(Zarb-e-Kaleem-003) Tamheed

تمہید

(1)
نہ دیر میں نہ حرم میں خودی کی بیداری
کہ خاوراں میں ہے قوموں کی روح تریاکی
اگر نہ سہل ہوں تجھ پر زمیں کے ہنگامے
بری ہے مستی اندیشہ ہائے افلاکی
تری نجات غم مرگ سے نہیں ممکن
کہ تو خودی کو سمجھتا ہے پیکر خاکی
زمانہ اپنے حوادث چھپا نہیں سکتا
ترا حجاب ہے قلب و نظر کی ناپاکی
عطا ہوا خس و خاشاک ایشیا مجھ کو
کہ میرے شعلے میں ہے سرکشی و بے باکی

(2)
ترا گناہ ہے اقبال! مجلس آرائی
اگرچہ تو ہے مثال زمانہ کم پیوند
جو کوکنار کے خوگر تھے، ان غریبوں کو
تری نوا نے دیا ذوق جذبہ ہائے بلند
تڑپ رہے ہیں فضاہائے نیلگوں کے لیے
وہ پر شکستہ کہ صحن سرا میں تھے خورسند
تری سزا ہے نوائے سحر سے محرومی
مقام شوق و سرور و نظر سے محرومی

از- علامہ محمد اقبال ؒ
حوالہ: ضربِ کلیم


ترجمہ (1):

شعر ١:
نہ دیر میں نہ حرم میں خودی کی بیداری
کہ خاوراں میں ہے قوموں کی روح تریاکی

اب نہ ہی کلیسا میں اور نہ ہی مسجد میں خودی کا درس دیا جاتا ہے یعنی مسلم و غیر مسلم دونوں کو تزکیہ نفس، خود کو بلند کرنے، اپنی اصلاح کرنے، اندر کے انسان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی تعلیم وتربیت نہیں دی جاتی۔ مسلم و غیرمسلم مشرق و مغرب دونوں قوموں کے لوگ خواہشات کی افیون کے نشے میں مست سوئے پڑے ہیں۔ خواہشات کے نشے میں مدہوش لوگوں کی خودی کیسے جاگے گی؟

شعر ٢:

اگر نہ سہل ہوں تجھ پر زمیں کے ہنگامے

بری ہے مستی اندیشہ ہائے افلاکی

اگر زمین پر زندگی کے مسائل کا سامنا مردانہ وار نہیں کرو گے تو آسمان کی بلندیوں کو حاصل کرنے کا راز تم کھو دو گے۔

شعر ٣:
تری نجات غم مرگ سے نہیں ممکن
کہ تو خودی کو سمجھتا ہے پیکر خاکی

تیرا موت کے غم سے نجات حاصل کرنا ممکن نہیں کیونکہ تم خود (نفس، روح) کو بھی مٹی کے جسم کی طرح فانی سمجھتے ہو۔ لیکن اگر تم یہ یقین رکھو گے کہ تمہاری خودی (روح) موت کے بعد بھی باقی رہے گی تو پھر تمہیں موت کا کوئی ڈر نہ ہو گا۔

شعر ٤:
زمانہ اپنے حوادث چھپا نہیں سکتا
ترا حجاب ہے قلب و نظر کی ناپاکی

دنیا میں جو واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ان کے اسباب اور نتائج ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح ہے، جو صاحب نصر کی آنکھوں سے چھپ نہیں سکتے لیکن اگر تم اسباب اور نتائج کو نہیں دیکھ سکتے تو اس کا سبب تیرا دل اور تیری نظر کی ناپاکی ہے جو تیرے حق میں حجاب بن گئی ہے۔

شعر ٥:
عطا ہوا خس و خاشاک ایشیا مجھ کو
کہ میرے شعلے میں ہے سرکشی و بے باکی

مجھ ایشیا والے خستہ حال اور خاک و راکھ کی صورت میں ملے تاکہ ان کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے میں ان کو غیر خداوں کی غلامی کرنے کی بجائے نافرمانی اور بغاوت سکھاؤ۔ دوسرے الفاظ میں؛ میرے کلام میں اللہ نے بڑی تاثیر بخشی ہے، تاکہ میں سوئی ہوئی ایشیا کی قوم کو بیدار کردوں۔‏

ترجمہ (2)

شعر ١:

ترا گناہ ہے اقبال! مجلس آرائی
اگرچہ تو ہے مثال زمانہ کم پیوند

اگرچہ میں زمانہ کی مانند کم پیوند ہوں یعنی کسی سے تعلق نہیں رکھتا، لیکن اس کے باوجود میں نے مجلس آراستہ کر دی ہے یعنی بہت سے لوگ میرے ہمخیال ہوگئے ہیں۔

شعر ٢:

جو کوکنار کے خوگر تھے، ان غریبوں کو
تری نوا نے دیا ذوق جذبہ ہائے بلند

‏جو لوگ غلامی کی افیون کے عادی تھے، میں نے انہیں ہوشیار کردیا اور میرے کلام کی بدولت ان میں آزادی، اور حصول سروری کے جذبات پیدا ہوگئے۔

شعر ٣:

تڑپ رہے ہیں فضاہائے نیلگوں کے لیے
وہ پر شکستہ کہ صحن سرا میں تھے خورسند

اور وہ محکوم قومیں جو غلامی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ اب آزادی کی فضا میں سانس لینا چاہتی ہیں۔

شعر ٤:

تری سزا ہے نوائے سحر سے محرومی
مقام شوق و سرور و نظر سے محرومی

‏اس لئے اسلام کی مخالف طاقتیں، یہ چاہتی ہیں کہ کوئی صورت ایسی ہو، کہ میں نوائے سحر اور مقام شوق سے محروم ہو جاؤ، تاکہ محکوم قوموں کے اندر حریت کے جذبات پیدا نہ کر سکوں۔


Tamheed

Na Dair Mein Na Haram Mein Khudi Ki Baidari
Ke Khawaran Mein Hai Qoumon Ki Rooh Taryaki

Agar Na Sehal Hon Tujh Par Zameen Ke Hangame
Buri Hai Masti-e-Andaisa Haye Aflaki

Teri Nijat Gham-e-Marg Se Nahin Mumkin
Ke Tu Khudi Ko Samajhta Hai Paikar-e-Khaki

Zamana Apne Hawadas Chupa Nahin Sakta
Tera Hijab Hai Qalb-o-Nazar Ki Na-Paki

Atta Huwa Khs-o-Khashak-e-Asia Mujh Ko
Ke Mere Shaole Mein Hai Sarkashi-o-Bebaki!

Tera Gunah Hai Iqbal! Majlis Arayi
Agarche Tu Hai Misal-e-Zamana Kam Pewand

Jo Ko Kinar Ke Khugar The, In Ghareebon Ko
Teri Nawa Ne Dia Zauq-e-Jazba Haye Buland

Tarap Rahe Hain Faza Haye Neelgoon Ke Liye
Woh Par Shakista Ke Sehan Sara Mein The Khorsand

Teri Saza Hai Nawa-e-Sehar Se Mehroomi
Maqam-e-Shauq-o-Suroor-o-Nazar Se Mehroomi


The Prologue

In fane and shrine the self in slumber deep is sunk,
It seems that soul of East an opiate strong has drunk.

If freaks of Fate with smile on lips you can not face,
The secrets hid in firmament nʹre claim to trace.

Your anguish sharp for Death you can not keep at bay,
Because you deem that self is merely made of clay.

Time can conceal mishaps at all from you,
Alas! your heart and soul are foul and are not true.

The straws and thorns of East (Asia) to me have been assigned,
For flame that burns in me is rash and unconfined

Iqbal, you sin because the throngs you tingle,
Though keep aloof and seldom with them mingle.

Men wont to quaff extract from poppies drawn,
Have courage gained for deeds requiring brawn.

The birds, who spite of pinions rent were glad,
In nests, for azure sky now feel so sad.

You ought to be deprived of songs of morn,
Deserve to miss delight and feel forlorn.

Dr. Allama Muhammad Iqbal R.A


نظم کا تعارف:

انتساب‘ اور ‘ناظرین سے‘ کے بعد تمہید شروع ہوتی۔ اور اس کا عنوان کے تحت، اقبال نے اپنے خیالات دو حصوں میں ظاہر کئے ہیں یا یوں کہہ سکتے ہیں۔ کہ تمہید کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصہ میں انہوں نے ایشیائی اقوام سے عموما اور مسلمانوں سے خصوصا خطاب کیا ہے۔ اور بعض حقائق و معارف ان پر واضح کئے ہیں۔ دوسرے حصہ میں اپنے متعلق خود تبصرہ کیا ہے۔

تشریح و تبصرہ:

‏(1)

شعر ١: نہ دیر میں نہ حرم میں خودی کی بیداری الخ
فرماتے ہیں کہ موجودہ حالت یہ ہے کہ ایشیاء میں، نہ مسلمانوں کی خودی بیدار ہے، نہ غیر مسلموں کی. مسلم اور غیر مسلم دونوں اپنی خودی سے غافل ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرقی اقوام کی روح خوابیدہ ہے۔ خودی کی بیداری کے لئے ہوش شرط ہے۔ لیکن جو شخص یا قوم افیون کے نشہ میں مست ہو اس کی خودی کیسے بیدار ہو سکتی ہے؟
شعر ٢: جو قوم کشمکش حیات میں مبتلا ہو، اور چاروں طرف سے آفات میں محصور ہو، اس کو لازم ہے۔ کہ پہلے اس سے نجات حاصل کرے اگر وہ قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے بجائے فلسفہ اور منطق کے مسائل میں منہمک رہے، تو یہ انہماک اس کے حق میں بہت مضر ہے۔
شعر ٣: اے مخاطب! اگر تو اپنی نادانی سے خودی کو پیکر خاکی یعنی مادی شئے سمجھتا ہے تو پھر تو موت کے غم سے نجات نہیں پا سکتا۔ یعنی اگر کوئی مسلمان، اپنی جہالت سے یہ سمجھتا ہے کہ روح بھی جسم کی طرح فانی ہے، اور مرنے کے ساتھ ساتھ زندگی ختم ہو جائے گی تو وہ شخص بلاشبہ موت کے تصور سے لرزہ برامذام رہے گا۔ لیکن اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ میری خودی، موت کے بعد بھی باقی رہے گی تو پھر اسے موت کا کوئی ڈر نہ ہو گا۔
شعر ٤: ‏دنیا میں جو واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ان کا وقوع، مختلف النوع قوانین کا پابند ہے۔ اور ہر واقع کا جس طرح کوئی نہ کوئی سبب ہے، اسی طرح نتیجہ بھی ہوتا ہے۔ یعنی زمانہ ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح ہے، جسے ہر صاحب بصیرت پڑھ سکتا ہے لیکن اگر تم اسباب اور نتائج کو نہیں دیکھ سکتا تو اس کا سبب یہ ہے کہ تیرا دل اور تیری نظر دونوں نہ پاک ہیں۔ اور یہ ناپاکی تیرے حق میں حجاب بن گئی ہے۔
شعر ٥: ‏میرے کلام میں اللہ نے بڑی تاثیر بخش دی ہے. اور یہ اس لیے ہے. تاکہ میں اپنے کلام سے اشیاء والوں کو بیدار کردوں۔

(2)‏

تمہید کے دوسرے حصہ میں علامہ کہتے ہیں کہ
‏اگرچہ میں زمانہ کی مانند کم پیوند ہوں، کسی سے تعلق نہیں رکھتا، لیکن اس کے باوجود میں نے مجلس آراستہ کر دی ہے یعنی بہت سے لوگ میرے ہمخیال ہوگئے ہیں۔
‏جو لوگ پوست افیون کے عادی تھے، میں نے انہیں ہوشیار کردیا اور میرے کلام کی بدولت ان میں آزادی، اور حصول سروری کے جذبات پیدا ہوگئے۔
اور وہ محکوم قومیں جو غلامی کی زندگی میں خورسند تھیں۔ اب آزادی کی فضا میں سانس لینا چاہتی ہیں۔
‏اس لئے اسلام کی مخالف طاقتیں، یہ چاہتی ہیں کہ کوئی صورت ایسی ہو. کہ میں نوائے سحر اور مقام شوق سے محروم ہو جاؤ، تاکہ محکوم قوموں کے اندر حریت کے جذبات پیدا نہ کر سکوں۔


‏تمہید کے بعد اصل کتاب شروع ہوتی ہے۔ علامہ نے حسب ذیل عنوانات کے تحت اپنے افکار قلمبند کیے ہیں۔‏ اسلام اور مسلمان، تعلیم وتربیت، عورت، ادبیات فنون لطیفہ سیاسیات، مشرق ومغرب، اور محراب گل افغان کے افکار۔ بالفاظ دیگر انہوں نے ان عنوانات کے تحت انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبہ پر تنقید کی ہے اور ہر معاملہ میں اسلامی زوایہ نگاہ پیش کیا ہے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: