(Zarb-e-Kaleem-002) Nazreen Se

ناظرین سے

جب تک نہ زندگی کے حقائق پہ ہو نظر
تیرا زجاج ہو نہ سکے گا حریف سنگ
یہ زور دست و ضربت کاری کا ہے مقام
میدان جنگ میں نہ طلب کر نوائے چنگ
خون دل و جگر سے ہے سرمایہ حیات
فطرت، لہو ترنگ ہے غافل! نہ، جل ترنگ

از- علامہ محمد اقبال ؒ
حوالہ: ضربِ کلیم


ترجمہ:

شعر ١:

جب تک زندگی کے حقائق کو پیش نظر نہیں رکھوں گے۔ تیری ذات جو شیشہ کی طرح کمزور* ہے، حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط پتھر کی چٹان کی طرح نہیں بن سکتا۔

شعر ٢:

اے مسلمان! یہ دنیا حالات سے مقابلہ کرنے کا مقام ہے یہاں مسلسل جدوجہد (دست اور ضربت کاری) کی ضرورت ہے۔ میدان جنگ میں سکون کو تلاش نہ کر ورنہ فنا ہو جائے گا بلکہ حالات کا مردانہ وار سامنا کر۔

شعر ٣:

اس دنیا میں وہی قومیں، عزت کی زندگی بسر کر سکتی ہیں( سرمایہ حیات اُن ہی کو مل سکتا ہے) جو رات دن، خون دل جگر پیتی رہتی ہیں۔ یعنی جدوجہد کرتی رہتی ہیں. کیوں؟ اس لئے کہ فطرت لہو ترنگ ہے۔ جل ترنگ نہیں ہے۔ زندگی خون سے کھیلتی ہے پانی سے نہیں۔


Nazreen Se

Jab Tak Na Zindagi Ke Haqaeeq Pe Ho Nazar
Tera Zujaj Ho Na Sake Ga Hareef-e-Sang

Ye Zor-e-Dast-o-Zarbat-e-Kari Ka Hai Maqam
Maidan-e-Jang Mein Na Talab Kar Nawa-e-Chang

Khoon-e-Dil-o-Jigar Se Hai Sarmaya-e-Hayat
Fitrat ‘Lahoo Tarang’ Hai Ghafil! Na ‘Jal Tarang’

To Readers

Your glass can never match the stony rock,
Unless of facts with care you take the stock.

Give proof of strength and strike a dreadful blow,
When war is waging strains of harp forego.

The wealth of life is due to blood in veins,
O man remiss! love pain, shun melodious strains.

Dr. Allama Muhammad Iqbal R.A


تعارف:

‏انتساب کے بعد علامہ نے ناظرین سے خطاب کیا ہے اور تین شعروں میں ان کو بعض ان حقائق سے آگاہ کیا ہے۔ جن کے بغیر کوئی قوم دنیا میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔

تشریح و تبصرہ:

‏اقبال نے اسرار خودی پیام مشرق زبور عحجم، جاوید نامہ، اور” پس چہ باید کرو” ان سب کتابوں میں ناظرین سے خطاب کیا ہے( یہ دوسری بات ہے کہ قوم نے اس قلندر سے خطاب کو درخوراعتنا ہی نہیں سمجھا اس لیے اس کو گویوں اور قوالوں کے حوالہ کر دیا تاکہ وہ اچھی طرح اس کا پوسٹ مارٹم کر دیں، اور وہ نکتے بیان کر دئے ہیں جن پر غور کرنے سے کتاب کے مطالب بآسانی ذہین نشین ہو سکیں۔ اور کتاب لکھنے سے جو مقصد ہے وہ بدرجہ اتم حاصل ہوسکے چنانچہ ضرب کلیم میں بھی ناظرین سے خطاب کیا ہے۔

شعر ١:

فرماتے ہیں۔ کہ اے مسلمان! جب تک زندگی کے حقائق کو پیش نظر نہیں رکھے گا۔ تیری ذات یا شخصیت، جو باعتبار تخلیق، شیشہ کی طرح کمزور* ہے، حوارث روزگار کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
*ارشاد باری تعالی ہے:(وَخُلِقَ ٱلۡإِنسَـٰنُ ضَعِیفࣰا) (اور آدمی کمزور بنایا گیا ہے۔ القران 4:28)

جب تک زندگی کے حقائق کو پیش نظر نہیں رکھوں گے۔ تیری ذات جو شیشہ کی طرح کمزور ہے، حالات کا مقابلہ کرکے مضبوط پتھر کی چٹان کی طرح نہیں بن سکتا۔ کوئلے کے ٹکڑے کو ہیرا بننے کے لیے بہت کچھ جھیلنا پڑتا ہے۔ یہی معاملہ سونے کا ہے۔ سونا جب تک بھٹی میں تپتا نہیں‘ کندن نہیں بنتا اور یہ حقیقت صرف کوئلے یا سونے پر منحصر نہیں بلکہ دنیا کا ہر معاملہ ایسا ہی ہے۔ ہم میں سے بھی وہی تو آگے بڑھتا ہے، جو حالات کی سختی کو برداشت کرتے ہیں۔ حقائق سے نظریے چُرانے والے مشکلات میں گِھرے رہتے ہیں۔ مصائب کا سامنا کرنا ہی اِن سے نمٹنے کی بہترین صورت ہے۔ ہر آزمائش کے ساتھ ایک بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ جو مشکلات کا سامنا نہیں کرتے، وہ کبھی کامیابی بھی حاصل نہیں کرپاتے۔ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے اور اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا، جو اپنی حالت کو بہتر بنانے کی جدوجہد نہیں کرتے۔

‏واضح ہوں کہ اس شعر میں زندگی کے حقائق، کی جو ترکیب واقع ہوئی ہے، یہ اس خطاب یا اس کتاب کی جان نہیں ہے، بلکہ سارے فلسفہ اقبال کی کلید ہے. مرحوم ساری عمر اسی کوشش میں مصروف رہے کہ قوم:۔

‏حقائق حیات سے آگاہی حاصل کرے یعنی ان اٹل صداقتوں کا علم حاصل کرے جن پر بنی آدم کی حیات موقوف ہے اور اس آگاہی کے بعد ان صداقتوں کو ہمیشہ زندگی کے ہر شعبہ میں مدنظر رکھے۔

بقول پروفیسر یُوسف سلیم چشتی

علامہ نے ١٩٣٢ء میں ایک صحبت میں مجھ سے ارشاد فرمایا تھا کہ:۔

‏”مسلمان قوم، ایک عرصہ دراز سے حقائق سے بیگانہ ہوچکی ہے۔ اور ابتو فرار کی یہ کیفیت ہے کہ ہر حقیقت اور صداقت سے رو گرداں ہے۔ جس طرح شترمرغ صیاد کو دیکھ کر اپنا سر ریت میں چھپا لیتا ہے، اور سمجھتا ہے، کہ میں اس کی نگاہوں سے محفوظ ہوگیا۔ اس طرح مسلمان، مصائب کا مقابلہ کرنے کے بجائے خانقا ہوں، اور درگاہوں، اور حجروں میں اپنا سر چھپاتے پھرتے ہیں۔ لیکن یہ کوشش بلکل بے سود ہے مصائب حیات صرف مقابلہ کرنے سے دور ہو سکتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ قوم پر تن آسانی مسلط ہوچکی ہے، وہ جدوجہد سے نفور ہے۔ اس لیے زندگی سے دور ہے۔ جس طرح ایک فضول خرچ اور عیاش مقروض، مستقبل کے تصور سے گھبرا کر شراب اور موسیقی کے دامن میں پناہ لیتا ہے اس طرح میری قوم درگاہوں، خانقاہوں اور گنڈے تعویذوں میں سکون اور عافیت تلاش کرتی ہے۔”

‏پھر فرمایا سنو! میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اگر تم دنیا میں مشکلات پر غالب آنا چاہتے ہو تو ‘Face facts like a man’ (ایک مرد کی طرح حقیقتوں کا سامنا کرو)۔

یہ جملہ علامہ نے انگریزی میں ادا کیا تھا، اس لیے میں نے ابھی اسی طرح نقل کر دیا ہے۔ اس کی تشریح میں علامہ نے فرمایا تھا کہ مسلمان ایسے بزدل ہوگئے ہیں کہ اب حقائق کا مقابلہ نہیں کرسکتے اور ان سے اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح قصائی سے گائے پس تم حقائق کی اہمیت کا مردانہ وار اعتراف کرو، اور ان کے وجود کو تسلیم کرو”

‏’Face facts like a man’ کا مطلب یہ ہے کہ مثلا فضول خرچی سے انسان تباہ ہوجاتا ہے اب یہ ایک حقیقت ہے لیکن مسلمان چونکہ جانتا ہے کہ اس حقیقت پر غور کرنے سے یا اس کا اعتراف کرنے سے موجودہ عیش میں خلل پڑ جائے گا۔ اس کا مسلک تو یہ ہے۔

‏ ابتو آرام سے گزرتی ہے

عاقبت کی خبر خدا جانے

‏اس لیے وہ کبھی اس حقیقت پر غور نہیں کرتا۔ اور اگر کوئی شخص کو اس طرف متوجہ کرتا ہے، تو وہ فورا موضوع سخن بدل دیتا ہے”

‏اب میں چند سطور میں زندگی کے حقائق کی تشریح بھی کردو مناسب ہے ان کو چند مثالوں سے واضح کر دیا جائے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔ منجملہ حقائق خیات،

ایک حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اسی بات کا ثمرہ ملے گا، جس کے لیے وہ کوشش کرے۔

‏دوسری حقیقت یہ ہے کہ زید کو دوا پلانے سے بکرکا مرض دور نہیں ہوسکتا۔

‏تیسری ‏حقیقت یہ ہے کہ یہاں تنازع للبقاء اور بقائے اصلاح کا قانون کار فرما ہے۔

چوتھی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی سنت میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ مثلا اللہ نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ نیم کے بیج سے انار کا پودا نہیں اگ سکتا۔

گندم از گندم بردید جو ز جو

از مکافات عمل غافل مشو

پانچویں حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم اپنی حالت بدلنے کے لیے جدوجہد نہ کرے، اللہ بھی اس کی حالت نہیں بدلتا۔

‏چھٹی حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔

ساتویں حقیقت یہ ہے کہ جیسے کرنی ویسی بھرنی۔ آٹھویں حقیقت محنت کے بغیر راحت حاصل نہیں ہوسکتی۔

نویں حقیقت یہ ہے کہ جدوجہد سے حکومت ملتی ہے، حکومت سے دولت حاصل ہوتی ہے، دولت سے عیش و عشرت کا دروازہ کھلتا ہے عیش وعشرت کا نتیجہ تن آسانی ہے۔ تن آسانی کا نتیجہ محکومی اور غلامی ہے۔

‏دسویں حقیقت یہ ہے کہ جاہل آدمی اور حیوان، گھوڑا، گدھا، گاۓ، بیل، بکری، میں مقصد حیات کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے. یعنی جس طرح گھوڑے کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں، سوائے اس کے کہ وہ دوسروں کی گاڑی کھینچے، اس طرح جاہل فرد، یا قوم کی زندگی کا بھی کوئی مقصد نہیں، جزانیکہ وہ دیگر اقوام کی غلامی کرے اور ان کی آسائش کا سامان مہیا کرتا رہے. اب اس کتاب کے ناظرین سے دریافت کرتا ہوں کہ وہ ایک طرف ان حقائق کو مدنظر رکھیں، دوسری طرف مسلمان قوم کی زندگی پر تنقید نگاہ ڈالیں. کیا یہ ایک ناقابل تردید حقیقت نہیں ہے کہ مسلمان قوم صدیوں سے حقائق حیات سے بیگانہ ہو چکی ہے؟

‏اقبال کی پہلی اور سب سے بڑی نصیحت یہ ہے کہ زندگی کے حقائق کو ہر وقت پیش نظر رکھو۔ یہ طریقہ بالکل تباہ کن ہے۔ کہ تم گھروں میں فضول خرچی کرکے مقروض ہو جاؤ، اور مسجدوں میں خدا سے دعا کرو کہ اے اللہ ہماری پریشانی کو دور فرما” یاد رکھو تمہاری دعا مقبول نہیں ہوگی۔ کیونکہ اللہ اپنا قانون تمہارے لئے کیوں توڑ دے؟

‏انسان بہت کمزور ہے اگر وہ زندگی فطرت کے اٹل قوانین کو مدنظر نہیں رکھے گا، تو کشمکش حیات میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔

شعر ٢:

اے مسلمان! یہ دنیا میں عیش و آرام کی جگہ نہیں ہے، بلکہ زور دست اور ضربت کاری کا مقام ہے۔ یہ دنیا بساط رقص و سرورد اور محفل خودو نوش نہیں، بلکہ میدان جنگ ہے۔ بلکہ جدل وپیکار کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ جو قومیں سکون کی متلاشی ہیں۔ وہ فنا ہو جائیں گی۔ کیونکہ سکون کا لفظ، فطرت کے لغت میں کہیں مذکور نہیں ہے۔

بقول اقبال
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانہ میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانہ میں
‏سکون تو صرف قبر میں مل سکتا ہے۔ یہ دنیا سکون کے لیے نہیں بنائی گئ یہاں ہر وقت جدوجہد درکار ہے۔

‏فریب نظر ہے سکون و ثبات
‏تڑپتا ہے ہر ذرہ کائنات

‏‏دنیا کا قانون یا اصل اصول سکون نہیں، بلکہ تغیر اور انقلاب ہے یعنی حرکت، اور حرکت کے تسلسل کا نام جدوجہد ہے اور یہی مسلمان کی زندگی کی شناخت ہے۔

چناچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی 23 سالہ پیغمبرانہ زندگی اس حقیقت پر شاہد رہی ہے رسول اللہ ﷺ تادم وصال باطل نظریات کے خلاف دین اسلام کی تبلیغ کی جدوجہد کرتے رہے اور ظالموں کے خلاف شمشیر بکف رہے۔

نشاں یہی ہے زمانہ میں زندہ قوموں کا
‏ کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیری
‏القصہ جب یہ ثابت ہو چکا ہے دنیا میدان جنگ ہے تو اے مسلمان! تو میدان جنگ میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر، ضرب پہیم کا نمونہ اور نمونہ دکھا۔ نوائے چنگ درباب کی تمنا مت کر۔

شعر ٣:

اس دنیا میں وہی قومیں عزت کی زندگی بسر کر سکتی ہیں جو رات دن، خون پسینہ بہاتی ہیں یعنی محنت و جدوجہد کرتی ہیں۔ جو قوم جدوجہد کرتی ہیں انہیں کو زندگی گزارنے کے لئے مال و دولت حاصل ہوتا ہے۔ کیونکہ فطرت لہو ترنگ ہے۔ جل ترنگ نہیں ہے۔ زندگی خون سے کھیلتی ہے پانی سے نہیں۔

یہاں اقبال نے لفظ ترنگ سے شاعرانہ نکتہ پیدا کیا ہے. “جل ترنگ ایک باجہ کا نام ہے۔ جس کی صورت یہ ہے۔ کہ سات یا بارہ پیالوں میں مختلف مقدار میں پانی بھر کر نیم دائرہ کی شکل میں سامنے رکھ لیتے ہیں۔ اور لکڑی کے ٹکڑے سے پانی سے آوازیں پیدا کرتے ہیں۔

اقبال کہتے ہیں کہ فطرت، جل ترنگ نہیں، یعنی پانی سے نہیں کھیلتی۔ دوسرے معنی ہیں۔ کہ عیش وعشرت اور نغمہ وسرود کا نام نہیں. بلکہ لہو ترنگ ہے۔ یعنی خون سے کھیلتی ہے. بالفاظ دیگر، جدجہد مقابلہ اور پیکار کا نام ہے۔ یاد رکھو! دنیا میں وہی قومیں برسراقتداد آتی ہیں جو ہر وقت مصروفِ جدوجہد رہتی ہیں۔

اسی لیے قرآن مجید میں مسلمان کو ہر وقت جہاد فی سبیل اللہ کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔

(وَأَعِدُّوا۟ لَهُم مَّا ٱسۡتَطَعۡتُم مِّن قُوَّةࣲ وَمِن رِّبَاطِ ٱلۡخَیۡلِ تُرۡهِبُونَ بِهِۦ عَدُوَّ ٱللَّهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَءَاخَرِینَ مِن دُونِهِمۡ لَا تَعۡلَمُونَهُمُ ٱللَّهُ یَعۡلَمُهُمۡۚ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِن شَیۡءࣲ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِ یُوَفَّ إِلَیۡكُمۡ وَأَنتُمۡ لَا تُظۡلَمُونَ)

(اور ان کے لیے جتنی قوت ہوسکے تیار رکھو اور جتنے گھوڑے باندھ سکو تاکہ اس تیاری کے ذریعے تم اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو اور جو اُن کے علاوہ ہیں انہیں ڈراؤ، تم انہیں نہیں جانتے اوراللہ انہیں جانتا ہے اور تم جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا بدلہ دیا جائے گااور تم پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔ القران 8:60)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: