(Zarb-e-Kaleem-108) ( دین و ہنر) Deen-o-Hunar

دین و ہنر

سرود و شعر و سیاست، کتاب و دین و ہنر
گہر ہیں ان کی گرہ میں تمام یک دانہ

يک دانہ: منفرد۔
سرود: موسیقی۔

ضمیر بندہ خاکی سے ہے نمود ان کی
بلند تر ہے ستاروں سے ان کا کاشانہ

کاشانہ: رہنے کی جگہ۔

اگر خودی کی حفاظت کریں تو عین حیات
نہ کر سکیں تو سراپا فسون و افسانہ

ہوئی ہے زیر فلک امتوں کی رسوائی
خودی سے جب ادب و دیں ہوئے ہیں بیگانہ


اس نظم میں اقبال نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ دین اور ہنر (آرٹ) میں کیا رشتہ ہے؟ واضح ہوکہ انیسویں صدی میں یورپ کے ملحدو‍ں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ مذہب یورپ میں صرف مذہب پایاجاتاہے وہاں کے حکماء دین کے مفہوم سے بیگانہ ہیں. اور آرٹ میں کوئی رشتہ نہیں ہے. نیز آرٹ مقصود بالذات شئے ہے. اس کو انگریزی میں “فن برائے فن، یعنی کے نظریہ سے تعبیر کرتے ہیں.

یہ ملحدانہ نظریہ، تہذیب مغرب کے ناپاک شانوں پر سوار ہوکر ہندوستان میں اس نظام تعلیم کی بدولت بآسانی شائع ہوگیا جسے فرنگیوں نے ہمارے سر پر مسلط کردیا ہے، اور ہماری قوم کے ان بدنصیب نوجوانوں نے جو یورپ کے ملحدانہ خیالات کا شکار ہو چکے ہیں، اس کو بڑی خوشی سے قبول لرلیا. کیونکہ یہ نظریہ ان کے خیالات کے عین مطابق ہے. اور اس کا نام انہوں نے اپنے زعم باطل کی روسے”ترقی پسند ادب” رکھا. حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ادب انسانوں کو حیوانوں کی صف میں لاکو کھڑا کر دیتا ہے. اور آج ہندوستان اور پاکستان میں ہر قسم کی عریاں نگاری فحاشی اس ادب کے نام سے فروغ پارہی ہے اور قوم کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دونوں، زہر کے پیالہ کو آب حیات سمجھ کر نوش جان ناتواں فرمارہے ہیں! علامہ مرحوم نے اس نظریہ کی تردید میں اپنا زور قلم پورا صرف کردیا ہے. چنانچہ فرماتے ہیں کہ:۔

موسیقی ہو یا شاعری؟ سیاست ہو یا علم دفن، دین ہویا آرٹ یہ سب انسانی زندگی کے لئے مفید ہو سکتے ہیں. انسان ان سب چیزوں سے فوائد حاصل کرسکتا ہے. ان کی اصل، انسانی ضمیر میں پوشیدہ ہے اور ان کا مقام بہت اونچا ہے. 

‏لیکن یہ سب انسانیت کے خادم ہیں. یعنی اگر ان علوم و فنون سے انسان کی خودی مستحکم ہو سکے تو لائق ستائش ہیں. ورنہ سب فضول ہیں. آرٹ اور زندگی میں یہ رشتہ ہے کہ آرٹ (فنون لطیفہ) کی زندگی کا خادم ہے. فن بڑائے فن کا نظریہ غلط ہے یعنی فن مقصود بالذات نہیں ہے انسانی شخصیت، فنون لطیفہ کی کسوٹی ہے. جو فن، انسانیت کو بلند کر سکے وہ اچھا ہے اور جس فن سے انسانیت تنزل کی طرف اس مائل ہو وہ برا ہے. اس معیار کی روسے “ترقی پسند ادب” مسلمانوں کی نظر میں مذموم ہے. 

‏ یاد رکھو! اگر ادب اور آرٹ کو، دین کی قید سےآزاد کردیا جائے تو یہ دونوں بیکاری ہی نہیں، بلکہ مضر ہو جاتے ہیں اور جو قومیں ادب اور آرٹ کو دین کا بندہ نہیں بتاتیں وہ ہلاک ہوجاتی ہیں. چنانچہ اٹلی فرانس، اسپین وغیرہ تباہ کے دروازہ پر کھڑے ہیں.


دین و ہنر

سرود و شعر و سیاست، کتاب و دین و ہنر 
گہر ہیں ان کی گرہ میں تمام یک دانہ

يک دانہ: منفرد۔|
سرود: موسیقی۔

RELIGION AND CRAFTS
Verse, music, rule, lore, creed and crafts enshrine, pearls sublime that with lustre glow and shine.

ضمیر بندہ خاکی سے ہے نمود ان کی 
بلند تر ہے ستاروں سے ان کا کاشانہ

کاشانہ: رہنے کی جگہ۔

 

Out from the brain of clay-born man they race, far higher than the stars, their dwelling place.

اگر خودی کی حفاظت کریں تو عین حیات 
نہ کر سکیں تو سراپا فسون و افسانہ


If they preserve the Self, life is ideal true, else life is tale or legend through and through.

ہوئی ہے زیر فلک امتوں کی رسوائی 
خودی سے جب ادب و دیں ہوئے ہیں بیگانہ

When Faith and word with Self lose contact, then nation’s self-esteem can’t keep intact.
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: