(Zarb-e-Kaleem-004) – Suba (صبح) Morning

صبح

یہ سحر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز

نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا

وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود

ہوتی ہے بندہ مومن کی اذاں سے پیدا

سحر: صبح کا آغاز ہونا، فردا: کل، امروز: آج، شبستان وجود: انسانی جسم کا یا کائنات کا سیاہ خانہ۔

از- (علامہ محمد اقبال ؒ ضرب کلیم- صبح)


نظم کا تعارف:

اس نظم میں علامہ اقبال نے اسلام کی روشنی (پیغام) کا آغاز یا کفر کے اندھیروں کے خاتمے کا آغاز کس وقت شروع ہوتاہے اس کے بارے میں بتایا ہے۔ ہر چیز کا آغاز کسی نہ کسی کسی وقت شروع ہوتا ہے جیسے صبح کا آغاز سورج کے طلوع ہونے سے ہوتا ہے ایسے ہی کفر کے اندھیروں کا خاتمہ بندہ مومن کی اذان سے شروع ہوتا ہے۔ اسی لیے آپ نے اپنی کتاب ‘ظربِ کلیم’ کا آغاز نظم ‘صبح’ سے شروع کیا ہے۔


شعر ١:

یہ سحر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز

نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا (یہ سحر (صبح) جس سے ہم کل اور آج کا شمار کرتے ہیں معلوم نہیں کہ اس کا آغاز کہاں ہوتا ہے۔)

شعر ٢: وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود

ہوتی ہے بندہ مومن کی اذاں سے پیدا (وہ سحر (روش آغاز) جس سے کائنات کا کفر کامپ اُٹھتا ہے (اندھیرے ختم ہو جاتے ہیں) وہ بندہ مومن کی اذان سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی مومن کے نعرہ تکبیر “اللہ اکبر” میں ایسی تاثیر ہے کہ ساری کائنات کا کفر لزم بر اندام ہو جاتا ہے۔


دوسرا ترجمہ: وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود ہوتی ہے بندہ مومن کی اذاں سے پیدا (وہ کلام اللہ (قرآن) جیسے سن کر کفار (اللہ کی آیتوں کے منکر) ڈر جاتے تھے اور ایمان لانے کی بجائے کہتے یہ تو سراسر سحر (جادو) ہے وہ بندہ مومن کے نعرہ تکبیر اللہ اکبر سے شروع ہوتا ہیں۔)


اسلامی تاریخ میں بندہ مومن کی اذان سے ایسی سحر کے پیدا ہونے کی بہت سی مثالیں موجود ہیں میں صرف ایک سحر کا حل درج کرتا ہوں جولائی 711ء کو جب طلوع آفتاب سے پہلے مسلمانوں نے سرزمین اندلس میں فجر کی اذان دی اور جنگ سے پہلے اپنے سپاسلار طارق کی امامت میں نماز ادا کی تو وہ سحر پیدا ہوئی جس سے اسپین کی سر زمین لرزہ براندم ہوگی۔


Roman Urdu: Ye Sehar Jo Kabhi Farda Hai Kabhi Hai Amroz Nahin Maloom Ke Hoti Hai Kahan Se Paida Woh Sehar Jis Se Larazta Hai Shabistan-e-Wujood Hoti Hai Banda-e-Momin Ki Azan Se Paida
English Translation: This dawn, which is somethings looks yesterday and sometimes today, Don’t know that from where it has been born (Start). That dawn (Magic)* by which dark abode of being is trembling, Is born by the Azan (Call to Prayer) of the Muslim. There are two meanings of Shahar: In Urdu it’s means Start of the day (Dawn) In Arabic it’s means the magic. It is mentioned in the Quran that when the Prophets of Allah (God) recites the holy verses in front of people….
(Zarb-e-Kaleem-004) (Islam Aur Musalman) SubaAllama Iqbal Poetry / Shayari in Urdu, Roman Urdu & English Translations.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: