(Zarb-e-Kaleem-056) لاہور و کراچی (Lahore-o-Karachi)

لاہور و کراچی (علم الدین اور عبدالقیوم خان)

نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور
موت کیا شے ہے، فقط عالم معنی کا سفر

ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر

دیت: خون بہا۔

آہ! اے مرد مسلماں تجھے کیا یاد نہیں
حرف لا تدع مع اللہ الھاً آخر

از- علامہ محمد اقبال ؒ
حوالہ: ضربِ کلیم، اسلام اور مسلمان

_______________

١. غیور مسلمان، صرف اللہ پر نظر رکھتا ہے، یعنی اللہ کے سوا کسی سے کچھ طلب نہیں کرتا۔ اور نہ توقع رکھتا ہے۔ نیز موت سے بالکل نہیں ڈرتا۔ کیونکہ موت، انقطاع حیات کا نام نہیں بلکہ حقیقی اور اصلی گر گھر کی طرف واپس جانے کا نام ہے۔ حقیقی اور اصل کی زندگی صرف انتہائی آخرت ہی کی ہے۔

٢. بھلا نصاری’ (برطانوی حکومت) ان شہیدوں (الدین دین اور عبدالقیوم خان) کا خون بہا کیا دیں سکتے ہیں جبکہ ان کے خون کی قیمت حرم سے بھی بڑھ کر ہے۔

فرمان مصطفی ﷺ ”(اے کعبہ)“ تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے مومن کی جان و مال کی حرمت و تقدس اللہ سبحانہ و تعالی کے نزدیک تیری خدمت و تقدس سے بھی زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہیے۔ (سنن ابن ماجہ)

٣. افسوس اے مسلمان تو قرآن مجید کی اس تعلیم سے بیگانہ ہو گیا ہے کہ “اللہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو مت پکارو کرو” بس اللہ سے توفیق طلب کر کہ تو خود دشمنان دین سے انتقام لے سکے۔

____________________

چونکہ بظاہر عنوان کو نظم سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا اس لیے مجھے اس کی وضاحت کرنی لازمی ہے۔

قصہ یہ ہے کہ ١٩٢٣ء میں ہندوستان کے دشمنان انسانیت (اسلام و مسلمان) آریہ سماجیوں نے جو بظاہر کانگرسی تھے لیکن باطن میں شدید قسم کے شرپسند مسلمانوں کے دشمن تھے۔ (اور اب بھی ہیں۔) مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کے لیے انہوں نے حضور اکرم صلی وسلم کی گستاخیوں کا سلسلہ شروع کیاگویا اپنی خباثت باطنی اور عنادِ قلبی کا اعلانیہ اظہار کرنے لگے۔

چناچہ ١٩٢٧ء میں چموپتی نامی ایک آریہ سماج نے جو آریہ سماج لاہور کا ایک کارکن (اُپریشک) تھا ایک رسوائے عالم کتاب لکھی جس سےدوسرے آریہ سماجی راجپال نے لاہور سے شائع کیا اس پر سارے ہندوستان میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا اور اس سرے سے اُس سرے تک مسلمانوں میں ایک آگ سی لگ گئی۔

لاہور ہائی کورٹ نے راجپال اور چموپتی کو بری کردیا راجپال سزا سے بچ گیا تھا اس لیے ١٩٢٩ء میں لاہور کے ایک ان پڑھ 19سالہ نوجوان علم الدین نامی کی رگوں میں غیرت دینی نے جوش مارا اور اس عاشق رسول نے اس دشمن اسلام کو قتل کر دیا۔

چونکہ راجپال کے بڑی ہوجانے سے کفار ہنود کے حوصلے بڑھ گے تھے اس لیے ایک آریہ سماجی نے کراچی میں دوسرے نے کلکتہ میں راجپال کی تلقید کی۔ اس لیے کراچی میں عبدالقیوم خان نے اس ہندونا شر کتاب کو اور عبداللہ خان نے کلکتہ میں دوسرے ناشر کتاب کو قتل کیا یعنی اپنی زندگی کا ثبوت دیا۔

کلکتہ کا واقعہ اتنا مشہور نہیں ہوا لیکن لاہور اور کراچی کا واقعہ بہت مشہور ہوا اور مدتوں تک مسلمانوں کی زبانوں پر علم الدین اور عبدالقیوم کا نام رہا اقبال نے انہیں واقعات سے متاثر ہو کر یہ نظم لکھی تھی اور اس میں انہوں نے مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے مت مانگو کیونکہ اہل کلیسا ان کے خون کی قیمت کیا ادا کرسکتے ہیں جبکہ ان کا خون قدر و قیمت کے لحاظ سے حرم سے بھی بڑھ کر ہے۔

_________________________

(Zarb-e-Kaleem-056) Lahore-o-Karachi

Nazar Allah Pe Rakhta Hai Musalman-e-Ghayoor
Mout Kya Shay Hai,Faqt Alam-e-Maani Ka Safar

Un Shaheedon Ki Diyat Ahle-e-Kalisa Se Na Mang
Qadar-o-Qeemat Mein Hai Khoon Jin Ka Haram Se Barh Kar

Aah, Ae Mard-e-Musakman Tujhe Kya Yaad Nahin
Harf-e-‘La Tad-Au Maa Allahi Ilahan Aakhar’

LAHORE AND KARACHI
For Muslim true Death has no dread; to realm of souls, he straight is led.

Don’t ask the rulers of this land to grant blood price for martyred band. Their blood is precious and divine like precincts of the Holy Shrine.

Alas! The Muslim forgot the lesson that to him was taught. He was ordained to cry to none save to God Unique and One.
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)

Un-Shaheedon-Ki-Diyat-Ahle-e-Kalisa-Se-Na-Mang

Namaz-e-Janazah of Ghazi Ilm-ud-din Shaheed

(4 December 1908 – 31 October 1929). Allama Iqbal can be seen sitting in front row.

Ilm-ud-din was a young boy from Lahore who killed Mahashay Rajpal an Hindu publisher who published an inflammatory book “Rangeela Rasool” in 1923.

Ilmud-Din’s execution occurred on 31st October 1929 in Mianwali Jail.

After a two-day journey, the body arrived in Lahore. 200,000 Muslims attended the funeral prayer which led by the Imam of masjid Wazeer Khan, Imam Muhammed Shamsuddeen.

Mawlana Zafar Ali Khan said ahead of the burial: “Alas! If only if I had managed to attain such a blessed status!” Allama Iqbal carried the funeral bier along its final journey.

As Allama Iqbal placed the body of Ilm-ud-Din into the grave, he tearfully declared: “This uneducated young man has surpassed us, the educated ones.”

Photo Courtesy: Mr. Munib Iqbal

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: