(Zarb-e-Kaleem-151) (اشتراکیت) Ishtarakiat

اشتراکیت

قوموں کی روش سے مجھے ہوتا ہے یہ معلوم
بے سود نہیں روس کی یہ گرمی رفتار

اندیشہ ہوا شوخی افکار پہ مجبور
فرسودہ طریقوں سے زمانہ ہوا بیزار

انساں کی ہوس نے جنھیں رکھا تھا چھپا کر
کھلتے نظر آتے ہیں بتدریج وہ اسرار

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار

جو حرف ‘قل العفو’ میں پوشیدہ ہے اب تک
اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار

اشارہ ہے قرآن کی اس آیت کی طرف جس میں کہا گیا ‘تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں’ تو کہہ دے جو بچے اپنے خرچ سے’

اقبال نے ضرب کلیم کے علاوہ پیام مشرق جاوید نامہ بال جبریل، “مثنوی پس چہ باید کرو” اور ارمغان حجاز میں بھی بیسویں صدی کی اس جدید عالمگیر تحریک کے ہر پہلو پر مختلف پیرایوں میں نقدو تبصرہ کیا ہے اور انہوں نے اپنی تصانیف میں اس مسجث پر جس قدر لکھا ہے اگر اس کو ایک جگہ جمع کرکے اس پر تبصرہ کیا جائے تو بلاشبہ پانچ چھ سو صفحے کی کتاب بن جائے گی. میں اس شرح میں اس قسم کی کوئی کوشش نہیں کر سکتا. صرف دو باتوں پر اکتفاکردوں گا.
اقبال کو کارل مارکس اور اشتراکیت سے جو کچھ دلچسپی ہے اس کی وجہ یہ ہے. اس مذہب کے بعد اصول، اسلامی اصولوں کو جزوی مشابہت رکھتے ہیں مثلاً دونوں سرمایہ داری کے دشمن ہیں، ملوکیت کے دشمن ہیں کلیسائی نظام کے دشمن ہیں. دونوں محنت کش طبقے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور دونوں طبقہ داری کشمکش سے معاشرہ کو آزاد رکھنا چاہتے ہیں.
لیکن اقبال کو کارل مارکس کے نظریہ سے پیدا شدہ تمام نتائج سے شدید اختلاف ہے اس لیے کہ ان سب کی بنیاد جدلیاتی مادیت اور عمل و در عمل کے فلسفہ پر ہے اور ظاہر ہے کہ اسلام، بلاواسطہ موثر خدا کو تسلیم کرنے کے بعد، کسی ایسے نظریہ کا حامی نہیں ہو سکتا جس کی بنیاد خالص مادیت پر ہو.
کارل مارکس جو حکیمانہ اشتراکیت تھا……… میں جرمنی میں پیدا ہوا. اور ہیگل کے مشہور متبع فائر باخ کی تصانیت کی بدولت، ہیںگل کے فلسفہ کا پیرو بن گیا. لیکن کچھ عرصہ کے بعد، اس کے خیالات میں انقلاب عظیم پیدا ہوگیا. اور اس نے خدا اور مذہب دونوں کا انکار کردیا. چنانچہ اس کا یہ فقرہ بہت مشہور ہے.
“مذہب عوام کے لیے بمنزلہ افیون ہے”
سیاسی اختلافات کی بنا پر ارباب حکومت نے اس کو جلاوطن کردیا چنانچہ اس نے کچھ عرصہ بادیہ پیمائی کرنے کے بعد لندن میں سکونت اختیار کر لی. اور وہیں بحالت عسرت….. میں وفات پائی اس کی مشہور تصانیت سرمایہ…….. ہے جس میں اس نے ہیگل کے مشہور جدلیاتی طریق کی مدد سے اپنے معاشی نظام کو مدون کیا ہے اور روس کے اشتراکی اس کتاب کو ہی مرتبہ دیتے ہیں جو عیسائی لوگ بایبل کو دیتے ہیں اقبال نے مارکس کے فلسفہ یا معاشی نظام پر اس شعر میں بہت جامع تبصرہ کر دیا ہے.

دین آن پیغمبر حق ناشناس
بر مساوات شکم وارداساس

اس مختصر تمہید کے بعد اب نظم کا مطلب لکھتا ہوں.

“قوموں کی روش” توضیع طلب ہے واضح ہوکہ معاشیات کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ زرسرمایہ موجب پیداوار دولت ہے یا محنت؟ بالفاظ دگر، سوال یہ ہے کہ موثر اول کون ہے؟ سرمایہ یا مزدوری؟ اسی کو عرف عام میں یوں کہتے ہیں کے آجکل سرمایا اور مزدور میں جنگ ہے یورپ وامریکہ کی اکثر بیشتر قوموں کی روش یہ ہے کہ سرمایہ، موجب پیداوار دولت ہے اس کے مقابلہ میں اشتراکیت یہ کہتی ہے کہ یہی تو فساد کی جڑ ہے، سرمایہ نہیں بلکہ محنت، موجب پیداوار دولت ہے اقبال کہتے ہیں کہ یورپ کی قوموں کی روش سے مجھے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اشتراکی روس نے جو طریق کار اختیار کیا ہے وہ بے سود نہیں ہے اس سے ایک بڑا فائدہ مرتب ہونے کی امید ہے.
حقیقت یہ ہے کہ زمانہ، سرمایہ داری کے فرسودہ طریقہ سے بیزار ہوچکا ہے اس لئے فکر انسانی نئے طریقے ایجاد کرنے پر مجبور ہوگئی ہے اور وہ نیا طریقہ یہ ہے کہ سرمایہ نہیں بلکہ محنت، موجب پیداوار دولت ہے.
انسان کی ہوس دولت جمع کرنے کی خواہش نے جن اسرار کو عوام کی نظروں سے پوشیدہ رکھا تھا وہ اسرار اب کھلتے نظر آتے ہیں اسرار سے اقبال کی مراد محنت کا موثر اول ہونا ہے اور اسی نکتہ یا اصول کو یورپ کے سرمایہ داروں نے عوام سے پوشیدہ رکھا تھا.
آندریں حالات میں مسلمانوں کو قرآن مجید میں تدبر کی دعوت دیتا ہوں تاکہ وہ اس حقیقت سے آگاہ ہو سکیں کہ دنیا میں قرآنی اصول کے رائج ہونے کا وقت آگیا ہے یعنی جو اصول قرآن حکیم نے پیش کیے ہیں دنیا ان اصولوں کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو رہی ہے.

نوٹ= اسی بات کو اقبال نے ارمغان حجاز میں ابلیس کی زبان سے یوں ادا کیا ہے. 

‏عصر حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف
‏ ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبر کہیں

‏جو نکتہ قرآن مجید کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے شاید اس دور میں اس کی حقیقت نمو دار ہو جائے. وہ آیت یہ ہے.

‘تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں’ تو کہہ دے جو بچے اپنے خرچ سے’

لوگ آپ صلی الا اللہ وآلہ وسلم سے دریافت کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں کیا یعنی کس قدر مال خرچ کریں. آپ کہہ دیجئے کہ جو تمہارے ذاتی سے بچے یعنی ضروری اخراجات زندگی کے لئے پس انداز کرنے کے بعد جس قدر روپیہ تمہارے پاس بچے وہ سب اللہ کی راہ میں صرف کردو. اسی آیت کا ترجمہ اقبال نے جاوید نامہ میں اس طرح کیا ہے.

با مسلماں گفت جاں بر کف بنہ
ہرچہ ازحاجت فزوں داری بدہ

عفو کے لغوی معنی زیادتی یا زائد کے ہیں. یعنی………………….. جو چیز بھی انسان کی اصلی حاجات اور قوت مولدہ سے زائد ہو وہ عفو ہے.

واضح ہو کہ اس آیت میں قرآن مجید نے فرد اور مملکت کے مابین معاشی ثعلق کو واضح فرمایا ہے کہ ضرورت کے وقت مملکت افراد سے وہ تمام روپیہ جو ان کی جائز ضروریات ان کے پاس جمع ہو لے سکتی ہیں اس کے معنی یہ ہے کہ اسلامی نظام حکومت میں بیک جنبش قلم سرمایہ داری ختم ہو سکتی ہے اور ہوجاتی ہے سرمایہ داری تو پیدا ہی اس وقت ہوتی ہے جب فالتو روپیہ ہر سال کسی کے پاس جمع ہوتا رہے. اور افراد کے بجائے سارا قومی سرمایہ ممالک کی تحویل میں آجاتا ہے اور مملکت اس قومی سرمایہ کو مفاد عمومی کے لیے استعمال کر سکتی ہے. اور کرتی ہے. اس لیے دولت چند افراد میں محدود ہو جانے کے بجائے عوام الناس یعنی تمام افراد قوم کے لیے باعث آسائش بن جاتی ہے.

اور امیر اور غریب کا شدید امتیاز، تقریبا مٹ جاتا ہے اور یہی اسلام چاہتا ہے کہ ہر شخص آسائیش کی زندگی بسر کرے. یہ طریق کار اسلامی نظام معشیت کے بالکل خلاف ہے قوم کے معدودے چند افراد تو عیش کریں کروڑ پتی بن جائیں اور اکثریت نان شبینہ کے لیے بھی ترستی رہے.

جب یہ مسلم ہے کہ دولت مزدور کی محنت پیدا ہوئی ہے. تو کیا اس سے بڑھ کر کوئی ظلم، ہو سکتا ہے کہ وہی مزدور نان شبینہ کا محتاج ہو؟ کھائے کیوں مزدور کی محنت کا پھل سرمایہ دار؟ 

میری رائے میں اقبال نے یہ شعر نہیں لکھا ہے کہ بلکہ اسلامی نظام معیشت کی روح، دو مصرعوں میں بیان کردی ہے.

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

‏ سرمایہ دار نہ نظام سے اقبال کو جس قدر نفرت تھی وہ پوری شدت کے ساتھ اس شعر میں جلوہ گر ہے.

آمدم برسر مطلب اقبال مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ روس کے اس طرز سے کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ اس آیت کی صداقت دنیا پر آشکارا ہو جائے گی.

اس تمام نظم کو غور سے پڑھنے کے بعد اب پھر پہلے شعر کو پڑھے تو اس کی سچائی واضح ہو جائے گی یعنی روس کی روش‌ بے سود نہیں ہے یعنی اسلام کے حق میں ضرور مفید ثابت ہوگی.

اندریں حالات مسلمانوں کا خصوصاً پاکستان کے مسلمانوں کا فرض اولین یہ ہے کہ وہ اس دولت خداداد میں اللہ اس کو چشم بد سے محفوظ رکھے اسلامی نظام معشیت رائج کر دیں تاکہ ایک طرف دنیا میں اسلام کا بول بالا ہو جائے دوسری طرف مسلمان پاکستان اشتراکیت کے فتنہ سے محفوظ رہ سکیں اشتراکیت کا فتنہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کو روٹی تو دیتی ہے لیکن روح کو فنا کر دیتی ہے.

کردہ ام اندر مقاما تش نگہ
لا سلاطین لا کلیسا لاالہ



اشتراکیت
قوموں کی روش سے مجھے ہوتا ہے یہ معلوم
بے سود نہیں روس کی یہ گرمی رفتار

COMMUNISM
From wont and ways of nations all these facts so clear with ease I learn, the Russians seem to be in haste to gain the goal for which they yearn.
اندیشہ ہوا شوخی افکار پہ مجبور
فرسودہ طریقوں سے زمانہ ہوا بیزار

The world is red tip with the modes that aren’t in vogue and are outworn; my intellect, that was tame and mild much pert and insolent has grown.
انساں کی ہوس نے جنھیں رکھا تھا چھپا کر
کھلتے نظر آتے ہیں بتدریج وہ اسرار

These mysteries which the greed of man had kept in veils of stuff so coarse are step by step emerging now and coming forth by dint of force.
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار

O Muslim, dive deep in the Book, which was revealed to Prophets’ Seal. May God, by grace on you bestow politeness, for good deeds much.zeal!
جو حرف ‘قل العفو’ میں پوشیدہ ہے اب تک
اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار
اشارہ ہے قرآن کی اس آیت کی طرف جس میں کہا گیا ‘تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں’ تو کہہ دے جو بچے اپنے خرچ سے’۔
The fact concealed in words so far, ‘spend what is surplus and is spare’ may come to light
in modern age and make the meanings clear and bare.
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close