(Zarb-e-Kaleem-008) Aik Falsafa-zada Syed Zadde Ke Naam (ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام) ADMONITION TO A PHILOSOPHY STRICKEN SAYYAD

ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام

تو اپنی خودی اگر نہ کھوتا
زناری برگساں نہ ہوتا
زناري: بت پرست۔
برگساں: فرانس کا نامور فلسفی۔

ہیگل کا صدف گہر سے خالی
ہے اس کا طلسم سب خیالی

جرمنی کا نامور فلسفی۔

محکم کیسے ہو زندگانی
کس طرح خودی ہو لازمانی!
لازماني: لا زوال۔

آدم کو ثبات کی طلب ہے
دستور حیات کی طلب ہے

دنیا کی عشا ہو جس سے اشراق
مومن کی اذاں ندائے آفاق
اشراق: صبح سورج نکلنے کے بعد جب سورج پوری طرح سے بلند ہو جائے۔

میں اصل کا خاص سومناتی
آبا مرے لاتی و مناتی
لاتي و مناتي: مراد ہے بت پرست۔

تو سید ہاشمی کی اولاد
میری کف خاک برہمن زاد

ہے فلسفہ میرے آب و گل میں
پوشیدہ ہے ریشہ ہائے دل میں

اقبال اگرچہ بے ہنر ہے
اس کی رگ رگ سے باخبر ہے

شعلہ ہے ترے جنوں کا بے سوز
سن مجھ سے یہ نکتہ دل افروز
دل افروز: دل کو روشن کرنے والا۔

انجام خرد ہے بے حضوری
ہے فلسفہ زندگی سے دوری

افکار کے نغمہ ہائے بے صوت
ہیں ذوق عمل کے واسطے موت
بے صوت: آواز کے بغیر۔

دیں مسلک زندگی کی تقویم
دیں سر محمد و براہیم
تقويم: مظبوتی۔

”دل در سخن محمدی بند
اے پور علی ز بو علی چند!
تمام سہارے چھوڑ کر دل کو محمد (صلعم) کے ارشادات سے وابستہ کر دینا چاہیے، اے علی (رضی الّہ) کی اولاد بو علی جیسے فلسفہ کے پیچھے نہ چلنا چاہیے۔

چوں دیدہ راہ بیں نداری
قاید قرشی بہ از بخاری

جب تجھے راستہ دیکھنے والی آنکھ میسّر نہیں تو بخاری کے بجائے قریشی کو اپنا راہنما بنا لینا ہی اچھا ہے۔

از- (علامہ محمد اقبال ؒ ضرب کلیم-ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام)


اقبال کی زبردست سبق آموز نظم۔ دین اور فلسفہ دونوں کا بہت عمدگی کے ساتھ موازنہ کیا اور اس ضمن میں اپنا زاویہ نگاہ بھی واضح کیا ہے۔ اگرچہ علامہ نے ایک فلسفہ زدہ سید زادہ کے خیالات کی اصلاح کے لئے لکھی تھی لیکن اس زمانہ کے بہت سے فلسفہ زدہ مسلمان اس سے سبق حاصل کر سکتے ہیں “فلسفہ زدہ” اس شخص کو کہتے ہیں جو وحی ( علم دین) کے مقابلے میں عقل انسانی کی برتری کا قائل ہوں۔

_______________

تو اپنی خودی اگر نہ کھوتا
زناری برگساں نہ ہوتا

اے نوجوان! اگر تو اپنے دین کی تعلیمات سے بیگانگی کے باعث اپنی خودی (مرتبہ کمال / اشرف المخلوقات) کو تباہ نہ کر دیتا تو کبھی حکمائے مغرب کے خیالاتِ باطلہ کا پیرو نہ ہوتا۔ برگسان (Henry Bercson) مغربی حکماء کی جماعت کا فلسفی ہے۔

_____________

ہیگل کا صدف گہر سے خالی
ہے اس کا طلسم سب خیالی

اینوجوان میں تجھے آگاہ کرتا ہوں کہ ہیگل (Hecel) کا فلسفہ، ‏ محض لفظوں کا طومار ہے۔ پوست تو ہے مگر مغز نہیں ہے۔ اور اس نے جو خیالات ظاہر کیے ہیں انکی حقیقت ایک طلسم سے زیادہ نہیں اس کا فلسفہ بظاہر بہت عالیشان نظر آتا ہے لیکن جب اس کے خیالات کا تجزیہ کرتے ہیں تو کچھ پلّے نہیں پڑتا۔

_____________

محکم کیسے ہو زندگانی
کس طرح خودی ہو لازمانی!

ہیگل برگسان اور دوسرے مغربی فلسفی دور اذکار باتیں تو بہت کرتے ہیں، لیکن اس سوال کا ان کے پاس نہ کوئی جواب ہے نہ حل ہے کہ زندگی کس طرح مستحکم(بہتر / پائیدار) ہو سکتی ہے۔

ان کی فلسفی باتیں ذہنی دلچسپی کا سامان تو بن سکتے ہیں لیکن ان سے انسانی زندگی آسان یا بہتر نہیں ہوسکتی۔ اسلام نے ہمیں ان خیالات میں الجھنے کی بجائے انسان کے اعمال کی اصلاح پر زور دے کر، زندگی کو محکم (مضبوط / بہتر) کرنے کے طریقے بتائے ہیں۔

_____________

آدم کو ثبات کی طلب ہے
دستور حیات کی طلب ہے

انسان کو جس بات کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اسے ثبات ( پائیداری، درستگی، پختگی، استحکام) کیسے حاصل ہو بہتر زندگی گزارنے کے لیے بہترین نظام چاہتا ہے۔

ان فلسفیوں کے خیالات سے زندگی کے مسائل حل نہیں ہوسکتے مثلاً زمانہ موجود ہے یا معدوم ہے؟ یا موہوم ہے؟ اور حقیقی ہے یا غیر حقیقی ہے؟ ان سے ہمارے تمدّنی، اقتصادی، معاشی، سیاسی اور عمرانی مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

_____________

دنیا کی عشا ہو جس سے اشراق
مومن کی اذاں ندائے آفاق

اینوجوان جس بات سے دنیا کی تاریکی دور ہوسکتی ہے یعنی انسانی مشکلات کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ وہ فلسفہ نہیں بلکہ بندہ مومن کی اذان ہے یعنی انسان کی اصلاح کے لئے دین اسلام کی طرف بلانا۔

_____________

میں اصل کا خاص سومناتی
آبا مرے لاتی و مناتی

اب اقبال اس نوجوان کو بعض حقائق تلقین کرتے ہیں چنانچہ کہتے ہیں کہ میں برہمنوں کی اولاد سے ہوں میرے آباؤ اجداد کشمیری برہمن تھے اور بت پرست تھے۔

_____________

تو سید ہاشمی کی اولاد
میری کف خاک برہمن زاد

تو سید سادہ ہے میں برہمن زادہ ہوں۔

_____________

ہے فلسفہ میرے آب و گل میں
پوشیدہ ہے ریشہ ہائے دل میں

اس لئے فلسفہ تو میری رگ رگ میں سمایا ہوا ہے کیوں کہ برہمنوں کا مشغلہ حیات فلسفہ ہی ہے۔

_____________

اقبال اگرچہ بے ہنر ہے
اس کی رگ رگ سے باخبر ہے

اگرچہ میں دنیاوی اعتبار سے کوئی عروج حاصل نہ کر سکا اور دنیا میں ترقی کا فن مجھے نہیں آتا لیکن فلسفہ سے اچھی طرح واقف ہوں بلکہ دنیا میں آج تک جتنے فلسفیانہ مدارس فکر قائم ہوئے ہیں سب پر نا قدانہ نظر ڈال چکا ہوں۔

_____________

شعلہ ہے ترے جنوں کا بے سوز
سن مجھ سے یہ نکتہ دل افروز

دل افروز: دل کو روشن کرنے والا۔

اسی لیے میں اپنی ساری عمر کے تجربے کا خلاصہ تجھ سے بیان کرتا ہوں جو تیرے دل کو روشن کر دے گا۔

_____________

انجام خرد ہے بے حضوری
ہے فلسفہ زندگی سے دوری

فلسفی سوچ رکھنے والا انسان اللہ سے دور ہو جاتا ہے اور الحاد اور انکار میں نہیں تو تشکیک میں تو ضرور مبتلا ہوجاتا ہے اور آدمی کتنا ہی برا فلسفی کیوں نہ ہو محض فلسفہ ہے زندگی کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ فلسفہ یہ تو بتا سکتا ہے کہ علم اور عالم اور معلوم میں کیا نسبت ہے لیکن وہ زندگی کے سیاسی معاشی معاشرتی اور تمدنی مسائل کا حل نہیں کر سکتا جس کی وجہ سے انسان زندگی کے اصل مقصد سے دور ہوجاتا ہے۔

_____________

افکار کے نغمہ ہائے بے صوت
ہیں ذوق عمل کے واسطے موت

بے صوت: آواز کے بغیر۔

نیز فلسفہ میں انسان کی قوت عمل کو مردہ کر دیتا ہے اور فلسفی آدمی حجرہ میں بیٹھ کر غوروفکر تو کر سکتا ہے لیکن نہ تزکیہ نفس کرسکتا ہے نہ اس میں زندگی کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہد اور برائی کے خاتمے کے لئے جہاد فی سبیل اللہ کا جذبہ پیدا نہیں ہو سکتا۔

_____________

دیں مسلک زندگی کی تقویم
دیں سر محمد و براہیم

تقويم: مظبوتی۔

لیکن فلسفہ کے بالمقابل، دین ایک حقیقت ضابطہ ہے۔ یعنی اسلام فلسفا کی طرح چند نظریات یا قیاسات یا ظن و تخمین کا نام نہیں بلکہ وہ مسلک زندگی کی تقویم ہے یعنی زندگی بسر کرنے کا دستور العمل ہے اور حیات انسانی کے لیے مکمل ضابطہ ہے۔ ہر انسان اپنی زندگی کے ہر مسئلے کا حل تلاش کر سکتا ہے اور اس پر عمل کرکے اپنی اور دوسرے انسانوں کی زندگی بہتر بنا سکتا ہے۔

_____________

”دل در سخن محمدی بند
اے پور علی ز بو علی چند!

تمام سہارے چھوڑ کر دل کو محمد (صلعم) کے ارشادات سے وابستہ کر دینا چاہیے، اے علی (رضی الّہ) کی اولاد بو علی جیسے فلسفہ کے پیچھے نہ چلنا چاہیے۔

پس اے مسلمان نوجوان ہیگل اور برگسان یعنی فلسفہ مغرب سے قطع تعلق کر کے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات گرامی یعنی حدیث شریف کا مطالعہ کر یہ مت دیکھ کے حکمائے مغرب کیا کہتے ہیں کیونکہ وہ خود اندھیرے ہیں اور اندھا دوسروں کو راستہ نہیں دکھا سکتا بلکہ یہ دیکھ کے فلاں مسئلہ میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں اے علی کے بیٹے بوعلی سینا کے فلسفہ کا کب تک اعتبار کرتا رہے گا۔

_____________

چوں دیدہ راہ بیں نداری
قاید قرشی بہ از بخاری

جب تجھے راستہ دیکھنے والی آنکھ میسّر نہیں تو بخاری کے بجائے قریشی کو اپنا راہنما بنا لینا ہی اچھا ہے۔

از- علامہ محمد اقبال ؒ


Roman Urdu:

Aik Falsafa Zada Syed Zade Ke Naam

Tu Apni Khudi Agar Na Khota
Zunnari-e-Bargsan Na Hota
Heegal Ka Sadaf Guhar Se Khali
Hai Uss Ka Tilism Sub Khayali
Mohkam Kaise Ho Zindagi
Kis Tarah Khudi Ho La-Zamani!
Adam Ko Sabat Ki Talab Hai
Dastoor-e-Hayat Ki Talab Hai
Dunya Ki Asha Ho Jis Se Ishraaq
Momin Ki Azan Nidaye Afaq
Main Asal Ka Khas Somanti
Aaba Mere Lati-o-Manati
Tu Syed-e-Hashmi Ki Aulad
Meri Kaf-e-Khak Barhman Zad
Hai Falsafa Mere Aab-o-Gil Mein
Poshida Hai Raisha Haye Dil Mein
Iqbal Agarche Behunar Hai
Iss Ki Rag Rag Se Ba-Khabar Hai
Shaula Hai Tere Junoon Ka Be-Souz
Sun Mujh Se Ye Nukta-e-Dil Afroz
Anjam-e-Khirad Hai Be Huzoori
Hai Falsafa Zindagi Se Doori
Afkar Ke Naghma Haye Be Soot
Hain Zauq-e-Amal Ke Waste Mout
Deen-e-Maslak-e-Zindagi Ki Taqween
Deen-e-Sirr-e-Muhammad (S.A.W.)-o-Baraheem (A.S.)
“Dil Dar Sukhan-e-Muhammadi (S.A.W.) Band
Ae Por-e-Ali (R.A.) Za Bu Ali Chand!
Choon Didah-e-Rah Been Nadari
Qaid Qarshi Ba Az Bukhari”
Farsi Ashaar Hakeem Khaqani Ki ‘Tohfa-Ul-Arifeen’ Se Hain
Persain Couplets are from Hakim Khaqani’s book ‘Tuhfa tul Aaraqeen’

Dr. Allama Muhammad Iqbal R.A


English Translation:

ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام

تو اپنی خودی اگر نہ کھوتا
زناری برگساں نہ ہوتا
زناري: بت پرست۔
برگساں: فرانس کا نامور فلسفی۔
ADMONITION TO A PHILOSOPHY STRICKEN SAYYAD
If your Self had not been debased and lost, Bergson, his spell on you would not have cast.
ہیگل کا صدف گہر سے خالی
ہے اس کا طلسم سب خیالی
جرمنی کا نامور فلسفی۔
Hegel’s shell is quite devoid of gem that gleams, his Talisman merely web of fancy seems.
محکم کیسے ہو زندگانی
کس طرح خودی ہو لازمانی!
لازماني: لا زوال۔
Man’s need is how this earthly life to brace, he yearns that Self may last ‘yond Time and Space.
آدم کو ثبات کی طلب ہے
دستور حیات کی طلب ہے

To have a life steadfast is his desire, he seeks some rules to guide his life entire.
دنیا کی عشا ہو جس سے اشراق
مومن کی اذاں ندائے آفاق
اشراق: صبح سورج نکلنے کے بعد جب سورج پوری طرح سے بلند ہو جائے۔
The source, that gloom dispels, spreads light around, is Worship Call at morn with clarion sound.
میں اصل کا خاص سومناتی
آبا مرے لاتی و مناتی
لاتي و مناتي: مراد ہے بت پرست۔
I am by breed a pure and trite Somnati, ancestors mine were both Lati and Manati.
تو سید ہاشمی کی اولاد
میری کف خاک برہمن زاد

You hail from Hashemite Prophet’s race, my origin from Brahmans I have to trace.
ہے فلسفہ میرے آب و گل میں
پوشیدہ ہے ریشہ ہائے دل میں

Philosophy is my body’s essential part; it is rooted deep in fibres of my heart.
اقبال اگرچہ بے ہنر ہے
اس کی رگ رگ سے باخبر ہے

lqbal devoid of skill and craft though be, through every vein of thought can fully see.
شعلہ ہے ترے جنوں کا بے سوز
سن مجھ سے یہ نکتہ دل افروز
دل افروز: دل کو روشن کرنے والا۔
The frenzy in your breast is shorn of glow, this heart illuming point you ought to know.
انجام خرد ہے بے حضوری
ہے فلسفہ زندگی سے دوری

Intellect leads a man from God astray; philosophy from grasping facts keeps away.
افکار کے نغمہ ہائے بے صوت
ہیں ذوق عمل کے واسطے موت
بے صوت: آواز کے بغیر۔
Dumb strains produced by calm and serious, thought, slay zeal for active life and achieve not aught.
دیں مسلک زندگی کی تقویم
دیں سر محمد و براہیم
تقويم: مظبوتی۔
True faith and creed give strength to earthly Abraham and Prophets’ Seal guide to face its strife.
”دل در سخن محمدی بند
اے پور علی ز بو علی چند!
تمام سہارے چھوڑ کر دل کو محمد (صلعم) کے ارشادات سے وابستہ کر دینا چاہیے، اے علی (رضی الّہ) کی اولاد بو علی جیسے فلسفہ کے پیچھے نہ چلنا چاہیے۔
Ali’s son, you are deceived by Avicenna’s thought, give ears to what the Holy Prophet taught.
چوں دیدہ راہ بیں نداری
قاید قرشی بہ از بخاری
جب تجھے راستہ دیکھنے والی آنکھ میسّر نہیں تو بخاری کے بجائے قریشی کو اپنا راہنما بنا لینا ہی اچھا ہے۔
You can not see the path you have to tread, so choose a guide from tribe of Koraish instead.
(Persian verses are from Khaqani’s ‘Tohfah al-Araqain’.)
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: