(Zarb-e-Kaleem-105) (عورت کی حفاظت) Aurat Ki Hifazat

عورت کی حفاظت
اک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور
کیا سمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہو سرد
مستور: چھپی ہوئی۔

نے پردہ، نہ تعلیم، نئی ہو کہ پرانی
نسوانیت زن کا نگہباں ہے فقط مرد

جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد

 

Aurat Ki Hifazat
Ek Zinda Haqiqat Mere Seene Mein Hai Mastoor
Kya Samjhe Ga Woh Jis Ki Ragon Mein Hai Lahoo Sard

Ne Parda, Na Taleem, Nayi Ho Ke Purani
Niswaniyat-e-Zan Ka Nigheban Hai Faqt Mard

Jis Qoum Ne Iss Zinda Haqiqat Ko Na Paya
Uss Qoum Ka Khursheed Bohat Jald Huwa Zard

 

Protection Of The Woman
A fact alive is in my breast concealed,
He can behold whose blood is not congealed.

To wear a veil and learn new lore or old,
Canʹt guard fair sex except a person bold.

A nation which canʹt see this truth divine,
Pale grows its son and soon begins decline.
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)

عورت کی حفاظت
اس نظم میں اقبال نے عمرانیات کا ایک زبردست نکتہ بیان کیا ہے جس کی اہمیت نہ پہنچاننے  کی وجہ سے یورپ کا معاشرتی نظام تہ بالا ہو چکا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے عورت کو فطری طور پر کمزور بنایا ہے وہ اپنی اور اپنی عصمت کی حفاظت کے لیے مرد کی محتاج ہے. 
رضیہ سلطانہ اور چاند بی بی اور لکشمی بائی سب جانتے ہیں کہ کسی قدر بہادر عورتیں گزری ہے ان تینوں نے گھوڑے پر سوار ہوکر میدان جنگ میں دشمنوں کا مقابلہ اور فوجوں کی رہنمائی کی. لیکن اس کے باوجود تینوں (شوہر) کی محتاج تھیں یعنی مرد کی حمایت اور حفاظت کے بغیر زندگی بسر نہ کر سکیں. ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا یا اپنے طرز عمل سے یہ ثابت نہیں کیا کہ مجھے مرد شوہر کی ضرورت نہیں ہے. عورت تھوڑے پر سوار ہو کر، تلوار چلا سکتی ہے، بلکہ تحت سلطنت پر بیٹھ کر حکومت بھی کرسکتی ہے، لیکن اپنی نسوانیت کی حفاظت نہیں کرسکتی. 
کہتے ہیں کہ ایک زندہ حقیقت میرے دل میں چھپی ہوئی ہے جسے میں بیان نہیں کر سکتا ہوں لیکن جو شخص بے غیرت ہے وہ اسے کیا سمجھ سکتا ہے؟ 
وہ حقیقت یہ ہے کہ نسوانیت زن ( عورت کا عورت پن) کی حفاظت نہ پردہ سے ہوسکتی ہے نہ تعلیم قدیم ہے، نہ تعلیم جدید سے بلکہ صرف (مرد) اس کی نسوانیت کی حفاظت کر سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ جارج ششم نے جو بھی اپنی بیٹی کی شادی کردی حالانکہ وہ عہد ہے
اور آئندہ خود انگاستان کی ملکہ بن جائے گی. 
‏جس قوم نے اس کو نہ سمجھا وہ بہت جلد تباہ ہو جائے گی. 
‏یورپ نے بحیثیت مجموعی اس نکتہ کو فراموش کر دیا ہے. وہاں آزادی نسواں کا مہفوم یہ ہے کہ عورت خود اپنی نسوانیت کی حفاظت کر سکتی ہے. حالانکہ یہ حلاف فطرت ہے. اور چونکہ خلافت فطرت ہے. اس لیے یورپ کا معاشرتی نظام بالکل تہ وبالا ہو چکا ہے اور عنقریب جو حال رومۃ الکبری کا ہوا تھا وہی اس مہذب خطۃ ارض کا ہونے والا ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: