(Zarb-e-Kaleem-103) (عورت) Aurat

عورت

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
مکنوں: پوشیدہ، چھپا ہوا۔
WOMAN
The picture that this world presents from woman gets its tints and scents’; she is the lyre that can impart pathos and warmth to human heart.
شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں
درج: ڈبہ۔
Her handful clay is superior far to Pleiades that so higher are for every man with knowledge vast, like gem out of her cask is cast.
مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی، لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں

Like Plato cannot hold discourse, nor can with thunderous voice declaim but Plato was a spark that broke from her fire that blazed like flame.
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)



عورت


اس نظم میں اقبال نے ہمیں عورت کہ حقیقی مرتبہ اور مقام سے آگاہ کیا ہے. خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ ذہنی اعتبار سے عورت فروتر ہے اور یہی وجہ آج تک کوئی عورت نہ نبی ہوئی ہے. نہ فلسفی یا منطقی، لیکن انبیاء اور حکماء دونوں نے پرورش اسی کی آغوش میں پائی ہے کہتے ہیں کہ

عورت کا وجود اس دنیا کی خوبصورتی کا باعث ہے. اور مردوں کی زندگی میں جو کچھ سوزودروں پایا جاتا ہے. اس کا باعث یہ ہے کہ وہ ہم سے موافقت پیدا کر سکتی ہے. اگر اس کا ساز دریافت ہماری زندگی میں شامل نہ ہو تو ہمارے اندر سوزو گرمی پیدا نہیں ہوسکتا. یعنی وہ ہم سے مانوس ہو کر ہماری زندگی کو پرکیف بنا دیتی ہے.

اس کی مثت خاک، پاکیزگی اور شرافت میں ثریا سے بھی اونچی ہے. بلکہ تو یہاں تک کہتا ہوں کہ دنیا میں جہاں کہیں شرافت پائی جاتی ہے. اس کا مبلغ عورت ہی کی ذات ہے.

یہ سچ ہے فلسفہ میں کوئی بلند پایہ کتاب تصنیف نہ کر سکی لیکن یہ شرف اس کے لیے کیا کم ہے کہ وہ فلاسفہ کو عالم وجود میں لائی اور اس نے ساری دنیا کے حکماء کو اپنی آغوش میں پالا اور اس لائق بنایا کہ وہ فلسفہ طرازی کرسکیں.

نوٹ:
” مکالمات افلاطون” افلاطون کی تعلیم اور فلسفیانہ خیالات کے مختلف مجموعے ہیں جو اس کی تصانیت میں سب سے زیادہ مشہور ہیں.
اس نظم سے، ناظرین کی انداز ہوسکتا ہے. کہ اقبال، عورت کو کس قدر عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے لیکن وہ اس بے پردگی اور بے حیائی کے سخت خلاف تھے جو مسلمان عورتیں، محض یورپ کی کورانہ تقلید اور اپنے شوہروں کی کوتاہ بننی کی وجہ سے اختیار کرتی جاتی ہے اور قیام پاکستان کے بعد تو یہ مرد علاج کی سرحد سے بہت آگے گزر چکا ہے. میرے خیال میں بہت اچھا ہوا کہ اقبال دنیا میں موجود نہیں ورنہ اگر وہ آج کراچی میں دختران ملت کا ذوق نمائش دیکھتے تو شاید اپنی تمام تصانیت کو نذر آتش کر کے تبت میں سکونت اختیار کر لیتے!

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close