(Zarb-e-Kaleem-023) (فقر و ملوکیت) Faqar-o-Malookiyat

فقر و ملوکیت

فقر جنگاہ میں بے ساز و یراق آتا ہے
ضرب کاری ہے، اگر سینے میں ہے قلب سلیم
ساز و یراق: ساز و سامان۔
جنگاہ: میدان جنگ۔

اس کی بڑھتی ہوئی بے باکی و بے تابی سے
تازہ ہر عہد میں ہے قصہ فرعون و کلیم

اب ترا دور بھی آنے کو ہے اے فقر غیور
کھا گئی روح فرنگی کو ہوائے زروسیم

عشق و مستی نے کیا ضبط نفس مجھ پہ حرام
کہ گرہ غنچے کی کھلتی نہیں بے موج نسیم

از: ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ


فقر و ملوکیت

فقر جنگاہ میں بے ساز و یراق آتا ہے
ضرب کاری ہے، اگر سینے میں ہے قلب سلیم
ساز و یراق: ساز و سامان۔
جنگاہ: میدان جنگ۔
POVERTY AND MONARCHY
Faqr goes to war unequipped, unarmed with glee; it deals dire blows, if heart of sins is free.
اس کی بڑھتی ہوئی بے باکی و بے تابی سے
تازہ ہر عہد میں ہے قصہ فرعون و کلیم

Its defiance and unrest, ever on increase give tale of Moses and Pharoah fresh release.
اب ترا دور بھی آنے کو ہے اے فقر غیور
کھا گئی روح فرنگی کو ہوائے زروسیم

O zealous Faqr, you will get your grandeur old, the Frankish soul is stained with greed of wealth and gold.
عشق و مستی نے کیا ضبط نفس مجھ پہ حرام
کہ گرہ غنچے کی کھلتی نہیں بے موج نسیم

Ecstatic Love forbids control of heart without breeze the petals do not part.
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)


Faqr-o-Mulookiat

Faqr Jingah Mein Be-Saaz-o-Yaraak Ata Hai
Zarb Kari Hai,Agar Seene Mein Hai Qalb-e-Saleem

Iss Ki Barhti Huwi Bebaki-o-Betabi Se
Taza Har Ehad Mein Hai Qissa-e-Firon-o-Kaleem

Ab Tera Dour Bhi Ane Ko Hai Ae Faqr-e-Ghayoor
Kha Gyi Rooh-e-Farangi Ko Hawa-e-Zar-o-Seem

Ishq-o-Masti Ne Kiya Zabt-e-Nafs Mujh Pe Haram
Ke Girah Ghunche Ki Khulti Nahin Be-Mouj-e-Naseem

Dr. Allama Muhammad iqbal r.a


فقر اور موکیت

اس نظم میں اقبال نے روح اسلام (فقر) او موکیت کا موازنہ پیش کیا ہے۔کہتے ہیں کہ
دنیا میں پرست بادشاہ تو ظاہری سازوسامان پر بھروسہ کرتے ہیں، لیکن جب لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، وہ لوگ صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اور سازوسامان کی چنداں پرواہ کرتے۔ اگر میسر آجائے تو بہت خوب ورنہ وہ لوگ بے ساز و سامان ہی میدانے جہاد میں کود کود پڑتے ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ اگر سینوں میں اللہ اور اس کے رسول صل وسلم کی محبت موجزن ہو تو مجاہد فی سبیل اللہ دشمنوں پر بجلی بن کر گرتا ہے۔
اور ایسی بے گری اور بہادری سے لڑتا ہے کہ ہر دور میں فرعون اور کلیم واقعہ تازہ ہو جاتا ہے۔
اب اقبال روح بدل کر کہتے ہیں اے مسلمانو! اگر تمہارے پاس  سازوسامان کی کمی ہے، تو ہرگز آزردہ خاطر نہ ہونا۔ ا سلام کی کامیابی کا دور عنقریب آنے والا ہے کیونکہ اقوام یورپ کے سامنے کوئی اخلاقی نصب العین نہیں ہے۔ وہ سب دولت اور استعمار کی حرص میں مبتلا ہیں، اور اس ناپاک  جذبہ کی بنا پر ان کی اخلاقی حالت بالکل تباہ ہوچکی ہے۔ میں شاید اس حقیقت کو ابھی واضح نہ کرتا لیکن جس طرح موج نسیم سے غنچہ شگفتہ ہو جاتا ہے، اس طرح عشق و مستی نے مجھے اظہار حق پر مجبور کردیا ہے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: