(Zarb-e-Kaleem-181) نفسیات غلامی (Nafsiyat-e-Ghulami)

نفسیات غلامی

سخت باریک ہیں امراض امم کے اسباب 
کھول کر کہیے تو کرتا ہے بیاں کوتاہی

بياں کوتاہي: بیان ساتھ نہیں دیتا۔

دین شیری میں غلاموں کے امام اور شیوخ 
دیکھتے ہیں فقط اک فلسفہ روباہی

روباہي: لومڑی کا روّیہ ۔ بزدلی، مکّاری۔

ہو اگر قوت فرعون کی در پردہ مرید 
قوم کے حق میں ہے لعنت وہ کلیم اللہی

کليم اللہي: اللہ سے کلام کرنا۔

از- علامہ محمد اقبال ؒ
حوالہ: ضربِ کلیم، سیاست مشرق و مغرب



اس نظم میں اقبال نے غلاموں کی نفسیاتی کیفیت کو واضح کیا ہے کہ غلامی کی بدولت ان کی نگاہوں میں ایسی کجی پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ شیرکو لومڑی سمجھنے لگتے ہیں اور عیب کو بہتر یقین کرنے لگتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ
قوموں کی بیماریوں کے اسباب بہت پچیدہ اور مخفی ہوتے ہیں یعنی کسی قوم کے زوال اور اعلی محکومی کے اسباب کا سمجھنا کوئی آسان بات نہیں ہے اگر ان کی تفصیل کی جائے تو بلامبالغہ کا ایک طومار مرتب ہوجائے گا اور اس کا خلاصہ ایک فقرے میں بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ
غلامی سے قوم کی ذہنیت اس درجہ مسخ ہو جاتی ہے کہ وہ سونے کو پیتل اور پیتل کو سونا سمجھنے لگتی ہے۔ مسلمان قوم کے علماء اور مشائخ کو شیروں کے دین (اسلام) میں لومڑیوں کی عیاری (بزدلی، مکاری، غلامی کی تعلیم) کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا۔
چنانچہ اس قوم میں جو شخص کس مصلح اور امام الزماں ہونے کا مُدعی ہوتا ہے وہ بھی اس کو غلامی ہی کی تلقین کرتا ہے اور ظالم حکمرانوں کی وفاداری کا درس دیتا ہے۔

اگر ایسا شخص جو بہت بڑا عالم، عابد و زاہد ہو اور ظالم حکمرانوں کی خوشنودی کے لیے اپنی تمام دعائیں اور بیانات ان کے حق میں کرتا ہوں تو ایسا مستجاب الدعوات شخص قوم کے حق میں لعنت یعنی اللہ کی رحمت سے دوری کا سبب بنتا ہے کیونکہ وہ قوم کو اللہ کے احکام کی پیروی کے بجائے ظالم حکمرانوں کی غلامی کا درس دے رہا ہوتا ہے۔
اسلام (اللہ کے احکام کی پیروی) اور غیر اللہ کی غلامی ایک دوسرے کی ضد ہیں جو شخص مسلمانوں کو غیر اللہ کی غلامی جو اللہ کے رستے سے دور لے جائے کا سبق پڑھاتا ہے وہ خود دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔




نفسیات غلامی

سخت باریک ہیں امراض امم کے اسباب 
کھول کر کہیے تو کرتا ہے بیاں کوتاہی

بياں کوتاہي: بیان ساتھ نہیں دیتا۔

(Nafsiyat-e-Ghulami)

(Sakht Bareek Hain Amraz-e-Umam Ke Asbab
Khol Kar Kahiye To Karta Hai Byan Kotahi)

 

PSYCHOLOGY OF BONDAGE


The causes that make the nations sick are quite obscure, too vague and fine; although some man may try his best, yet cause in full he can’t define.

 

دین شیری میں غلاموں کے امام اور شیوخ 
دیکھتے ہیں فقط اک فلسفہ روباہی

روباہي: لومڑی کا روّیہ ۔ بزدلی، مکّاری۔

(Deen-e-Sheri Mein Ghulami Ke Imam Aur Shyukh
Dekhte Hain Faqt Ek Falsafa-e-Rubahi)

The chiefs and guides of slaves have sunk so low that it seems so much odd!
If mode of lions is presented to them, they will see naught save guile and fraud.

 

ہو اگر قوت فرعون کی در پردہ مرید 
قوم کے حق میں ہے لعنت وہ کلیم اللہی

کليم اللہي: اللہ سے کلام کرنا۔

(Ho Agar Quwwat-e-Firon Ki Darparda Mureed
Qoum Ke Haq Mein Hai Lanat Woh Kaleem-Ullahi !)

 

If a Moses forms a secret League with the Pharoah of his time; for his nation such like Moses is curse committing dreadful crime.


[Translated by Syed Akbar Ali Shah]
Allama Muhammad Iqbal R.A

nafsayati-ghulami-hoo-agar-qowat-fairoon


Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: