(Zarb-e-Kaleem-022) (قوت اور دین) Quwwat Aur Deen

قوت اور دین

اسکندر و چنگیز کے ہاتھوں سے جہاں میں
سو بار ہوئی حضرت انساں کی قبا چاک

تاریخ امم کا یہ پیام ازلی ہے
‘صاحب نظراں! نشہ قوت ہے خطرناک،

اس سیل سبک سیر و زمیں گیر کے آگے
عقل و نظر و علم و ہنر ہیں خس و خاشاک

لا دیں ہو تو ہے زہر ہلاہل سے بھی بڑھ کر
ہو دیں کی حفاظت میں تو ہر زہر کا تریاک
زہر ہلاہل: ہلاک کر دینے والی مہلک زہر ۔

از: ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ


قوت اور دین

اسکندر و چنگیز کے ہاتھوں سے جہاں میں
سو بار ہوئی حضرت انساں کی قبا چاک

AUTHORITY AND RELIGION
Autocrats like Alexander and Changez, have trampled men beneath their feet; not once but hundred times so far, they brought man down from honoured seat.
تاریخ امم کا یہ پیام ازلی ہے
‘صاحب نظراں! نشہ قوت ہے خطرناک،

The annals right from historic dawn the message eternal bear as such: ‘O man, with insight great endowed, the wine of might is dangerous much.’
اس سیل سبک سیر و زمیں گیر کے آگے
عقل و نظر و علم و ہنر ہیں خس و خاشاک

Before this quickly flowing flood that spreads to all the tracts with speed art, insight, intellect and science; are carried along like straw and reed.
لا دیں ہو تو ہے زہر ہلاہل سے بھی بڑھ کر
ہو دیں کی حفاظت میں تو ہر زہر کا تریاک
زہر ہلاہل: ہلاک کر دینے والی مہلک زہر ۔
Divorced from Faith, a poison strong, when propped by Faith and true belief, ‘gainst poison works with speed, and proves a source of much relief.
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)


Quwwat Aur Deen

Iskandar-o-Changaiz Ke Hathon Se Jahan Mein
Sou Bar Huwi Hazrat-e-Insan Ki Qaba Chaak

Tareekh-e-Ummam Ka Ye Payam -e-Azali Hai
‘Sahib Nazaran ! Nasha-e-Quwwat Hai Khatarnaak’

Iss Seel-E-Subaq Sair-o-Zameengeer Ke Agay
Aqal-o-Nazar-o-Ilm-o-Hunar Hain Khs-o-Khashak

La-Deen Ho To Hai Zahr-E-Halahil Se Bhi Barh Kar
Ho Deen Ki Hifazat Mein To Har Zehr Ka Tiryaak

Dr. Allama Muhammad iqbal r.a


قوت اور دین

اس نظم اقبال نے طاقت اور مذہب کے باہمی رشتہ کو واضح کیا ہے کہتے ہیں کہ
تاریخ شاہد ہے کہ سکندر اور چنگیز، ہلاکو اور نادر شاہ اور اسی قسم کے دوسرے فاتحین نے بلا وجہ بنی آدم کا خون بہایا۔
غرض تاریخ کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قوت کا نشہ بہت خطرناک ہوتا ہے۔
یہ قوت کا نشہ ایسا زبردست سیلاب ہے کہ اس کے آگے عقل اور ایمان، علم اور ہنر سب تنکوں کی طرح بہہ جاتے ہیں۔ کوئی چیز حکومت کے نشہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
اگر طاقت کا یہ نشہ، دین کے زیر اثر نہ ہو، یعنی اگر اس طاقتورحکمراں یا فاتح کے اندر خوف خدا نہ ہو تو تمام دنیا میں ہلاکت برپا کرسکتا ہے۔ لیکن اگر وہ قوت، دین کی حفاظت میں صرف کی جائے تو وہ تو پھر وہی زہر تریاق بن جاتا ہے  اور وہ بادشاہ ہر کمزور کا حمایتی اور حق وصداقت کا علمبر دار بن جاتا ہے۔ چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ فاروق اعظم سلطان نور الدین زنگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی، دنیا اور دنیا والوں کے لئے مجسم رحمت تھے۔


جناب فاروق اعظم کا زمانہ خلاف بلاشبہ نبی آدم کے حق میں رحمت تھا، جب آپ بیت المقدس کے گرجہ میں تشریف لے گئے تو وہاں نماز کا وقت آگیا نصاری نے عرض کی کہ آپ یہیں نماز پڑھ لیجئے لیکن آپ نے یہ کہہ کر گرجہ کے اندر نماز پڑھنے سے انکار فرمایا کہ ممکن ہے میرے بعد مسلمان اس گرجہ کو مسجد قرار دے کر تم لوگوں کو اس مقام سے محروم کر دیں، کیا یہ ایک واقعہ آپ کے مجسم رحمت ہونے کا ثبوت نہیں ہے؟

سلطان عادل نور الدین محمود زنگی، دوسری صلیبی جنگ کا ہیرو. ١١٤٦؀ تحت نشین ہوا۔ یہ سلطان نہایت عادل، رحمدل، علم دوست، غریب نواز، رعایا پرور، اور اسلام دوست تھا اس کی صفات حمیدہ کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ اس کے دشمن اس کی مدح پر مجبور تھے چنانچہ ولیم بشپ آف ٹائر لکھتا ہے کہ نورالدین اگرچہ نصاری کا شدید ترین دشمن تھا، لیکن نہایت عادل، حوصلہ مند، عقلمند، اور اپنی قومی روایات کے اعتبار سے مذہب دوست تھا  اس کے عہد حکومت میں کوئی دولت مند کسی غریب کو کسی قسم کا آزاد نہیں پہنچا سکتا تھا، اس کی معدلت شعاری کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ اس کی وفات کے بعد اگر کوئی شخص کسی پر ظلم کرتا تو، مظلوم اس کی قبر پر جاکر، فریاد کیا کرتا تھا اے سلطان تیری وفات کے بعد، دنیا کے لوگ پھر ظلم و ستم پر ماۂل ہوگۓ ہیں ١١٧٤؀ء میں وفات پائی۔


سلطان صلاح الدین ایوبی کی رحمدلی کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ عسائیوں نے جب بیت المقدس فتح کیا تو ساٹھ ہزار مسلمانوں کو تہ تیغ کردیا۔ جن میں عورتیں بچے اور بوڑھے بھی شامل تھے لیکن جب سلطان نے اس  شہر کو فتح کیا تو سب کو معاف کر دیا. اور اجازت دیدی کہ چالیس دن کے اندر شہر کو خالی کر دیں، اور سلطان کی مملکت میں جہاں چاہیں آباد ہوجاہیں۔ اگرچہ ہر مرد پر دس
دینار، اور ہر عورت پر پانچ دینار، اور ہر بچے پر ایک دینار زر فدیہ عاۂد کیا گیا تھا۔ لیکن دس ہزار نادار عسیاۂیوں کا زر فدیہ خود سلطان نے ادا کیا۔ اور کئی ہزار آدمیوں کا فدیہ معاف کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ سلطان نے بیوہ عورتوں، اور یتیموں کو اپنے پاس سے بہت سا روپیہ دیا۔اور کسی شخص کو قتل نہیں کیا۔
میرا خیال ہے کہ یورپ کی تاریخ اس رحم دلی اور انسانیت کی، ایک مثال بھی پیش نہیں کر سکتی۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: