(Zarb-e-Kaleem-001) Nawab Sir Hameed Ullah Khan

نواب سرحمید اللہ خاں فرمانروائے بھوپال کی خدمت میں

زمانہ با امم ایشیا چہ کرد و کند
کسے نہ بود کہ ایں داستاں فرو خواند
تو صاحب نظری آنچہ در ضمیر من است
دل تو بیند و اندیشہ تو می داند
بگیر ایں ہمہ سرمایہء بہار از من
‘کہ گل بدست تو از شاخ تازہ تر ماند’

از- علامہ محمد اقبال ؒ
حوالہ: ضربِ کلیم


ترجمہ

شعر ١:

اس زمانے کے لادین فرنگیوں نے ایشیا کی قوموں سے اب تک جو سلوک کیا اور کر رہے ہے؛ کوئ نہ تھا جو یہ درد بھری داستاں تفصیل سے قلم بند کرتا اور سنا سکتا؛ آخر مجھی کو یہ فرض انجام دینا پڑا۔

شعر ٢:

(حمید اللہ خان) تو صاحب نظر ہے اور تجھے خدا نے وہ ملکہ عطا کیا ہے کہ جو حقیقتیں میرے ضمیر کی گہرائیوں میں موجود ہیں؛ تیرا دل انہیں دیکھ رہا ہے اور تیرا دماغ ان سے آگاہ ہے۔

شعر ٣:

میں بہار کا یہ سرمایہ لایا ہوں تو اسے لے لے، اس لیے کہ پھول تیرے ہاتھ میں دے دیا جائے تو وہ شاخ سے بھی زیادہ تر و تازہ اور شاداب رہتا ہے۔


Dedication To Nawab Sir Hamidullah Khan The Ruler Of Bhopal

What (the cruel people of this) Time has done or shall do with the (people of East, none save a prince, like you, can know the least.
You own insight and what lies in my mind, is not too hard for you to ken and find.
Accept from me this treasure of spring tide, whose roses in your hand shall fresh abide.

(Translated by Syed Akbar Ali Shah)

(Zarb-e-Kaleem-001)
Aala’Hazrat Nawab Sir Hameed Ullah Khan Farmanrawaye Bhopal Ki Khidmat Mein

Dr. Allama Muhammad Iqbal R.A


تعارف:

علامہ نے یہ کتاب نواب بھوپال صاحب کے نام پر معنون کی تھی۔ اور ان کی ذات سے کچھ توقعات بھی وابستہ کی تھیں، جن کا اظہار انہوں نے ان فارسی اشعار میں کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ میرے پاس مسلمان قوم کو تروتازہ کرنے یعنی غلامی سے آزادی حاصل کرنے، اور اس کے باغ کو شگفتہ بنانے یعنی مسلمانوں کی خودی کو بلند کرنے، نفس کی اصلاح کرکے اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل کرنے کا جو کچھ سرمایا ہے وہ میں تیرے حوالے کرتا ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ تیرے دل میں قوم کی محبت ہے۔ تم اس قوم کو اس کتاب کا درس دے کر دورے حاضر کے فتنوں سے آزاد کروا سکتے ہو۔ بظاہر علامہ نے ‘ضرب کلیم’ فرمانروائے بھوپال کی نذر کی لیکن حقیقت میں یہ ہر اس حکم، سردار، امام یا استاد کے نام مخصوص کی ہے جو اپنے ماتحت لوگ سے محبت کرتا ہوں اور ان کی رہنمائی و اصلاح کا درد رکھتا ہوں۔

تبصرہ:

بقول پروفیسر یُوسف سلیم چشتی

“‏میں نے اس انتساب کی علت پر بار ہا غور کیا، لیکن اس کے علاوہ اور کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آئی کہ مرحوم فطرتا بہت احسان شناس واقع ہوئے تھے۔ چنانچہ مجھے ان کی خدمت میں ١٩٢٤ ؀ سے ١٩٣٨ء تک حاضری کا موقع ملا۔ اور میں ذاتی تجربہ کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ان کے ساتھ کوئی اچھا سلوک کرتا تھا تو ہمیشہ اس کا تذکرہ شکرگزاری ممنونیت کے رنگ میں کیا کرتے تھے۔ چونکہ نواب صاحب بھوپال نے ان کی آخری علالت میں ان کے ساتھ بہت حسن سلوک روا رکھا تھا، اور علمی وظیفہ بھی مقرر کردیا تھا۔ اس لئے انہوں نے اس کا بدل اس رنگ میں کیا کہ ضرب کے ساتھ ان کے نام کو بھی زندہ جاوید بنا دیا۔ اور میری ایماندارانہ رائے یہ ہے کہ انہوں نے نواب صاحب موصوف کے احساسات کا نعم البدل کر دیا۔”

‏اس وجہ کے علاوہ اور کوئی وجہ میری سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ جہاں تک اس کتاب کی نفسِ مضامین کا تعلق ہے۔ یعنى“دور حاضر کے خلاف اعلان جنگ” میری رائے میں نواب صاحب کو ان سے کوئی نسبت نہیں ہوسکتی، اس لیے کہ ان کی نوابانہ شخصیت اور ان کی ریاست دونوں چیزیں انگریزوں کے رحم وکرم پر منحصر تھیں۔ نہ وہ خود انگریزوں کی لادین مغربی تہذیب کے خلاف اعلان جنگ کر سکتے تھے، اور نہ مسلمانوں کو اس کے خلاف بغاوت کا سبق دے سکتے تھے۔ چنانچہ ہندوستان سے اس تہذیب کے علمبرداروں (انگریزوں) کے چلے جانے کے بعد آج نہ کسی رئیس کا وجود نظر آتا ہے، نہ کسی ریاست کا نشان باقی ہے۔ چند راج پرمکھ ضرور زندہ درگور کا مصداق بنے ہوئے اپنی زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔

بقول مولانا عطاءاللہ شاہ بخاری

“اقبال کو نا ہی قوم سمجھ سکی اور نہ ہی انگریز، اگر قوم سمجھ لیتی تو آج غلام نہ ہوتی اور اگر انگریز سمجھ لیتا تو اقبال بسترِ مرگ پر وفات نہ پاتا بلکہ انگریز کے ہاتھوں تختہ دار پر لٹکایا جاتا۔”

‏ بیگ گردش چرغ نیلوفری

‏ نہ نادر بجا مامذنے دری!

‏١٩٤٧ء کے انقلاب سے “وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ“(اور یہ دن ہیں جو ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔ القران ٣:١٤٠) کا نقشہ ہماری آنکھوں کے سامنے کھنچ گیا۔


اب میں آسان لفظوں میں ان تین شعروں کا مطلب بیان کئے دیتا ہوں

شعر ١:

‏فرماتے ہیں کہ اقوام مغرب نے اقوام اشیاء پر جو مظالم کیے ہیں. ان کی داستان بہت طویل اور بہت دردناک ہے. اب تک کسی شخص کی توجہ اس داستان کو قلمبند کرنے کی طرف نہیں ہوئی۔ آخر کار میں نے اس اہم فریضہ کو انجام دیا۔

شعر ٢:

تو صاحب نظر ہے۔ اور تیری فراست اس قدر بڑھی ہوئی ہے، کہ تو میرے جذبات اور خیالات قلبی سے اچھی طرح واقف ہے۔ پس میں اپنے افکار احساسات تیری خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

شعر ٣:

کیونکہ تیرے اندر وہ خوبیاں جمع ہیں کہ پھولوں کو شاخ سے وہ تروتازگی نصیب نہیں ہوسکتی، جو تیرے ہاتھ میں آکر نصیب ہوسکتی ہے۔

‘کہ گل بدست تو از شاخ تازہ تر ماند’

‏یہ مشہور شاعر طالب املی کا مصرع ہے، جس پر اقبال نے تضمین کی ہے: اس کا مطلب یہ ہے کہ شاعر اپنے محبوب کی شان مسیحاح کا اظہار کرتا ہے کہ پھول اس کے ہاتھ میں آ کر مرجھا نہیں سکتا۔ بلکہ اور بھی ترونازہ ہو جائے گا۔


مقدمہ

Muqdma

علامہ کے قلم سے اردو میں چار کتابیں شائع ہوئیں جن کے نام علی الترتیب یہ ہیں

(١) بانگ درا (٢) بال جبریل (٣) ضرب کلیم اور (٤) ارمغان حجاز

حصہ اردو۔

بانگ درا میں ابتدائی زمانہ کا کلام شامل ہے، زیادہ تر آسان نظمیں اور غزلیں ہیں. لیکن بعد نظمیں بہت اعلی پایہ کی ہیں. مثلا خضرراہ، طلوع اسلام اور شمع اور شاعر وغیرہ.

بال جبریل،……. میں شائع ہوئی، اور تمام نقادان فن کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اس میں شعریت کا عنصر بہت زیادہ ہے، فلسفہ نسبتاً بہت کم ہے. اور غزلوں میں بھری روحانی و دلکشی ہے.

ضرب کلیم میں شائع ہوئی ہے، اس میں شعریت یا تغزل کم ہے. اور فلسفہ زیادہ ہے. بعض نظمیں اس مجموعہ میں اس قدر بلند پایہ ہیں کہ ان کی سرحد الہام سے ملی ہوئی معلوم ہوتی ہے. مختصر طور پر یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ضرب کلیم چونکہ بہت پختہ عمر کا کلام ہے، اس لئے قدرتی طور پر ان میں حالات کی گہرائی اور پختگی نظر آتی ہے. اور اس اعتبار سے کہ اس کتاب میں علامہ نے دنیا کے تمام مسائل پر اسلامی زاویہ نگاہ سے تنقید کی ہے، کم ازکم اردو یا فارسی میں تو کوئی کتاب اس کے پایہ کی نہیں ہے.

ضرب کلیم، بقول علامہ محروم دور حاضر کے خلاف اعلان جنگ ہے. اور سچ تو یہ ہے کہ اس کتاب پر اتنے مختصر لفظوں میں اس سے بہتر تبصرہ ممکن نہیں ہے. جس کو شک ہو، اسے لازم ہے کہ کتاب کا اول سے آخر تک مطالعہ کرنے، یقیناً اس تبصرہ کی صداقت آشکار ہوجائے گی.

“دور حاضر” علامہ کی خاص اصطلاح ہے، اس کے لفظی معنی تو بلکل واضع ہیں ۔یعنی موجودہ زمانہ یا وہ دور جو ہمارے سامنے ہے. یا بیسویں صدی، لیکن اس سے مراد ہے، وہ الحاد، تشکیک، اور بیدینی جو تہذیب مغرب نہیں کا ثمر نورس ہے. جس نے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبہ کو متاثر کر دیا ہے. جس کی وجہ سے مسلمان، اسلام اور قرآن دونوں سے بیگانہ ہوگئے ہیں. تہذیب مغرب کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ خدا پرستی کی جگہ بت پرستی کو فروغ ہو رہا ہے. اور

ان تازی خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

خود علامہ نے ایک جگہ صاف لفظوں میں بیان کیا ہے.

دور حاضر بت فروش وبت گر است

علامہ نے اس مفہوم کو ظاہر کرنے کے لئے تہذیب مغرب، تہذیب حاضر اور عصر حاضر کی اصطلاحیں بھی استعمال کی ہیں،چنانچہ بال جبریل میں لکھتے ہیں.

لبالب شیشہ تہذیب حاضر ہے مئے” لا” سے

مگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانہ الا

مجھے تہذیب حاضری نے عطا کی ہے وہ آزادی

کہ ظاہر میں تو آزادی ہے باطن میں گرفتاری

ارمغان ہمیں لکھتے ہیں:۔

ولیکن الاماں از عصر حاضر!

کہ شیطانی بسلطانی بہم کرو

خود ضرب کلیم پر علامہ نے عصر حاضر کے عنوان سے تین شعر لکھے ہیں، ان کے مطالعہ سے” دور حاضر” کی اصطلاح کا مفہوم اور بھی واضح ہو سکتا ہے.

الغرض” دور حاضر” سے اقبال کی مراد الحاد اور بیدینی کا موجودہ دور ہے. جس میں قدم قدم پر نئے نئے بت نظر آتے ہیں. اور دنیا ان بتوں کی پرستش کر رہی ہے.

اس کتاب کا ضرب کلیم، نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ علامہ مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتا ہیں. کہ اس کتاب میں جو اشعار ہیں یا بالفاظ صحیح تران اشعار میں جو خیالات ظاہر کیے گئے ہیں، اور عصرحاضر کے بتوں کو پاش پاش کرنے میں “ضرب کلیم” کا اثر رکھتے ہیں. اور علامہ یہ چاہتے ہیں. کہ مسلمان ان خیالات پر عامل ہو کر اپنے اندر وہ طاقت پیدا کریں، جس کی بدولت تو دور حاضر کے بتوں کو پاش پاش کرسکیں۔

اقبال نے ابتدائی زمانہ میں وطنیت کے خلاف ایک نظم لکھی تھی، اور اس میں مسلمانوں سے اس طرح خطاب کیا تھا:.

نظارہ دیرینہ زمانہ کو دکھا دے

اے مصطفوی! خاک میں اس بت کو ملا دے

اس وقت انہوں نے صرف اس قدر کہنے پر اکتفا کیا تھا کہ اے مسلمان! اس بت کو توڑ دے. لیکن اس کتاب میں انہوں نے پوری تفصیل کے ساتھ بت شکنی کا طریقہ بتایا ہے. اس کا خلاصہ ان دو شعروں میں بیان کردیا ہے، جو ٹائٹل بیچ پر مرقوم ہیں. ان اشعار کا سلیس مطلب یہ ہے:۔

مسلمان کی طبیعت کا اقتضاء یہ ہے کہ وہ جامد پتھر کی طرح کسی ایک جگہ یا مقام کی پابند نہیں ہوسکتی. وجہ یہ ہے کہ مسلمان قید وطن سے آزاد ہے.

مسلم ہیں ھم وطن ہے ساراجہاں ہمارا

لہذا مسلمانوں کو غیر قوموں کی طرح، کسی خاص ملک سے ایسی وابستگی پیدا کرنی نہیں چاہیے کہ وہ ہمیشہ کے لئے اس کے ملازم ہو کر رہ جائیں اور کسی وقت بھی وہاں سے ہجرت نہ کرسکیں بلکہ اپنے اندر، نسیم کی طرح، سیروسفر یانقل مکانی کی خواہش پیدا کرنے چاہیے. کیونکہ ان کا فرض منصبی ساری دنیا کو اسلام کا پیغام سناتا ہے. اس لئے اقبال یہ کہتے ہیں:۔

رہ بحر میں آزاد وطن صورت ماہی

مسلمان کی زندگی کا مقصد تو الائے کلمۃ اللہ ہے. اور مثالا اگر مصر میں یہ مقصد پورا نہیں ہوسکتا تو اپنے ہمخیالوں اور دوستوں کو ساتھ لے کر شام کی طرف چلے جاؤ. (جیسا حضرت موسی نے کیا تھا)

راستہ میں صعوبات بھی درپیش ہوں گی. اور ممکن ہے پانی بھی نہ ملے. پس اگر مرد مومن، خودی میں ڈوب کر، اپنی خدا داد مخفی صلاحیتوں کو بروئے کار لے آئے، تو اس کے اندر وہ رنگ کلیمی پیدا ہوجائے گا کہ وہ راستہ میں جس پتھر پر اپنا عصا مارے گا. اس سے ایک نہیں بلکہ ہزاروں چشمے پھوٹ نکلیں گے.

یہ مطلب ہے کہ ان دو شعروں کا.

اقبال کا کمال فن یہ ہے کہ ان کے یہاں تفصیل بھی ہے. اور اجمال بھی ہے. یعنی جس بات کو وہ پوری کتاب میں کہتے ہیں، اسی کو وہ دو شعروں میں بیان کر دیتے ہیں. اور میری رائے میں انہوں نے یہ فن قرآن حکیم کی روح سے شدید اربتاط کی بدولت سیکھا

یہ ساری کتاب دورِ حاضر کے خلاف اعلان جنگ ہے. انھوں نے مسلمانوں کو دورے حاضر سے نبردآزما ہونے کی ترغیب دی ہے. اور کامیابی اور فتحمندی کا طریقہ تفصیل کے ساتھ بتایا ہے. اور اس کو ایک مصرع میں بھی بیان کردیا ہے. کہ بت شکنی کے لیے ضرب کلیمی کی ضرورت ہے اور یہ طاقت “خودی میں ڈوبنے” سے حاصل ہو سکتی ہے.

اب ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خودی میں ڈوبنے کا مفہوم کیا ہے؟

میں جانتا ہوں کہ یہ شرح کالج کے طلبہ کے لئے لکھ رہا ہوں، لیکن سوال اہمیت کے پیش نظر اس کا جواب دئے بغیر آگے بڑھنے کو جی نہیں چاہتا.

اس معراکتہ الاراشعر کو پھر پڑھ لیا جائے تو مناسب ہوگا.

ہزار چشمہ ترے سنگِ راہ سے پھوٹے

خودی میں ڈوب کر ضرب کلیم پیدا کر

(١) کیا خودی کوئی دریا یا سمندر ہے؟

(٢) کیا اس دریا میں ڈوب سکتے ہیں؟

(٣) کیا یہ ڈوبنا حقیقی ہے، یا مجازی؟

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اقبال نے خودی کو واقعی بحر تشبیہ دی ہے. ان کی نظر میں خودی بہت بڑی چیز ہے. حتیٰ کہ

خودی کی زد میں ہے ساری خدائی

بال جبریل میں لکھتے ہیں:۔

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

تو آبجو اسے سمجھا اگر، تو چارہ نہیں

دوسرے سوال کا جواب اثبات میں ہے

خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں

مگر یہ حوصلہ، مرد، ہیچ کا رہ نہیں

تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ” ڈوبنا” حقیقی نہیں، مجازی ہے اقبال نے خودی کو بحر سے تشبیہ دی ہے، اور وجہ شبہ دونوں میں یکساں ہے، یعنی وسعت پایاں.

اقبال نے یہ بھی لکھا ہے کہ بحر خودی میں ڈوب کر پھر ابھر سکتے ہیں.

چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا تو نہ بن، اپنا تو بن

لیکن یہ خودی ڈوبنا یامن میں ڈوبنا مجاز ہے، حقیقت نہیں ہے. ڈوبنے سے مراد ہے.

مطالعہ باطنی

مراقبہ

گیان دھیان

معرفت نفس حاصل کرنا

……………. جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اس نے گویا اپنے رب کو پہچان لیا.

نفس نا طقہ یا روح یا خودی کی مخفی قوتوں کو دریافت کرنا پھر ان کی صحیح خطوط پر تر بیت کرنا، اور ان قوتوں کو درجہ کمال تک پہنچانا.

یہی ہے دراصل خودی میں ڈوبنے کا حقیقی مفہوم۔اب ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے. کہ وہ یہ ہے، کہ اقبال نے یہ تو کہہ دیا کہ خودی میں ڈوب جاؤ، لیکن اس ڈوبنے کا طریقہ نہیں بتایا.

اس کا جواب یہ ہے کہ جن لوگوں نے علامہ کے کلام کا غوروفکر کے ساتھ مطالعہ کیا ہے، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ انہوں نے جاوید نامہ اور مثنوی” پس چہ باید کرو” میں اس سوال کا جواب بھی دے دیا ہے.چنانچہ جاوید نامہ میں ایک جگہ لکھتے ہیں”۔

گر نیابی اس صحبت مرد خبیر

آزاب وجدا نچہ من دارم بگیر

پیرومی را رفیق راہ ساز

تا خدا بخشد ترا سوزو گداز

یعنی خودی میں ڈوبنے کا طریقہ کسی” مرد خبیر” سے سیکھو اور اگر کسی مردخبیر یعنی مرشد کامل کی صحبت میسر نہ آ سکے. تو پھر میرا مشورہ یہ ہے کہ مثنوی مولانا روم کا مطالعہ کرو.

مثنوی “پس چہ باید کرو” میں تو انہوں نے اس مسئلہ کو بڑی تفصیل کے ساتھ لکھا ہے صرف ایک شعر لکھتا ہوں.

اے سرت گردم گریز گردم گریزاز چوتیر

صحبت او گیر، وبے تابانہ گیر

یعنی اے مخاطب! میں تیرے داری جاؤں، تو ہم جیسے ناقص، کتابی علم رکھنے والوں سے کنارہ کش ہوکر، کسی مرشد کامل کا دامن تھام لے. اور بڑی مضبوطی سے تھام لے. کیونکہ

صحبت از علم کتابی خوشتر است

‏ صحبت مردان حر. آدم گراست

‏بزرگوں کی صحبت علم کتابی سے بدرجہا زیادہ نافع ہے. اور حقیقت یہ ہے کہ انسان صرف مردان حر ( اہل اللہ) کی صحبت کی بدولت انسان بن سکتا ہے.

‏واضح ہوکہ خودی میں ڈو بنانا، ایک فن ہے. اور جتنے فنون ہیں، ان سب کے حصول کا طریقہ ایک ہی ہے، یعنی صحبت اہل فن۔

محض طب کی کتابوں سے سے کوئی طبیب نہیں بن سکتا، موسیقی کی کتابوں سے گانا نہیں آسکتا. جب تک استاد رہنمائی نہ کرے کوئی شخص خوشی نویس نہیں بن سکتا. محض کتاب میں ترکیب پڑھ لینے سے کوئی شخص زردہ یا پلاؤ دم نہیں کرسکتا. غرض دنیا کا کوئی فن ایسا نہیں ہے جو استاد کی رہنمائی اور اس کی صحبت کے بغیر اسکے. تو “خودی میں ڈوبنا” کسی ماہر فن کی صحبت کے بغیر کیسے آسکتا ہے!

‏اسلامی دنیا میں جس قدر نامور بزرگ گزرے ہیں، یعنی ایسے لوگ جنہوں نے اپنے من میں ڈوب کر زندگی کا سراغ پایا ہے. مثلا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مولانا مولانا رومی، حضرت خواجہ اجمیری، خواجہ بہاؤالدین ملتانی، حضرت مجدد

الف ثانی حضرت مجدد دہلوی، حضرت سید احمد صاحب رائے بریلوی حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی حضرت حجۃ الاسلام مولانا قاسم صاحب نانوتوی حضرت مرشدی حاجی امداد اللہ صاحب مہاجرمکی حضرت مرشد شیخ الہند حضرت حکیم الامتہ مجدد تھانوی کثراللہ تعالی مثالہم، ان سبھوں نے اپنے اپنے مرشدوں کی صحبت میں رہ کر یہ فن سیکھا، اور ان بزرگوں کو جو یہ مرتبہ حاصل ہوا تو محض صحبت مرشد کی بدولت.

یہی وجہ ہے کہ مولانا رومی فرماتے ہیں:۔

یک زمانے صحبتے با اولیا

‏ بہتر ازصد سالہ طاعت بے ریا

‏میں نے اس سوال کا جواب جو اس قدر و وضاحت کے ساتھ لکھا ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دورِ جاہلیت میں مسلمانوں جو بہت سی خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے. کہ عوام کا تو ذکر ہی کیا ہے، اچھے خاصے لکھے پڑھے لوگ صحبت مرشد کی اہمیت اور ضرورت سے ناآشنا ہو گئے ہیں. چنانچہ ہمارے زمانہ میں، بعض مسلمان محض کتابی علم کی بنا پر رہبری، ہدایت بلکہ تجدید و اجتہاد تک کے لئے کم بستہ ہو گئے ہیں کس قدر حیرانی ہوتی ہے کہ جو لوگ خود اپنے نفس کی اصلاح کے محتاج ہیں، وہ دوسروں کی اصلاح کر رہے ہیں، اور بعیت لے کر “صالحین” کی جماعت تیار کر رہے ہیں.

‏ اہل اللہ کی صحبت کی حاجت اور اہمیت کی سب سے بڑی دلیل صحابیت ہے. یعنی صحابہ کرام میں بعض حضرات ایسے بھی ہیں جو حضرت صدیق اکبر کے مقابلہ میں بہت ادنیٰ درجہ رکھتے ہیں لیکن ادنی سے ادنی صحابی بھی تمام دنیائے اسلام کے اعلی سے اعلی محدثین اور فقہا بلکہ کے اولیاء اور اقطاب سے زیادہ معزز اور محترم ہے. کیوں؟ محض اس لئے کہ صحابہ نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی تھی.

‏اس لیے حضرت مجدد تھا نوی فرماتے ہیں:۔

” ‏ بھلانری کتابوں سے بھی کوئی کامل و مکمل ہوا ہے؟ ارے بھائی! موٹی سی بات ہے کہ بلا بڑھئی کے پاس بیٹھے کوئی شخص بڑھئی نہیں بن سکتا. حتیٰ کہ بسولا بھی بطور خود ہاتھ میں لے کر اٹھائے گا تو وہ بھی قاعدہ سے نہ اٹھایا جاسکے گا. بلا ورزی کے پاس بیٹھے سوئی پکڑنے کا طریقہ نہیں آتا. بلا خوش نویس کے پاس بیٹھے اور بلا قلم کی گرفت اور کشش دیکھیے، کوئی شخص خوش نویس نہیں بن سکتا گرلز وہ دن کامل کی صحبت کا کوئی کام نہیں بن سکتا. غرض بدون کامل کی صحبت کے کوئی کامل نہیں بن سکتا. لہذا پیر کامل کی صحبت لازم ہے

باز آمدم برسرمطلب، اقبال نے اس شعر میں مسلمانوں کو اپنے اندر ضرب کلیم پیدا کرنے کی ترکیب بتا دی ہے.

‏ہزار چشمہ ترے سنگِ راہ سے پھوٹے

خودی میں ڈوب کے ضربِ کلیم پیدا کر ‏

اب یہ مسلمانوں کا کام ہے کہ وہ اس کتاب کے مطالب پر غور کر کے مصنف مرحوم کے منشا اور آرزو کی تکمیل کریں، یا اس کی غزلوں کو قوالی اور ریڈیو کے رنگا رنگ پروگراموں کے لیے استعمال کریں.

‏من انچہ شرط بلاغ است باتومی گویم

‏ تو خواہ ازسخنم پندگیر، خواہ ملال

آئندہ کا علم تو اللہ ہی کو ہے. لیکن گزشتہ 14 سال سے جو سلوک کلام اقبال کے ساتھ کیا جا رہا ہے، اس کو دیکھ کر تو مجبورا یہی کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک قوم نے اقبال کو سمجھا ہی نہیں، اور اقبال کو تو اپنی زندگی ہی میں اس تلخ حقیقت کا احساس ہو گیا تھا. چنانچہ وہ ارمغان حجاز میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں

من اے میر امم داد از تو خواہم

مرا یاراں غزل خوانے شمردند

یعنی اے میرے اور ساری کائنات کے آقا! میں آپ کی خدمت میں یہ فریاد لے کر حاضر ہوا ہوں، کہ میں نے تو اپنی قوم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سنایا. لیکن اس نے مجھے محض ایک شاعر سمجھا!

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: