(Zarb-e-Kaleem-157) نفسیات غلامی (Nafsiyat-e-Ghulami)

نفسیات غلامی

شاعر بھی ہیں پیدا، علما بھی، حکما بھی 
خالی نہیں قوموں کی غلامی کا زمانہ

مقصد ہے ان اللہ کے بندوں کا مگر ایک 
ہر ایک ہے گو شرح معانی میں یگانہ

شرح معاني ميں يگانہ: معنوں کی وضاحت کرنے میں بےمثال۔

بہتر ہے کہ شیروں کو سکھا دیں رم آہو 
باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ،

رم آہو: ہرنوں کی طرح بھاگ جانا، بزدلی۔

کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند 
تاویل مسائل کو بناتے ہیں بہانہ

از- علامہ محمد اقبال ؒ
حوالہ: ضرب کلیم، سیاست مشرق و مغرب

اس نظم میں اقبال نے یہ بتایا ہے کہ جب کوئی قوم غلام ہو جاتی ہے تو اس قوم کے شعراء، علماء اور حاکم سب کی ذہنیت غلامانہ ہو جاتی ہے۔ اور یہ لوگ ادب، علم اور فلسفے کے مسائل کی تشریح اس انداز سے کرتے ہیں کہ قوم کے اندر غلامی کے جذبات پختہ تر ہو جائیں۔
آب فرماتے ہیں
غلام قوموں میں بھی شعراء، علماء اور حاکم پیدا ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ لوگ مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہیں لیکن مقصد ان سبھی کا ایک ہی ہوتا ہے اور وہ یہ کہ شیروں ( مسلمانوں) کو بزدلی اور مقابلے سے فرار ہونے کا سبق سکھایا جائے تاکہ بہادر ی اور سرفروشی کا جذبہ پیدا نہ ہویہ لوگ علمی اور مذہبی مسائل کی تاویل و تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ غلام اپنی غلامی پر راضی رہ سکیں اور غیر شرعی قوانین اور ظالم حکمران طبقہ کے خلاف علم آزادی بلند نہ کر سکیں۔.


نفسیات غلامی

شاعر بھی ہیں پیدا، علما بھی، حکما بھی 
خالی نہیں قوموں کی غلامی کا زمانہ

(Nafsiyat-e-Ghulami)

(Shayar Bhi Hain Paida, Ulma Bhi, Hukma Bhi
Khali Nahin Qoumon Ki Ghulami Ka Zamana)

PSYCHOLOGY OF BONDAGE

The wise and bards in bondage both are born, of such births, the age of slavery is not shorn.

 

مقصد ہے ان اللہ کے بندوں کا مگر ایک 
ہر ایک ہے گو شرح معانی میں یگانہ

شرح معاني ميں يگانہ: معنوں کی وضاحت کرنے میں بےمثال۔

(Maqsad Hai In Allah Ke Bandon Ka Magar Aik
Har Aik Hai Go Sharah-e-Maani Mein Yagana)

These men of God have merely single aim, their interpretation of verse, unique they claim.

بہتر ہے کہ شیروں کو سکھا دیں رم آہو 
باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ،

رم آہو: ہرنوں کی طرح بھاگ جانا، بزدلی۔

(‘Behtar Hai Ke Sheron Ko Sikha Dain Ram-e-Aahu
Baqi Na Rahe Sher Ki Sheri Ka Fasana’)

Much good to teach the lion timid deer’s flight, none may recall the legends of lion’s might.

کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند 
تاویل مسائل کو بناتے ہیں بہانہ

(Karte Hain Ghulamon Ko Ghulami Pe Razamand
Taveel-e-Masael Ko Banate Hain Bahana)

They make the thralls contented with their state, they make excuses, when Faith’s affairs relate.

[Translated by Syed Akbar Ali Shah]
Allama Muhammad Iqbal R.A

Behtar-Hai-Ke-Sheron-Ko-Sikha-Dain-Ram

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: