(Zarb-e-Kaleem-009) (زمین و آسمان) Zameen-o-Asman

زمین و آسماں

ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں
اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا

ہے سلسلہ احوال کا ہر لحظہ دگرگوں
اے سالک رہ! فکر نہ کر سود و زیاں کا

شاید کہ زمیں ہے یہ کسی اور جہاں کی
تو جس کو سمجھتا ہے فلک اپنے جہاں کا

از- علامہ محمد اقبال ؒ

Roman Urdu:

Zameen-o-Asman

Mumkin Hai Ke Tu Jis Ko Samajhta Hai Baharan
Auron Ki Nighahonmein Woh Mousam Ho Khazan Ka
Hai Silsila Ahwal Ka Har Lehza Dirgargoon
Ae Salik-e-Reh, Fikar Na Kar Sood-o-Zayan Ka
Shaid Ke Zameen Hai Ye Kisi Aur Jahan Ki
Tu Jis Ko Samajhta Hai Falak Apne Jahan Ka!

Dr. Allama Muhammad Iqbal R.A

English Translation:

زمین و آسماں

ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں
اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا

THE EARTH AND THE SKY
Perhaps the part of year that spring you deem, in others’ view destructive autumn it may seem.
ہے سلسلہ احوال کا ہر لحظہ دگرگوں
اے سالک رہ! فکر نہ کر سود و زیاں کا

The worldly affairs one pattern don’t retain, so pilgrim wise, think not of loss and gain.
شاید کہ زمیں ہے یہ کسی اور جہاں کی
تو جس کو سمجھتا ہے فلک اپنے جہاں کا

The thing you take for sky of earthly tract perhaps is soil of some other world in fact.
[Syed Akbar Ali Shah]


زمین وآسماں

دنیا میں انسانوں کے زاویائے نگاہ باہم مختلف ہوتے ہیں: زید کی نظر میں جو چیز مفید اور اچھی ہے. بکر کی نگاہ میں وہی چیز مضر اور بری ہے. علاوہ بریں جو شئے زید کے لیے مضر ہے. عین ممکن ہے کہ وہی شئے بکر کے لیے مفید ہو.

حقیقت یہ ہے کہ حالات کے بدلنے سے انسان کا زوایہ نگاہ بدل جاتا ہے. اور زوایہ نگاہ کے بدل جانے سے حالات بدل جاتے ہیں

لہذا جو بات آج موجب نقصان نظر آتی ہے وہی بات کل باعث نفع بن جاتی ہے. مثلاً ایک آدمی کے مکان میں نیم کا پیڑ کھڑا ہے. وہ اسے بہت برا سمجھتا ہے کیونکہ پتے بھی گرتے ہیں اور نمکولیاں بھی، اور دھوپ بھی نہیں آتی. وہ شخص اس درخت کو کٹوانے کی فکر میں ہے قضارا وہ مرض سودا میں مبتلا ہوجاتا ہے. اور طبیب اسے نیم کی چھال اور نمکولیوں کا مغز استعمال کرنے کا مشورہ دیتا ہے. تو وہی درخت جو کل تک برا تھا آج بیحد مفید بن جاتا ہے.

بس اسی طرح یہ سجھو کہ تم آسمان کو اونچا سمجھتے ہو. ممکن ہے اس کے اوپر کوئی اور عالم ہو. اور یہ آسمان اس عالم کے لیے بمنزلہ زمین ہو. یعنی جسے تم اونچا سمجھتے ہو. بالائے آسمان رہنے والے اسی کو نیچا سمجھتے ہیں..

(ا) ابو علی سینا، دسویں صدی عیسوی میں دنیائے اسلام کانامور حکیم اور فلسفی گذرا ہے. منطق فلسفہ اور طب میں ید طولیٰ رکھتا تھا. اس نے ارسطو کے فلسفہ کی شرح لکھی ہے اس کی دو کتابیں بہت مشہور ہیں. اشارات اور شفاء محتق طوسی نے اشارات کی شرح لکھی ہے اور یہ کتاب عام طور پر ہمارے عربی مدارس میں پڑھائی جاتی ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: