(Zarb-e-Kaleem-101) (پردہ) Parda

پردہ
بہت رنگ بدلے سپہر بریں نے
خدایا یہ دنیا جہاں تھی، وہیں ہے

سپہر بريں: آسمان۔
زن و شو: بیوی اور شوہر۔
تفاوت: فرق۔

تفاوت نہ دیکھا زن و شو میں میں نے
وہ خلوت نشیں ہے، یہ خلوت نشیں ہے

ابھی تک ہے پردے میں اولاد آدم
کسی کی خودی آشکارا نہیں ہے

Parda
Bohat Rang Badle, Sipihr-e-Bareen Ne
Khudaya Ye Dunya Jahan Thi, Wahin Hai
(Sipihr = Aasman)

Tafawuf Na Dekha Zan-o-Sho Mein Main Ne
Woh Khalwat Nasheen Hai, Ye Khalwat Nasheen Hai

Abhi Tak Hai Parde Mein Aulad-e-Adam
Kisi Ki Khudi Ashakara Nahin Hai

Veil
Great change the lofty spheres have met,
O God! the world has not budged as yet.
In man and wife is no contrast,
They like seclusion and hold it fast.
The sons of Adam still wear the mask,
But self hasnʹt peeped out of the casque.


VEIL
Great change the lofty spheres have met, O God! The world his not budged as yet.
In man and wife is no contrast, they like seclusion and hold it fast.
The sons of Adam still wear the mask, but self hasn’t peeped out of the casque.
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)

 

پردہ
(پہلی)
اس نظم میں اقبال نے ایک عجیب نکتہ پیدا کیا ہے عام طور سے “پردہ” کو عورت سے مخصوص سمجھا جاتا ہے یعنی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف عورت پردہ کرتی ہے مرد پردہ نہیں کرتے لیکن اقبال کہتے ہیں کہ دونوں پردہ میں ہیں. کہتے ہیں کہ
اگرچہ دنیا میں بہت سے انقلاب آئے لیکن یہ دنیا جہاں تھی، وہیں ہے. میں نے عورت اور مرد میں کوئی تفادت نہیں دیکھا دونوں خلوت نشین ہیں. بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ اولادآدم ابھی تک پردہ میں ہے کیونکہ ابھی تک کسی نے اپنی خودی کو پردہ سے باہر نہیں نکالا. 
‏اقبال کہتے ہیں کہ لوگ غلط کہتے ہیں کہ صرف عورت پردہ میں ہے. میں کہتا ہوں کہ دونوں پردہ میں ہیں. کیونکہ ان کی خودی پردہ میں ہے. یعنی اس نظم میں انہوں نے نہایت ےدلپلز یر انداز میں ہمیں اظہار خودی کی طرف راغب کیا ہے.

 

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: