(Rumuz-e-Bekhudi-12) (بیان حریت اسلامیہ و سر حادثہ کربلا) Dar Ma’ani Huriyat-e-Islamia Wa Sirr-e-Hadsa Karbala

علامہ اقبال کے مطابق توحید کے عملی پہلو تین ہیں: اخوت، مساوات اور آزادی۔ اُن کے نزدیک پیغمبرِ اسلامؐ کی بعثت کا مقصد بھی یہی تھا کہ کُل انسانی سطح پر اِن تینوں اصولوں کی بنیاد رکھی جائے۔ “رموزِ بیخودی” میں انہوں نے کربلا کے واقعے کو تیسرے اصول کی وضاحت کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہ مثنوی 1918 میں شائع ہوئی۔

اس حکایت میں اقبال نے حادثہ کربلا کی روشنی میں حریت (آزادی) کا مفہوم واضح کیا ہے یعنی مسلمان کو اللہ کی شریعت کی اطاعت کرنے کی آزادی ہونی چاہیے حضرت امام حسین نے کربلا کے میدان میں شہادت حاصل کر کے ملت اسلامیہ پر اس حقیقت کو آشکار کردیا کہ غیر اللہ کی ملوکیت سے اسلامی حریت (آزادی) کی نفی ہو جاتی ہے اور اگر مسلمان حریت سے محروم ہو جائے تو وہ اسلامی زندگی بسر نہیں کر سکتا کیونکہ مسلمان وہ ہے جو غیر اللہ کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت امام حسین کی اللہ کے سوا کسی غیر اللہ کے غیر شرعی حکم کے سامنے گردن نہ جھکی اور دین اسلام کے حریت کے اصول کو زندہ رکھنے کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔

(خلیفہ کا انتخاب دین اسلام کے اصول کے مطابق، آزادی حق رائے سے صالحین لوگ اپنے میں سے سب سے زیادہ تقویٰ رکھنے والے کی بیعت کر کے منتخب کرتے ہیں۔

خلیفہ کہلانے کا وہی شخص حقدار ہے جو اللہ کے ہر حکم کی اطاعت کرتا ہوں اور اللہ کی شریعت قرآن کا حکم وہی نافذ کر سکتا ہے جو خود بھی قرآن کے مطابق اپنی زندگی گزارتا ہوں۔)

(اللہ و رسول کی پیروی کرنے والا اللہ کا بندہ اللہ کے بندوں پر اللہ کے حکم کو ہی نافذ کرتا ہے اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے والا شیطان کا پیروکار، اللہ کے بندوں پر کیوں کر اور کیسے کر اللہ کے نظام کو نافذ کر سکتا ہے! جو شخص خود غیر اسلامی طریقے سے زبردستی خلیفہ بن جائے وہ دوسروں سے بھی اسلام پر آزادی سے عمل کرنے کا حق چھین لیتا ہے۔)

در معنی حریت اسلامیہ و سر حادثۂ کربلا (اسلامی آزادی اور حادثۂ کربلا کے راز کی وضاحت میں)

1. ہر کہ پیمان با ہوالموجود بست
2. گردنش از بند ہر معبود رست
(جس کسی نے ھوَالموجود سے پیمانِ وفا باندھا اُس کی گردن ہر معبود سے آزاد ہو گئی۔)

3. مومن از عشق است و عشق از مومنست
4. عشق را ناممکن ما ممکن است
(مومن عشق سے ہے اور عشق مومن سے ہے۔ عشق کے لیے ہر ناممکن، ممکن ہو جاتا ہے۔)5. عقل سفاک است و او سفاک تر
6. پاک تر چالاک تر بیباک تر
(عقل سفاک ہے مگر عشق زیادہ سفاک ہے۔ زیادہ پاک، زیادہ چالاک اور زیادہ بیباک ہے۔)

7. عقل در پیچاک اسباب و علل
8. عشق چوگان باز میدان عمل
(عقل اسباب و علل کے چکر میں پڑی رہتی ہے جبکہ عشق میدانِ عمل کا کھلاڑی ہے۔)

9. عشق صید از زور بازو افکند
10. عقل مکار است و دامی میزند
(عشق قوّتِ بازو سے شکار کرتا ہے جبکہ عقل مکّار ہے اور جال بچھاتی ہے۔)

11. عقل را سرمایہ از بیم و شک است
12. عشق را عزم و یقین لاینفک است
(عقل کا سرمایہ خوف اور شک ہے جبکہ عشق کے لیے عزم و یقیں لازم و ملزوم ہیں۔)

13. آن کند تعمیر تا ویران کند
14. این کند ویران کہ آبادان کند
(عقل کی تعمیر میں ویرانی مضمر ہے اور عشق کی ویرانی میں بھی تعمیر چھپی ہوئی ہے۔)

15. عقل چون باد است ارزان در جہان
16. عشق کمیاب و بہای او گران
(عقل ہوا کی طرح دنیا میں ارزاں ہے جبکہ عشق کمیاب اور بیش قیمت ہے۔ )

17. عقل محکم از اساس چون و چند
18. عشق عریان از لباس چون و چند
(عقل ‘کیوں’ اور ‘کتنا’ کی بنیاد پر محکم ہوتی ہے جبکہ عشق اس لباس سے بے پروا ہے۔)

19. عقل می گوید کہ خود را پیش کن
20. عشق گوید امتحان خویش کن
(عقل کہتی ہے کہ اپنے مفاد کو پیشِ نظر رکھو۔ عشق کہتا ہے کہ خود کو امتحان میں ڈالو۔)

21. عقل با غیر آشنا از اکتساب
22. عشق از فضل است و با خود در حساب
(عقل فائدے نقصان کا حساب کتاب کر کے دوسروں سے آشنائی پیدا کرتی ہے اور عشق اللہ کے فضل پر بھروسہ کرتا ہے اور اپنا حساب کتاب خود کرتا ہے۔)

23. عقل گوید شاد شو آباد شو
24. عشق گوید بندہ شو آزاد شو
(عقل کہتی ہے کہ خوش رہو اور آباد رہو۔ عشق کہتا ہے، کہ اللہ کی غلامی اختیار کرو اور آزاد ہو جاؤ۔)

25. عشق را آرام جان حریت است
26. ناقہ اش را ساربان حریت است
(عشق کے لیے آزادی میں روح کا سکون ہے، اُس کے ناقہ کی ساربان آزادی ہے۔ )

27. آن شنیدستی کہ ہنگام نبرد
28. عشق با عقل ہوس پرور چہ کرد
(کیا تم نے سنا ہے کہ جنگ میں عشق نے عقل کا مقابلہ کیسے کیا؟)

29. آن امام عاشقان پور بتول
30. سرو آزادی ز بستان رسول
( وہ عااشقوں کے امام اور سیدہ فاطمہ کے بیٹے جو حضور صلی اللہ علیہ کے باغ کے آزاد سرو تھے۔)

31. اللہ اللہ بای بسم اللہ پدر
32. معنی ذبح عظیم آمد پسر
(اللہ، اللہ، والد کا مقام بسم اللہ کی “ب” جیسا تھا اور اور بیٹا “ذبحِ عظیم” کا اصل مفہوم بن گیا!)

33. بہر آن شہزادہ ی خیر الملل
34. دوش ختم المرسلین نعم الجمل
(خیرُ الملل کے اس شہزادے کے لیے آخری نبی کا کاندھا گویا ایک خوبصورت سواری تھی۔ )

35. سرخ رو عشق غیور از خون او
36. شوخی این مصرع از مضمون او
(اُن کے خون سے عشقِ غیور سرخرو ہوا۔ یہ مصرع اُنہی کے مضمون سے شوخی سے ہمکنار ہوا۔ )

37. در میان امت ان کیوان جناب
38. ہمچو حرف قل ہو اللہ در کتاب
( یہ بلند مرتبہ شخصیت ملّت میں یوں ہے جیسے قرآن میں “قل ھواللہ” ہے۔)

39. موسی و فرعون و شبیر و یزید
40. این دو قوت از حیات آید پدید
(موسیٰ اور فرعون، شبیر اور یزید۔ زندگی سے یہ دو قوتیں جنم لیتی ہیں۔)

41. زندہ حق از قوت شبیری است
42. باطل آخر داغ حسرت میری است
(شبیری کی قوت سے حق زندہ ہے۔ باطل کا انجام بالآخر حسرت زدہ موت ہے۔)

43. چون خلافت رشتہ از قرآن گسیخت
44. حریت را زہر اندر کام ریخت
(جب خلافت نے قرآن سے اپنا رشتہ توڑ لیا تو اُس نے آزادی کے حلق میں زہر اُنڈیل دیا۔)

45. خاست آن سر جلوہ ی خیرالامم
46. چون سحاب قبلہ باران در قدم
(تب یہ جلوہ، جوخیرُالامم کے تمام جلووں میں سرِ فہرست ہے، یوں اُٹھا جیسے قبلے کی جانب سے بارش کا بادل!)

47. بر زمین کربلا بارید و رفت
48. لالہ در ویرانہ ہا کارید و رفت
(کربلا کی زمین پر برسا، اُس ویرانے میں لالے کے پھول اُگائے اور آگے بڑھ گیا۔)

49. تا قیامت قطع استبداد کرد
50. موج خون او چمن ایجاد کرد
(قیامت تک کے لیے استبداد کی جڑ کاٹ دی۔ اُس کے لہو نے ایک نیا چمن پیدا کر دیا۔)

51. بہر حق در خاک و خون غلتیدہ است
52. پس بنای لاالہ گردیدہ است
(وہ حق کی خاطر خاک و خون میں لوٹ گئے اور یوں وہ “لاالٰہ” کی بنیاد بن گئے۔)

53. مدعایش سلطنت بودی اگر
54. خود نکردی با چنین سامان سفر
(اگر اُن کا مقصود سلطنت حاصل کرنا ہوتا تو اتنے تھوڑے سے سامانِ سفر کے ساتھ سفر اختیار نہ کرتے۔)

55. دشمنان چون ریگ صحرا لاتعد
56. دوستان او بہ یزدان ہم عدد
(دشمن صحرا کی ریت کی طرح لاتعداد تھے اور اُن کے دوست یزداں کے عدد کے لفظ کے برابر تھے، صرف بہتر۔ )

57. سر ابراہیم و اسمعیل بود
58. یعنی آن اجمال را تفصیل بود
(وہ ابراہیم اور اسماعیل کا راز ثابت ہوئے یعنی وہ اجمال تھے اور آپ تفصیل۔)

59. عزم او چون کوہساران استوار
60. پایدار و تند سیر و کامگار
(اُن کا عزم پہاڑوں کی طرح محکم، پائیدار، آمادۂ عمل اور کامیاب تھا۔)

61. تیغ بہر عزت دین است و بس
62. مقصد او حفظ آئین است و بس
(اُن کی تلوار محض دین کی عزت کے لیے تھی اور اُن کا مقصد محض آئینِ شریعت کی حفاظت تھا۔ )

63. ماسوی اللہ را مسلمان بندہ نیست
64. پیش فرعونی سرش افکندہ نیست
(مسلمان اللہ کے سوا کسی کا بندہ نہیں ہوتا۔ وہ فرعون کے سامنے اپنا سر نہیں جھکاتا۔)

65. خون او تفسیر این اسرار کرد
66. ملت خوابیدہ را بیدار کرد
( اُن کے لہو نے یہ راز کھول دیا اور سوئی ہوئی ملّت کو بیدار کر دیا۔)

67. تیغ لا چون از میان بیرون کشید
68. از رگ ارباب باطل خون کشید
(جب انہوں نے “لا” کی تلوار میان سے نکالی تو باطل کے ارباب کی رگوں سے لہو نکال لیا،)

69. نقش الا اللہ بر صحرا نوشت
70. سطر عنوان نجات ما نوشت
(اور ریت پر “اِلّا” تحریر کر دیا۔ ہماری نجات کا عنوان لکھ دیا۔)

71. رمز قرآن از حسین آموختیم
72. ز آتش او شعلہ ہا اندوختیم
(ہم نے قرآن کی رمز حسینٔ سے سیکھی ہے۔ ہم نے اُن کی آگ سے شعلے حاصل کیے ہیں۔)

73. شوکت شام و فر بغداد رفت
74. سطوت غرناطہ ہم از یاد رفت
(شام کی شوکت اور بغداد کی شان رخصت ہو گئی۔ غرناطہ کی سطوت بھی یاد سے محو ہو گئی۔)

75. تار ما از زخمہ اش لرزان ہنوز
76. تازہ از تکبیر او ایمان ہنوز
( لیکن ہمارے تار ابھی تک حسینٔ کی مضراب سے بج رہے ہیں۔ اُن کی تکبیر سے ایمان آج بھی تازہ ہیں۔)

77. اے صبا اے پیک دور افتادگان
78. اشک ما بر خاک پاک او رسان
(اے صبا، اے دُور پڑے ہوؤں کی قاصد، ہمارے آنسو اُن کی پاک مٹی تک پہنچا دے!)

علامہ محمد اقبال ؒ

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close