(Zarb-e-Kaleem-014) (ذکر و فکر) Zikar-o-Fikar

ذکر و فکر

یہ ہیں سب ایک ہی سالک کی جستجو کے مقام

وہ جس کی شان میں آیا ہے علم الاسما

مقام ذکر، کمالات رومی و عطار

مقام فکر، مقالات بوعلیسینا

مقام فکر ہے پیمائش زمان و مکاں

مقام ذکر ہے سبحان ربی الاعلی

سالک: راستہ چلنے والا۔

علم الاسما: قرآن کی اس آیت کی طرف آشارہ جس میں کہا گیا کہ آدم کو سارے اسماء سکھا دیے؛ مراد چیزوں یا اشخاص کے نام نہیں بلکہ اشیاء کے حقائق کا علم دے دیا۔

ذکر: تصوّف کی اصطلاح میں اللہ تعالے کا ذکر جس کے کئی صوفیانہ طریقے ہیں۔

فکر: اس سے مراد اللہ تعالے کی ذات و صفات اور اس کی آیات میں صوفیانہ نوع کی فکر ہے۔

سبحان ربي الاعلي: نماز کے سجدہ میں یہ الفاظ پڑھے جاتے ہیں جس کے معنی ہیں پاک ہے وہ ذات سب سے اعلی اور بالا ہے؛ مراد ہے اللہ کا ذکر کرنا۔

PRAISE OF GOD AND MEDITATION

These stops are for the pilgrim same, whose quest to respect has many claims to show his rank was brought to light, the verse ‘He taught him all the names’.

The mystics like Rumi and Attar, for homage to God have won such fame; Avicenna, because of books he wrote has won a great renown and name.

Mind can provide the ways and means that help in measuring Time and Space: Who bow to God and seek His Grace, enjoy the highest rank and place.

(Translated by Syed Akbar Ali Shah)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: