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الہ الا اللہ زمان و مکاں: وقت اور جگہ، مراد ہے دنیا۔  زناري: برہمنوں کا وہ دھاگہ پہننا جس کو جنیو کہتے ہیں، یعنی کافر ہو جانا۔ یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند  بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں  مجھے ہے حکم اذاں، لا الہ الا اللہ

علامہ محمد اقبال ؒ کی عدیم المثال نظم “لا الہ الا اللہ” کتاب ضرب کلیم سے مختصر تشریح کے ساتھ۔

تعارف:

اس نظم میں علامہ اقبال نے انسان کو خود کی پہچان کرنے اور تزکیہ نفس کرنے کا راز توحید (ایک اللہ کے احکامات کی پیروی) بتایا ہے۔ اور بندے مومن کا مقصد حیات اور طرز حیات کو بیان کیا ہے کہ کس طرح ایک مسلمان کا اللہ کے سوا نہ کوئی معبود ہے، نہ مقصود، نہ مطلوب، نہ مسجود اور نہ ہی کوئی معشوق ہوتا ہے۔ اور کس طرح بندہ مومن نفع و نقصان کی پرواہ کیے بغیر اللہ کے احکامات کی پیروی کیے جاتا ہے۔ اور کس طرح بندہ مومن بتوں و خواہشات کے پجاریوں کی موجودگی میں توحید و رسالت کا پیغام لوگوں کو سناتا چلا جاتا ہے۔


خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ

خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا اللہ

خود کی مخفی صلاحیتوں کو جاننے کا راز یا خود کی اصلاح یا تزکیہ نفس کا راز اس بات توحید میں ہے کہ تمام غیر خداوں کی نفی کرکے صرف ایک حقیقی اللہ کے احکامات کی پیروی کی جائے۔

جیسے تلوار کو فساں پر چڑھا کر اس کی دھار تیز کی جاتی ہے اور اسے صحیح معنوں میں تلوار بنایا جاتا ہے۔ ایسے ہی خود کی صلاحیتوں کو صرف ایک خدا کے احکامات کی پیروی کرکے مرتبہ کمال پر پہنچایا جا سکتا ہے۔
خودی کو اگر تیغ (تلوار) سے اور توحید کو فساں ( سان: اوزار تیز کرنے والا پتھر) سے تشبیہ دی جائے تو جب تک تلوار میں دھار نہ ہو وہ کاٹ نہیں سکتی، تلوار بیکار ہے۔ اس لیے توحید خودی ( تزکیہ نفس) کے لئے فساں ہے۔ جس طرح سان پر چڑھانے سے تلوار صحیح معنی میں تیز دھار دار تلوار بنتی ہے۔ اسی طرح جب مسلمان حقیقی معنوں میں موحّد (صِرف ایک رَب پر یقین رکھتے ہوئے اس کے احکامات کی پیروی کرتا) ہے، تو اس کی خودی اپنے مرتبہ کمال کو پہچان جاتی ہے۔

_____________

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الا اللہ

فرماتے ہیں کہ جس طرح ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں نمرود نے خدائی کا دعوی کیا تھا اور اللہ کے بندوں کو بتوں اور اپنی پرستش پر مجبور کیا تھا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کا اور بتوں کا خاتمہ کیا تھا۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں کئی نمرود پیدا ہوگئے ہیں جو اللہ کے بندو کو اپنے غیرشرعی احکامات کی اطاعت کرنے کو کہتے اور مجبور کرتے ہیں۔ اس لیے موجودہ زمانہ میں بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ اللہ کا کوئی ایسا بندہ پیدا ہو جو عصر حاضر (موجودہ زمانے) کی حکومتوں کے تمام غیر شرعی نظاموں کو پاش پاش کر دے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ یہ دنیا تو صنم کدو (غیر خدا) ہے۔ اور پرستش اور اطاعت کے لائق صرف اللہ کی ذات ہے تو بندہ مومن کو صرف اسی کے احکامات کی پیروی کرنی چاہیے جو اللہ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانوں کی رہنمائی کے لئے دے کر بھیجے۔

______________

کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سود و زیاں ، لا الہ الا اللہ

اے انسان تو نے اس دنیائے فانی سے دل لگا لیا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر میں نے سچ بولا تو حکومت ناراض ہو جائے گی اور مالی نقصان ہو جائے گا اور اگر میں خدا کی بجائے ارباب اقتدار کے احکامات کی اطاعت کروں گا تو مجھے دولت اور عزت نصیب ہوگی۔ یہ سب خیالات بالکل غلط ہیں تو غلط طور پر نفع اور نقصان کے فریب میں مبتلا ہوگیا ہے۔ ارے نادان نہ اس دنیا کی کوئی اصلیت ہے اور نہ اس کا سود و زیاں ( نفع و نقصان) کوئی حقیقت رکھتا ہے یہ سب فانی چیزیں ہیں کیونکہ بندہ مومن کیلئے اللہ کے سوا نہ کوئی معبود ہے، نہ مقصود، نہ مطلوب، نہ مسجود اور نہ ہی کوئی معشوق ہوتا ہے۔ توحید کے ماننے والا صرف اللہ ہی کی عبادت اور صرف اس کے احکامات کی اطاعت کرتا ہے اور اسی کی رضا کو اپنا مقصد اور اسی سے اپنی ساری حاجتیں رکھتا ہے۔

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۲۰)

اور دنیاکی زندگی تو صرف دھوکے کاسامان ہے۔

(قرآن 57:20)

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۱۸۵)

اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔

(قرآن 3:185)

______________

یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم و گماں، لا الہ الا اللہ

اے مخاطب دنیا کی خوبصورت نظر آنے والی چیزیں، مثلاً مال و دولت، بیوی بچے، رشتے دار اور مادی سامانِ آرائش، جن کے لئے تو نے اللہ اور اسکے احکام سے روگردانی کرتا ہے یہ سب بے حقیقت اور فانی چیزیں ہیں یہ سب تیرے وہم اور گمان کے تراشے ہوئے بت ہیں حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا مسلم کانا کوئی معبود ہو سکتا ہے نام مطلوب مقصود وہی اس لائق ہے کہ اس کی محبت کی جائے اور وہی اس لائق ہے کہ اسے مقصد زندگی بنایا جائے۔

______________

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الہ الا اللہ

دنیا کے عقلاء اور حکماء مدتوں سے اس مسئلے میں الجھے ہوئے ہیں کہ زمان و مکان ( time and space) کی حقیقت کیا ہے یہ خارج میں موجود ہے یا نہیں اس بحث میں عقلاء اس قدر کھو گئے ہوئے کہ خدا کی بجائے زمان و مکان کے تصوّرات کی پرستش کرنے لگے۔

پس ایک مسلمان کو معلوم ہونا چاہئے کہ دراصل نہ زمانہ کا وجود ہے نہ مکان کا وجود ہے دراصل ایک ہی ذات ہے جس کا وجود حقیقی ہے اور وہ اللہ ہے اللہ نہ ہوتا تو یہ کائنات ہی نہ ہوتی۔

____________

یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ

بندہ مومن کلمہ طیبہ صرف خوشحال وقت میں پڑھنے کا پابند نہیں بلکہ خوشی ہو یا غم دونوں صورتوں میں وہ کلمہ حق بلند کرتا ہے۔

______________

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں، لا الہ الا اللہ

اگرچہ مسلمانوں کے دل و دماغ میں مختلف اقسام کے بت پوشیدہ ہیں اور وہ توحید کی حقیقت سے بیگانہ ہوچکے ہیں لیکن میں تو برہان اسلام کا پیغام دنیا کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً سناؤں گا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود یا حاکم نہیں جس کی پیروی کی جائے۔

(علامہ محمد اقبال ؒ: ضربِ کلیم – لا الہ الا اللہ)


توجہ: ایمان کی بنیاد محبت الہی ہے اور اللہ سے محبت کرنے کی صورت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی جائے۔ عشق رسول کے بغیر اتباع رسول ناممکن ہے اور اتباع رسول ﷺ کے بغیر خودی مرتبہ کمال تک نہیں پہنچ سکتی اور جب تک خودی مرتبہ کمال کو نہ پہنچے انسان اپنا مقصد حیات حاصل نہیں کرسکتا۔ ایک مسلمان کا طرز حیات جتنا زیادہ رسول اکرم ﷺ کی سنت کے مطابق ہوتا چلا جاتا ہے اتنا ہی زیادہ وہ اپنی خودی کی منازل طے کرتا چلا جاتا ہے اور اپنے مرتبہ کمال ( اشرف المخلوقات) کو حاصل کر لیتا ہے۔
اقبال کا یہ فلسفہ قرآن کریم کی ان آیات شریفہ سے ماخذ ہے۔
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ
(اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا۔) (قرآن 3:31)

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔
بیشک تمہارے لئےاللہ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ (قرآن 33:21)

یہی وجہ ہے کہ اقبال نے عشق کے رسول ﷺ پر اپنا سارا زور کلام صرف کردیا ہے۔


LA ILAHA ILLALLAH

Khudi Ka Sirr-e-Nihan La Ilaha Illallah
Khudi Hai Taeg, Fasan La Ilaha Illallah

Ye Dour Apne Baraheem Ki Talash Mein Hai
Sanam Kudah Hai Jahan, La Ilaha Illallah

Kiya Hai Tu Ne Mataa-e-Ghuroor Ka Soda
Faraib Sood-o-Zayan, La Ilaha Illallah
Ye Maal-o-Doulat-e-Dunya, Ye Rishta-o-Pewand

Butan-e-Weham-o-Guman, La Ilaha Illallah
Khird Huwi Hai Zaman-o-Makan Ki Zunnari
Na Hai Zaman Na Makan, La Ilaha Illallah

Ye Naghma Fasl-e-Gul-o-Lala Ka Nahin Paband
Bahar Ho Ke Khazan, La Ilaha Illallah

Agarche But Hain Jamat Ki Astinon Mein
Mujhe Hai Hukm-e-Azan, La Ilaha Illallah


No god Except One ALLAH

The secret of the Self is hid, in words ‘No god but He alone’. The Self is just a dull-edged sword, ‘No god but He’; the grinding stone.

An Abraham by the age is sought to break the idols of this Hall: The avowal of God’s Oneness can make all these idols headlong fall.

A bargain you have struck for goods of life, a step that smacks conceit; all save the Call ‘No god but He’ is merely fraught with fraud and deceit.

The worldly wealth and riches too, ties of blood and friends a dream the idols wrought by doubts untrue, all save God’s Oneness empty seem.

The mind has worn the holy thread of Time and Space like pagans all though Time and Space both illusive. ‘No god but He’ is true withal.

These melodious songs are not confined to Time when rose and tulip bloom, whatever the season of year be ‘No god but He’ must ring till doom.

Many idols are still concealed’ in their sleeves by the Faithful fold, I am ordained by Mighty God to raise the call and be much bold.
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)

(Zarb-e-Kaleem-005) LA ILAHA ILLALLAH (لا الہٰ الا اللہ) NO GOD BUT ALLAH

Allama Iqbal Poetry/Shayari in Urdu, Roman Urdu & English Translations

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: