(Zarb-e-Kaleem-021) (جہاد) Jihad

جہاد

فتوی ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر

لیکن جناب شیخ کو معلوم کیا نہیں؟
مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سود و بے اثر

تیغ و تفنگ دست مسلماں میں ہے کہاں
ہو بھی، تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر
تفنگ: بندوق۔

کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کی موت مر

تعلیم اس کو چاہیے ترک جہاد کی
دنیا کو جس کے پنجہ خونیں سے ہو خطر
پنجہ خونيں: خون سے بھرا ہوا ہاتھ۔

باطل کی فال و فر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
فال و فر: شان و شوکت۔
دوش تا کمر: کندھے سے کمر تک۔

ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
کليسا نواز: گرجا نواز، عیسائیوں کو خوش کرنے والا۔

حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر
محاسبہ: پوچھ گچھ، احتساب۔

از: ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ
Jihad

Fatwa Hai Sheikh Ka Ye Zamana Qalam Ka Hai
Dunya Mein Ab Rahi Nahin Talwar Kargar

Lekin Janab-e-Sheikh Ko Maloom Kya Nahin?
Masjid Mein Ab Ye Waaz Hai Besood-o-Be-Asar

Taeg-o-Tufnag Dast-e-Musalman Mein Hai Kahan
Ho Bhi, To Dil Hain Mout Ki Lazzat Se Be-Khabar

Kafir Kimout Se Bhi Larazta Ho Jis Ka Dil
Kehta Hai Kon Usse Ke Musalman Ki Mout Mer

Taleem Uss Ko Chahye Tark-e-Jahad Ki
Dunya Ko Jis Ke Panja-e-Khoonain Se Ho Khatar

Batil Ke Faal-o-Far Ki Hafazat Ke Waste
Yourap Zira Mein Doob Gya Dosh Ta Kamar

Hum Poochte Hain Sheikh-e-Kalisa Nawaz Se
Mashriq Mein Jang Shar Hai To Maghrib Mein Bhi Hai Shar

Haq Se Agar Gharz Hai To Zaiba Hai Kya Ye Baat
Islam Ka Muhasiba, Yourap Se Darguzar!

Dr. Allama Muhammad iqbal r.a


جہاد

فتوی ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر

Struggle against evil
It is the verdict of the Shaikh that pen is stronger than the sword: ‘The sword has lost its might and force, tile pen has gained a firmer hold’.
لیکن جناب شیخ کو معلوم کیا نہیں؟
مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سود و بے اثر

But does not the august Shaikh take cognizance of this bitter fact: That this lecturing in the mosque can never make the least effect?
تیغ و تفنگ دست مسلماں میں ہے کہاں
ہو بھی، تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر
تفنگ: بندوق۔
In hands of Muslims of the world, where can the gun and sword be seen? If equipped with such deadly arms, to suffer death they won’t be keen.
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کی موت مر

At sight of heathen’s natural death, if one with fear and fright is filled; no one directs a man like that to get in Holy War be killed.
تعلیم اس کو چاہیے ترک جہاد کی
دنیا کو جس کے پنجہ خونیں سے ہو خطر
پنجہ خونيں: خون سے بھرا ہوا ہاتھ۔
A man, whose bloody claws for world with risk and danger much are fraught; must avoid the Holy Wars, to give up wars he must be taught.
باطل کی فال و فر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
فال و فر: شان و شوکت۔
دوش تا کمر: کندھے سے کمر تک۔
The West is bent to mount a guard on false, untrue pretentious show. It is armed with weapons dread, is clad in mail from top to toe.
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
کليسا نواز: گرجا نواز، عیسائیوں کو خوش کرنے والا۔
We like to ask the holy Shaikh, who holds the shrine in high esteem; if war for West is heinous crime, how far in East can harmless seem?
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر
محاسبہ: پوچھ گچھ، احتساب۔
A man concerned with truth alone can never this much proper deem that East for sins must reckoning face, but crimes by West may lighter seem.
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]


جہاد

اس نظم میں اقبال نے انگریزوں کی حمایت کرنے والی جماعت سے یہ سوال کیا ہے کہ اگر جہاد اور قتال بری بات ہے تو تم لوگ یورپ کو ترک جہاد کا مشورہ کیوں نہیں دیتے؟ آخرمسلمان، ہی سے کیوں  کہتے ہو کہ اے دوستو! اب جہاد کا خیال اپنے دل سے نکال دو
ُ(1) شیخ نے فتوی دیا ہے کہ یہ زمانہ قلم کا ہے یعنی اسلام قلم کے زور سے دنیا کے ادیان پر غالب آئے گا. اب مسلمانوں کو جہاد کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تلوار کارگر ہی نہیں رہی لیکن کیا جناب شیخ  اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں کہ مسجدوں میں یہ فقرہ اس گوہر آبدار سے ماخوذ ہے
اے دوستو! جہاد کا اب چھوڑ دو خیال دین کیلئے حرام ہے اب جنگ اور قتال یہ وعظ بالکل بے سود ہے؟

مسلمانوں کے پاس تلوار ہے کہاں جو جناب شیخ اسے نیام میں رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں اور اگر کسی مسلمان کے پاس تلوار ہے بھی تو اس کا دل جہاں کے جذبہ سے بالکل خالی ہوچکا ہے کیونکہ انگریزی حکومت صرف اسی مسلمان کو ہتھیار رکھنے کی اجازت دیتی تھی جس کے متعلق اسے یقین ہوتا تھا کہ یہ شخص کبھی اس ہتھیار کو ہمارے خلاف استعمال نہیں کرے گا صرف شیروں کا شکار کرکے ان کی کھالوں سے اپنے. “دربار ہال” کو سجا لیا کرے گا
جس مسلمان کی حالت یہ ہے کہ وہ کافر کی موت مرنا بھی نہیں چاہتا یعنی چارپائی پر ہی مرنا نہیں چاہتا، اس بزدل سے کون یہ کہہ سکتا ہے کہ تو ایک مسلمان کی موت مر۔ یعنی  درجہ شہادت حاصل کر!

نوٹ:۔ مسلمانوں کی اصطلاح میں چارپائی پر مرنا گویا کافر کی موت مرنا ہے اور مسلمان کی موت یہ ہے کہ میدان جنگ میں شہادت حاصل کی جائے چنانچہ دنیا اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ سلطان ٹیپو شہید مسلمان کی موت مرے اور نظام علی خاں کافر کی موت مرا۔
بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ سلطان شہید، مرے ہی نہیں، وہ تو زندہ  ہیں۔
دراصل جناب شیخ کو، اس قوم کو ترک جہاد کا مشورہ دینا چاہیے جس کی خونریری اور سفاکی سے ایک دنیا تنگ آ چکی ہے جس نے بلاوجہ سوڈان اور فلسطین، عراق اور ہندوستان میں مسلمانوں کا خون بہایا، اور مدتوں تک بلا سبب آزاد علاقہ ما بین پاکستان و افغانستان پر بمباری کی۔
اقوام یورپ اپنے باطل نظام اور غلط  عقائد حفاظت کے لئے ہر وقت جنگی تیاریوں میں مشغول ہیں
اگر اقوام مشرق کے لیے جنگ وجدال بری بات ہے تو یقینا اقوام مغرب کے لئے بھی یہ فعل مزموم  ہی ہے
اس لئے ہم کلیسا کی حمایت کرنے والے علماء سے یہ پوچھتے ہیں کہ اگر تم حق کی اشاعت کر رہے ہو تو یہ کیا  بات ہے، کہ مسلمانوں کو جنگ سے بچنے کی تلقین کرتے ہو، اور یورپ کو اس فعل سے باز نہیں رکھتے! اگر یورپ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اصول زندگی کی حمایت یا استحکام کے لیے تلوار اٹھا سکتا ہے تو مسلمان کو بھی یہ حق ضرور حاصل ہونا چاہیے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: