(Zarb-e-Kaleem-006) Tan Ba Taqdeer (تن بہ تقدیر) Submission To Fate

تن بہ تقدیر

اسی قرآں میں ہے اب ترک جہاں کی تعلیم
جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر

‘تن بہ تقدیر’ ہے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر

تھا جو ‘ناخوب، بتدریج وہی ‘ خوب’ ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

(علامہ محمد اقبال ؒ ضرب کلیم – تن بہ تقدیر)


مہ و پرويں: چاند اور تارے۔

تن بہ تقدير: تقدیر کے غلط مفہوم پر یقین کر کے کچھ نہ کر نا اور اس انتظار میں بیٹھے رہنا کہ جو کچھ ہونا ہو گا ہو جائے گا۔

ضمير: فطرت، سیرت، مزاج، دستور، قاعدہ


نظم کا تعارف:

اس نظم میں علامہ اقبال نے مسلمانوں میں منفی تبدیلی و زوال کے آجانے کا باعث خواہشات کی غلامی بتایا ہے جن کی وجہ سے ان کا ضمیر مردہ ہو گیا ہے اور انہوں نے قرآن و حدیث سے ترک جہان اور تقدیر کا غلط مفہوم لے کر محنت اور جدوجہد کا تصور ہی ختم کردیا ہے اور ان کے مزاج میں تن آسانی، سستی و کاہلی اور بزدلی آگئی ہے۔


اسی قرآں میں ہے اب ترک جہاں کی تعلیم
جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر

اس دور کے مسلمان غیر اسلامی تصوف اور فلسفے کے زیر سایہ آ کر اپنی ضروریات کے لئے دنیاوی مال کو حاصل نہ کرنے اور اپنی زمینوں کی حفاظت کرنے کی بجائے انہیں ترک کرنے (چھوڑ دینے) کی تعلیم دیتے ہیں۔ کبھی وہ بھی وقت تھا کہ مسلمان قرآن و سنت کی پیروی کرتے ہوئے محنت و جدوجہد سے دنیا جہان کے حکمران بن گئے۔

‘تن بہ تقدیر’ ہے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر

آج کا مسلمان محنت و جدوجہد کیے بغیر خود کو تقدیر کے حوالے کر کے یہ سوچ کر بیٹھ گیا ہے کہ جو نصیب میں ہوگا وہ مل جائے گا۔ اور کبھی وہ مسلمان بھی ہوتے تھے جو خدا کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے مسلسل محنت و جدوجہد کرتے اور ان کے نصیب (تقدیر) میں دنیا جہان کی نعمتیں آ جاتی تھی۔

تھا جو ‘ناخوب، بتدریج وہی ‘ خوب’ ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

آج کے خواہشوں کے غلام مسلمانوں کو جو چیزیں حرام و بری تھی وہ حلال و اچھی لگنے لگی ہیں مثلا سود، رشوت، غرور تکبر، حسد، سستی و کاہلی۔ کیونکہ اب مسلمان قوم کا خواہشات کی پیروی (غلامی) کرنے کے باعث ضمیر مردا (دل کالے) ہوگئے ہیں۔


شعر 1: اسی قرآں میں ہے اب ترک جہاں کی تعلیم
جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر

قرآن مجید نے مسلمانوں کو ایمان کے ساتھ عمل صالح، مسلسل جدوجہد اور جہاد کا حکم دیا ہے۔ چناچہ اس تعلیم پر عمل کی بدولت اللہ تعالی مسلمانوں کو دنیا پر خلافت (حکومت) عطا کی۔ لیکن جب بعد میں آنے والے مسلمانوں نے قرآن کی پیروی کرنا چھوڑ دیا یعنی اپنی سستی و کاہلی کے باعث قرآن سے تقدیر کا غلط مفہوم لے کر جدوجہد چھوڑ کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ گئے اس سوچ کے ساتھ کہ جو نصیب میں لکھا ہے وہ خود بخود مل جائے گا تو ان کے ہاتھوں سے خلافت ہی نہیں بلکہ دنیا جہان کی نعمتیں بھی چھین لی گئی۔

اللہ تعالی نے لوح محفوظ پر اپنی قدرت و علم کے اظہار کے لئے وہ سب لکھ دیا جو انسان کرنے والا تھا اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جو اللہ نے لکھ دیا انسان اسی کو کرنے کا پابند ہو گیا ورنہ ایسے غلط عقیدے کے مطابق تو انسان ہر غلط عمل کی ذمےداری سے آزاد ہے۔

۝
وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ

”تمہیں ویسا ہی بدلا دیا جائے گا جیسے عمل (کوشش) تم کرتے رہے ہو۔“ (القران 36:54)

۝
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪

”اللہ نے تم میں سے ایمان والوں اور اچھے اعمال (کوشش) کرنے والوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ ضرورضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا جیسی ان سے پہلوں کوخلافت دی ہے۔“ (القران 24:55)

۝
وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ(۲۰۱)اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْاؕ-وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ(۲۰۲)

”اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا۔ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے۔“ (القران 2: 201-202)

۝
فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠(۱۴۸)

”تو اللہ نے انہیں دنیا کا انعام دیا اور آخرت کے ثواب کی خوبی اور نیکی والے اللہ کو پیارے ہیں۔“ (القران 3:148)

۝
وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَؕ

”اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ اور آخرت میں بیشک ہم تیری طرف رجوع لائے۔“ (القران 7:156)

۝
وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا

”اور جو مال تجھے الله نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول“

(القران 28:77)

غیر اسلامی تصوف اور فلسفہ کے زیراثر آکر مسلمانوں نے قرآنی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا۔ اور ترک دنیا کا غلط اصول اختیار کرلیا اور یہ سمجھ لیا کہ اسلام ترک دنیا کا حکم دیتا ہے تو انہوں نے عمل کرنا چھوڑ دیا یہ غلط سوچ کر کہ جو نصیب میں لکھ دیا گیا ہے وہی ملے گا حالانکہ تقدیر میں وہ لکھا گیا تھا جو انسان عمل کرنے والا تھا۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ پہلے دنیا کو فتح کرو تاکہ اسلامی عدل و انصاف کا نظام قائم ہو سکے پھر دنیا کی نعمتوں میں سے ضرورت کے مطابق حلال طریقے سے حاصل کر لو باقی دوسروں کے لئے چھوڑ دو لالچ مت کرو۔ بلکہ اپنی حلال کمائی میں سے بھی اللہ کی خوشنودی کے لئے زکوۃ و صدقات غریبوں کو دو۔ چناچہ فاروق اعظم کی سطوت کے سامنے قیصر و کسریٰ لرزہ براندم تھے لیکن وہ پیوند لگی ہوئی قمیض پہنتے تھے اور چٹائی پر سوتے تھے۔

شعرء 2: ‘تن بہ تقدیر’ ہے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر

ایک زمانہ تھا جب مسلمان اللہ کے لئے زندگی بسر کرتے تھے اور اس کا صلہ انہیں خدا نے یہ دیا تھا کہ ان کے ارادوں میں مشیت ایزدی ( اللہ کی مرضی) پوشیدہ تھی یعنی وہ جس طرف نکل جاتے تھے تائید ایزدی ( اللہ کی مدد) ان کے ساتھ ہوتی تھی۔ لیکن جب مسلمانوں نے احکام الہی سے روگردانی کر لی تو اللہ نے بھی ان کو بُھلا دیا۔ اور آج ان کی حالت یہ ہے کہاں ملے صالحہ سے کنارہ کر کے تقدیر پر بھروسہ کیے بیٹھے ہیں حالانکہ خدا کی تقدیر یعنی اس کا قانون یہ ہے کہ “انسان کو اللہ وہی عطا کرتا ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔” اقبال کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں نے تقدیر کا غلط مفہوم لیا ہے۔

شعرء 3: تھا جو ‘ناخوب، بتدریج وہی ‘ خوب’ ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

اب وہ اس انقلاب کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا یعنی بے عملی جو بہت بری بات تھی وہ اچھی کیسے ہوگی اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ غلامی ایسی لعنت ہے کہ اس میں قوموں کا ضمیر بدل جاتا ہے یعنی جب کوئی قوم اپنی بداعمالیوں کی بدولت غلام بن جاتی ہے تو اس کا معیار خیر و شر بھی بدل جاتا ہے اچھی بات کو بری اور بری باتوں کو اچھا سمجھنے لگتی ہے۔ مسلمانوں کو دیکھ لو جہالت رسوم پرستی، تقلید کور، اسراف، تن آسانی، عیاشی یہ سب بری باتیں ہیں لیکن مسلمان ان کو اچھا سمجھتے ہیں۔ علم، محنت، ایثار ، اتحاد، کفایت، شعاری اور ایمانداری یہ سب اچھی باتیں ہیں لیکن مسلمان ان سب باتوں سے دور بھاگتے ہیں۔


Tan Ba Taqdeer

Issi Quran Mein Hai Ab Tark-e-Jahan Ki Taleem
Jis Ne Momin Ko Banaya Meh-o-Parveen Ka Ameer

‘Tan Ba Taqdeer’ Hai Aaj Un Ke Amal Ka Andaz
Thi Nihan Jin Ke Iradon Mein Khuda Ki Taqdeer

Tha Jo ‘Na-Khoob’ Batadreej Wohi ‘Khoob’ Huwa
Ke Ghulami Mein Badal Jata Hai Qoumon Ka Zameer


SUBMISSION TO FATE
The Koranic teaching that did bring the Moon and Pleiades within human: Is now explained in manner strange, ‘Twixt man and world to cause a breach.
Their mode of work has changed entire, before the freaks of Fate they bow: They had a say in what God decreed, but Muslims have now fallen low.
What was so evil has by steps put on the shape of good and fine: In state of bondage, as is known, the shift of conscience is quite sure.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]


Allama Iqbal Poetry/Shayari in Urdu, Roman Urdu & English Translations.

(Zarb-e-Kaleem-006) Tan Ba Taqdeer (تن بہ تقدیر) Submission To Fate

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close