HizbAllah wa Hizb alshayatin

HizbAllah (حزب اللہ) Party of Allah

Hizbuashshaytani (حزب الشياطين) Party of devils

قرآن میں صرف دو گروہوں کا بیان ہے ایک حزب اللہ اور دوسرا حزب الشیاطین۔

وَمَن يَتَوَلَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فَإِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡغَٰلِبُونَ

Waman yatawalla Allaha warasoolahu wallatheenaamanoo fa-inna hizba Allahi humu alghaliboon
اور جو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو اپنا دوست بنائے تو بیشک اللہ ہی کا گروہ غالب ہے۔(قرآن 5:56)

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِؕ-اُولٰٓىٕكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِؕ-اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۱۹)

Istahwatha AAalayhimu ashshaytanufaansahum thikra Allahi ola-ika hizbuashshaytani ala inna hizba ashshaytanihumu alkhasiroon

ان پر شیطان غالب آگیا تو اس نے انہیں اللہ کی یاد بھلا دی، وہ شیطان کا گروہ ہیں ،سن لو! بیشک شیطان کا گروہ ہی خسارہ پانے والا ہے۔

(قرآن 58:19)

اللہ کی جماعت کے لوگ، رنگ، نسل، ذات، زبان یا وطن کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف ایک مشترکہ عقیدے (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) کی بنیاد پر ایک اُمت یا قوم کہلاتے ہیں یہ لوگ صرف اللہ کی شریعت کے پابند ہوتے ہیں۔

اُمت مسلم میں کالا ہو یا گورا، عربی ہو یا عجمی، آرائی ہو یا مغل، ہندی بولنے والا ہو یا پنجابی، افغانی ہو یا ایرانی، امیر ہو یا غریب، مہاجر ہوں یا انصار سب کے سب ایک برابر مسلمان کہلائیں گے کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہوتی۔ ان سب کے لئے اللہ کا ایک جیسا عدل کا نظام ہوتا ہے۔

چونکہ اللہ تمام انسانوں کا خالق ہے اور اس کے دین اسلام کا پیغام بھی سب کے لیے ہیں جو اس پر ایمان لے آئے اور اس کی شریعت کو خود پر نافذ کر لے وہ اللہ کے گوروں میں صالحین میں شامل ہو جاتا ہے۔ جس خطے پر بھی اللہ کا دین نافذ کر دیا جائے وہاں کے رہنے والے اس پر ایمان لانے والے مسلمان ہو یا اس کے منکر کافر ہو سب کو عدل و انصاف ایک جیسا مہیا کیا جاتا ہے۔

لگ بھگ ایک ہزار سال تک اسلامی ریاست میں تمام مسلمان خلیفہ نے قرآن و سنت کے عدل کے نظام کو نافذ کیے رکھا۔ مسلمانوں کے ساتھ تمام کفار کے گروہ عیسائی، یہودی، ہندو امن کے ساتھ رہتے رہے کیونکہ اسلامی قانون سب کی جان، مال، عزت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

لیکن جب مسلمان حکمران قرآن کی تعلیمات کو چھوڑ کر عیش و عشرت کی زندگی گزارنے لگے اور عوام پر ظلم کرنے لگے تو عوام کا حکمرانوں سے اعتماد اٹھ گیا کیا اور عوام میں بھی طاقتور شخص کمزور پر ظلم کرنے لگے۔ جھوٹ دو کا فریبی اور وعدہ خلافی جیسے گناہ مسلم امت میں بڑھتے گئے۔ حتیٰ کہ قرآن سے دوری کی وجہ سے مسلمانوں میں شیاطین جیسی سوچ پھیرنے لگی اور مسلمان ذات پات، رنگ، نسل، زبان کی بنیاد پر چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ گئی جو کہ اسلامی تعلیمات کے بر عکس ہے۔ کفار نے اسی چیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے گروہوں کو آپس میں لڑوا دیا اور ان پر مسلط ہوگئے۔ اور اسلامی شریعت کا نفاذ ختم کردیااور انسانی بنائے ہوئے قوانین نافذ کر دیئے جس میں امیر شخص کو تو فائدہ حاصل ہے لیکن کمزور غریب کو نہیں۔ کفار تو اس نظام میں میں غلامی کر سکتے ہیں لیکن مسلمان کے لیے یہ غلامی کسی کفر سے کم نہیں تھی۔ کہ ایک مسلمان اللہ کی شریعت کے ساتھ ایک غیر اللہ کی شریعت کی بھی پیروی کر کے شرک کا مرتکب ہو ایسی غلامی کی زندگی جینے سے مسلمان مر جانا بہتر سمجھتے۔

علامہ اقبال نے اس غلامی سے آزادی کے لئے تمام مسلمانوں کے گروہوں کو پہلے دو قومی نظریہ سمجھایا اور ان میں مشترکہ عقائد کی بنیاد پر اتحاد پیدا کروایا اور انہیں ایک آزاد اسلامی ریاست کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرنے کو کہا اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے لئے قائداعظم محمد علی جناح کو تمام مسلمانوں نے اپنا رہنما منتخب کیا۔ مختلف زبان، رنگ، ذات و مسلک کے تمام مسلمانوں کے گروہوں نے ایک نظریے کی بنیاد پر اکٹھے ہو کر جدوجہد کی تب جا کر ایک قوم بنی اور آزادی حاصل ہوئی۔

قوم اپنے عقائد کی بنیاد پر بنتی ہیں۔

قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں

(از- علامہ اقبال: جواب شکوہ)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: