(Rumuz-e-Bekhudi-09) (در معنی اینکہ مقصود رسالت محمدیہ) Dar Ma’ani Aynke Maqsood-e-Risalat-e-Muhammadia Tashkeel Wa Tasees

در معنی اینکہ مقصود رسالت محمدیہ

 

(در معنی اینکہ مقصود رسالت محمدیہ تشکیل و تاسیس حریت و مساوات و اخوت بنی نوع دم است

(اس مضمون کی وضاحت میں کہ رسالت محمدیہ کا مقصود بنی آدم کی آزادی اور اخوّت کی تشکیل و تاسیس ہے۔)

 

بود انسان در جہان انسان پرست

ناکس و نابود مند و زیر دست

(دنیا میں انسان انسان کی پرستش کرتا ہے؛ لوگ انسانیت سے گر چکے تھے؛ ان کی کوئی ہستی نہیں تھی اور وہ دبے ہوئے تھے۔)

 

THAT THE PURPOSE OF MUHAMMAD’S (S.A.W.) MISSION WAS TO FOUND FREEDOM, EQUALITY AND BROTHERHOOD AMONG ALL MANKIND

 

Throughout the world man worshipped tyrant man,

despised, neglected, insignificant;

سطوت کسری و قیصر رہزنش

بند ہا در دست و پا و گردنش

قیصر و کسری کی سطوت نے رہزن بن کر اس کے ہاتھ پاؤں اور گردن میں زنجیریں ڈال رکھی تھیں۔

Caesar and Chosroes, highwaymen enthroned, fettered and chained their subjects, hand and foot.

کاہن و پاپا و سلطان و امیر

بہر یک نخچیر صد نخچیر گیر

کہیں کاہن تھے کہیں پوپ ، کہیں سلطان کہیں حاکم؛ ایک شکار کے لیے سینکڑون شکاری تھے۔

High Priest and Pope, Sultan and Prince– for one poor prey a hundred huntsmen took the field;

صاحب اورنگ و ہم پیر کنشت

باج بر کشت خراب او نوشت

پادشاہ اور مذہبی راہنما دونوں انسانیت کی ویران کھیتی پر بھی مالیہ لگاتے تھے۔

The sceptred monarch and the surpliced priest, each claimed his tribute from the wasted fields;

در کلیسا اسقف رضوان فروش

بہر این صید زبون دامی بدوش

عیسائیت کی جنت کے پروانے فروخت کرنے والا پادری اسی صید زبوں کے شکار کے لیے کندھے پر جال رکھے ہوئے تھا۔

The bishop, eager for this abject game, bartered God’s pardon with the penitent.

برہمن گل از خیابانش ببرد

خرمنش مغ زادہ با آتش سپرد

برہمن نے بھی انسانیت کی کیاری سے پھول توڑ لیا ؛ مغ زادہ نے انسانیت کے خرمن کو آگ کے سپرد کر دیا۔

The Brahman from his garden raped his blooms, the Magian fed his harvest to the fire.

از غلامی فطرت او دون شدہ

نغمہ ہا اندر نے او خون شدہ

غلامی کی وجہ سے انسانوں کی فطرت پست ہو گئی تھی؛ انسانیت کی نے کے نغمے خون آلود تھے۔

Serfdom debased man’s nature; while his reed throbbed with threnody of his heart’s blood.

تا امینی حق بحقداران سپرد

بندگان را مسند خاقان سپرد

ان حالات میں جناب رسول پاک (صلعم) تشریف لائے اور انہوں نے امین بن کر حقدار وں کا حق ان کے سپرد کر دیا؛ پادشاہت کا تخت رعیت کے حوالے کر دیا۔

Until one faithful reassigned their rights to those whose rights they were, the Khaqan’s throne delivering into his subjects’ hand;

شعلہ ہا از مردہ خاکستر گشاد

کوھکن را پایہ ی پرویز داد

آپ (صلعم) نے انسانیت کی مردہ راکھ سے (زندگی کے) شعلے پیدا کیے اور کوہکن (مزدور) کو پرویز (بادشاہ) کا رتبہ عطا فرمایا۔

Fanned their dead embers into flame anew; raised up Farhad, poor hewer of the rocks to Parwiz’ royal height;

اعتبار کار بندان را فزود

خواجگی از کار فرمایان ربود

آپ (صلعم) نے مزدور کی وقعت بڑھا دی؛ اور آقاؤں سے خواجگی چھین لی۔

Brought dignity to honest toil, and robbed the taskmasters of tyrant overlordship.

قوت او ہر کہن پیکر شکست

نوع انسان را حصار تازہ بست

آپ (صلعم) کی ‍ قوّت نے ہر پرانا ڈھانچہ توڑ دیا آپ (صلعم) نے نو‏ع انسان کے ارد گرد ایک نیا حصار تعمیر کر دیا۔

By his might he shattered every ancient privilege, and built new walls to fortify mankind.

تازہ جان اندر تن آدم دمید

بندہ را باز از خداوندان خرید

آپ (صلعم) نے آدم کے بدن میں نئی روح پھونک دی ؛ غلام کو دوبارہ آقاؤں سے واپس خرید لیا۔

He breathed fresh life in Adam’s weary bones, redeemed the slave from bondage, set him free.

زادن او مرگ دنیای کہن

مرگ آتشخانہ و دیر و شمن

آپ (صلعم) کی تشریف آوری دور کہن کی موت کا سبب بنی؛ آتش کدے، دیر اور بتخانے سب مٹ گئے۔

His birth was mortal to the ancient world, death to the temples of idolatry.

حریت زاد از ضمیر پاک او

این می نوشین چکید از تاک او

آپ (صلعم) کے ضمیر پاک سے حریت نے جنم لیا؛ یہ مزیدار شراب آپ (صلعم) ہی کے انگور سے ٹپکی۔

Freedom was born out of his holy heart; his vineyard flowed with that delightful wine.

عصر نو کاین صد چراغ آوردہ است

چشم در آغوش او وا کردہ است

دور حاضر جس نے (علم کے) سینکڑوں چراغ روشن کیئے ہیں؛ آپ (صلعم) ہی کے آغوش میں آنکھ کھولی ہے۔

The world’s new age, its hundred lamps ablaze, opened its eyes upon his living breast.

نقش نو بر صفحہ ہستی کشید

امتی گیتی گشائی آفرید

آپ (صلعم) نے صفحہء ہستی پر ایک نیا نقش کندہ فرمایا یعنی ایک ایسی امت وجود میں لائے جس نے زمانے کو فتح کر لیا۔

He drew on Being’s page the new design, brought into life a race of conquerors;

امتے از ما سوا بیگانہ ئی

بر چراغ مصطفی پروانہ ئی

ایسی امت جو ماسوا سے بیگانہ اور صرف چراغ مصطفے (صلعم) کی پروانہ ہے۔

A people deaf to every voice but God’s, a moth devoted to Muhammad‘s flame;

امتے از گرمی حق سینہ تاب

ذرہ اش شمع حریم آفتاب

ایسی امت جس کے سینہ کو حق و صداقت کی حرارت گرمائے ہوئے ہے؛ جس کا ایک ایک ذرّہ حریم آفتاب کے لیے شمع کی حیثیت رکھتا ہے۔

The fire of God was glowing in the brilliance of the Sun’s sanctuary.

کائنات از کیف او رنگین شدہ

کعبہ ہا بتخانہ ہای چین شدہ

اس امت کی سرمستی نے کائنات کو رنگین کر دیا ؛ اور پرانے بتکدے توحید کا گھر بن گئے۔

His fervour flushed creation all with joy; new Ka‘bahs rose where China’s temples once with idols stood.

مرسلان و انبیا آبای او

اکرم او نزد حق اتقای او

انبیاء اور رسل اس امت کے آباء ہیں ؛ اس امت کے متقین اللہ تعالے کے ہاں معززین ہیں۔

And in the order of his chivalry they were most noble who feared God the best.

“کل مومن اخوة” اندر دلش

حریت سرمایہ آب و گلش

سب مومن بھائی بھائی ہیں یہ بات اس امت کے دل میں سرایت کر چکی ہے؛ حریت اس کے خمیر میں ہے۔

Belivers all are brothers in his heart, freedom the sum and substance of his flesh.

نا شکیب امتیازات آمدہ

در نھاد او مساوات آمدہ

اس امت کے لیے (دینوی) امتیازات کا تصوّر نا قابل برداشت ہے کیونکہ اس کی نہاد میں مساوات رچی ہوئی ہے،

Impatient with discriminations all, his soul was pregnant with Equality.

ہمچو سرو آزاد فرزندان او

پختہ از “قالوا بلی” پیمان او

اس کے فرزند سرو کی مانند آزاد ہیں؛ اور اللہ تعالے کا ساتھ پیمان الست کے سبب مستحکم ہیں۔

Therefore his sons stand up erect and free as the tall cypresses, the ancient pledge in him renewing, Yea, thou art our Lord.

سجدہ ی حق گل بسیمایش زدہ

ماہ و انجم بوسہ بر پایش زدہ

اللہ تعالے کے حضور سجدوں کے نشان ان کے چہروں پر پھول کی مانند سجے ہوئے ہیں ؛ چاند ستارے ان کے پاؤں کو بوسہ دیتے ہیں۔

Prostration unto God had marked his brow; the Moon and stars bow down to kiss his feet.

 

Rumuz-e-Bekhudi (رموز بیخودی) – Mysteries of the Selflessness

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: