(Zarb-e-Kaleem-071) (مقصود) Maqsood

مقصود

سپنوزا

نظر حیات پہ رکھتا ہے مرد دانش مند

حیات کیا ہے، حضور و سرور و نور و وجود

فلاطوں

نگاہ موت پہ رکھتا ہے مرد دانش مند

حیات ہے شب تاریک میں شرر کی نمود

حیات و موت نہیں التفات کے لائق

فقط خودی ہے خودی کی نگاہ کا مقصود

اس نظم میں اقبال نے اپنے پیش کردہ مقصود, کا موازنہ دنیا کے دو مشہور حکیموں کے پیش کردہ مقصود سے کیا ہے. پہلے اسپنوز کی تعلیم پیش کی ہے. پھر افلاطون کی، اور آخر میں اپنا نظریہ پیش کیا ہے. 

اس نظم میں تین شعر ہیں، اور ہر شعر میں ایک فلسفی کے خیالات کا نچوڑ پیش کیا ہے. جب تک ان تینوں حکیموں کے فلسفہ سے پورے طور پر آگاہی نہ ہو، نہ شعروں کا مطلب پورے طور پر سمجھ میں آسکتا ہے، نہ اقبال کی ژرف نگاہی کا اندازہ ہوسکتا ہے. لیکن یہ شرح اس تفصیل کی متحمل نہیں ہو سکتی اس لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس کتاب میں تو صرف اشعار کی شرح پر اکتفا کروں، اور ان حکماء کے فلسفہ کی تفصیل ایک جداگانہ کتاب میں لکھوں، جس میں صرف یہی تین شعر ہوں، ناظرین کی آگاہی کے لیے اسپنوز اور افلاطون کے مختصر سوانح حیات درج کیے دیتا ہوں.

حکیم اسپنوز، یہودی الاصل تھا……. میں ہالنیڑ میں پیدا ہوا. ابتدا میں مذہبی تعلیم حاصل کی، لیکن فلسفہ کے مطالعہ کے بعد یہودی مذہب سے برگشتہ ہو گیا. چنانچہ…….. میں علمائے یہود نے اس کو جماعت سے خارج کردیا. انجام کار اس نے ہیگ میں مستقل سکونت اختیار کرلی . اور بقیہ عمر اسی شہر میں بسر کردی. وہ عینکوں کے شیشے پالش کرکے اپنی روزی کماتا تھا، اور خلوت میں فلسفیانہ تصانیت میں مشغول رہتا تھا. اس کی تصانیت میں علم الاخالق سب سے زیادہ مشہور ہوئی. اسی کتاب میں اس نے اپنا فلسفہ مدون کیا تھا. جو وحدۃ الوجود پر مبنی ہے…….. میں وفات پائی.

افلاطون، ملک یونان میں….. ق م میں پیدا ہوا تھا. پہلے مختلف استادوں سے فنون لطیفہ شاعری مصوری اور موسیقی، اور فلسفہ حاصل کیا. پھر……….. ق م میں سقراط کی شاگردی اختیار کی……….. ق م میں سقراط کی وفات کے بعد مصر اور دیگر ممالک کا سفر کیا. اگرچہ وہ بہت بڑا فلسفی اور منطقی تھا، لیکن شاعری اور تصوف کا بھی ذوق رکھتا تھا……… ق م میں وفات پائی.

اس کی تمام تصانیف ہم تک پہنچی ہے. ان میں سے مکالمات، اور جمہوریت بہت مشہور ہیں.

اس کے فلسفہ کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ دنیا جو آنکھوں سے نظر آتی ہے غیر حقیقی ہے، اسی لئے منفی ہے. اور یہ دنیا اسی کا ظل یا عکس ہے.

پہلے شعر میں اقبال نے یہ بتایا ہے کہ اسپنوزا کی رائے میں انسان کا مقصود یا نصب العین حیات ہے. اور حیات کی اعلے ترین صورت یہ ہے کہ ذی حیات، یعنی انسان کو خدا کی ہستی کا احساس ہوجائے. اور احساس سے اسے روحانی لذت یعنی سرور حاصل ہو. یہ سرور مستقل چیز ہے. اور انسان اس حالت سرور میں ابد تک رہے گا.

افلاطون کہتا ہے کہ حیات، شب تاریک میں شرر کی نمود سے زیادہ نہیں ہے. بس اس کی حقیقت اتنی ہی ہے جیسے اندھیری رات میں کوئی چنگاری ایک لمحہ کے لئے چمک فنا ہوجائے. یعنی حیات کوئی مستقبل چیز نہیں ہے. اس لیے “حیات” انسان کا مقصود نہیں ہو سکتی، بلکہ دانشمند وہ ہے جو موت کو مقصود بنائے. کیونکہ موت کے بعد انسان اس غیر حقیقی دنیا سے رہائی پاکر حقیقی دنیا میں داخل ہو جائے گا.

اقبال کہتے ہیں کہ انسان کا مقصود نہ زندگی ہے نہ موت ہے. بلکہ خودی ہے. یعنی اللہ نے انسان کو اس غرض سے پیدا کیا ہے کہ وہ اطاعت احکام الہی یا اتباع شریعت کی بدولت اپنی خودی کی منفی قوتوں کو بروئے کا رالا کر خلافت الٰہیہ کا مستحق بن سکے. جو شخص ان منفی قوتوں کوبروئے کار نہیں لاتا. وہ اپنی تخلیق کے منشا سے بیگانگی کا ثبوت دیتا ہے. پس اس کی زندگی اور موت یا اس کا وجود اور عدم دونوں یکساں ہیں. اللہ نے انسان کو اسی لئے پیدا کیا ہے. کہ وہ اپنے نفس کا تزکیہ کرے، تاکہ فلاح پائے. 

……….. اس پر دال ہے. پس اصلی مقصود “فلاح” ہے اور یہ منحصر ہے تزکیہ نفس پر، جسے اقبال اپنی اصطلاح میں استحکام خودی سے تعبیر کرتے ہیں.

GOAL

Spinoza: On life is fixed tile gaze of persons bright, what is life? Presence; being, joy and light.

Plato: A wise man knows that ‘fore death he must bow, in pitch dark night, life, ike spark, soon loses glow.

Both life and death deserve not any heed the Self of man is Ego’s goal and need.

[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: