(Zarb-e-Kaleem-186) (میرے کوہستان تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاں) Mere Kohistan ! Tujhe Chor Ke Jaun Kahan

میرے کہستاں! تجھے چھوڑ کے جاوں کہاں

میرے کہستاں! تجھے چھوڑ کے جاوں کہاں
تیری چٹانوں میں ہے میرے اب و جد کی خاک

اب و جد: آبا و اجداد۔

روز ازل سے ہے تو منزل شاہین و چرغ
لالہ و گل سے تہی، نغمہ بلبل سے پاک

چرغ: ایک قسم کا شکاری پرندہ۔

تیرے خم و پیچ میں میری بہشت بریں
خاک تری عنبریں، آب ترا تاب ناک

عنبریں: عنبر کی طرح خوشبودار ؛ عنبر ایک خاص قسم کی خوشبو۔

باز نہ ہوگا کبھی بندہ کبک و حمام
حفظ بدن کے لیے روح کو کردوں ہلاک

کبک و حمام: چکور اور کبوتر ۔

اے مرے فقر غیور! فیصلہ تیرا ہے کیا
خلعت انگریز یا پیرہن چاک چاک

باب ششم: محراب گل افغان کے افکار

تمہید

اس باب میں اقبال نے محراب گل افغان کی زبان سے اپنے افکار اور خیالات ظاہر کئے ہیں. یہ ایک فرضی نام ہے. اور اس کی ضرورت انہیں اس لیے محسوس ہوئی کہ انہوں نے بعض نظموں میں اسلوب بیان ایسا اختیار کیا ہے کہ اس فرضی نام کے بغیر، کلام میں تاثیر پیدا نہیں ہوسکتی. مثلاً پہلی نظم میں وہ سرحد کوہستان سے خطاب کرتے ہیں. اور یہ اسلوب بیان اس امر کا متقاضی ہے کہ متکلم خود وہیں کا باشندہ ہو.

دراصل بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب مرحوم کے دل میں ملت کا درد اس درجہ تھا کہ میں بذریعہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا. وہ ساری عمر ملت اسلامیہ کے درد میں تڑپتے رہے. یہ مبالغہ نہیں ہے بالکل حقیقت ہے میں نے……. سے لے کر…….. تک چودہ سال ان کی صحبت میں گزارے اور میں شہادت دے سکتا ہوں کہ میں نے خود بارہا انہیں ملت کی بربادی کے غم میں بچوں کی طرح روتے دیکھا ہے. اور اس درد ملت کا رازیہ ہے. کہ وہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیحد محبت کرتے تھے. اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی تباہی ان سے برداشت نہیں ہو سکتی تھی.

وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر افغان بیدار ہو جائیں گے تو شاید ایشیا میں اسلام اورمسلمانوں کی سربلندی کا کچھ انتظام ہو جائے گا اس لیے انہوں نے ساری عمر افغانوں کی خودی کو بیدار کرنے کی کوشش کی……….. میں افغانستان جانے سے کچھ دنوں پہلے میرے ایک اعتراض کے جواب میں انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ

تم جذباتی ہو, اس لیے نادرشاہ سے ناراض ہو. یہ دیکھو کہ بچہ سقہ کو ختم کرکے اس نے کتنی بڑی خدمت انجام دی ہے. میں جلب منفعت کے لیے نہیں جا رہا ہوں، مجھے محض اسلامی اخوت کا جلوہ سے لے جا رہا ہے. ابھی اکیلا مجھے ماخذ اسلام کا اسلامی اخوت کا جذبہ کھینچنے لیے جا رہا ہے کیا عجب کہ میں بیداری میں کوئی حصہ لے سکوں. 

‏مرحوم نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا تھا کہ

ہندوستان کے مسلمان تو کئی سو سال سے غلامی کی زندگی کر رہے ہیں انگریز کا مقابلہ کرسکتے ہیں تو وہ مسلمان کر سکتے ہیں، جو پشاور اور کابل کے درمیانی علاقہ میں رہتے ہیں، کاش! کوئی اللہ کا بندہ ان کو ہستانی میں شیروں کو بیدار کر سکے.

ان نظموں میں اقبال نے درپردہ مسلمانوں کو اس حقیقت سے بھی آگاہ کیا ہے کہ کوہستانی، صحرائی، یا بدوی زندگی، خودی کی تربیت کے لیے بہت موزوں ہے. اور میں اس باب میں اقبال سے بالکل متفق ہوں کم از کم کراچی لاہور، ملتان، اور راولپنڈی وغیرہ کی اخلاقی فضا تو پرورش خودی کے لیے بالکل موزوں نہیں ہے. ان شہروں میں کالج، اسکول، بورڈنگ ہوٹل، کیفے، کافی ہاؤس کلب اور سینیما الامان! الحفیظ!

یہ تعلیم گاہیں، اور تفریح گاہیں نہیں ہیں، بلکہ وہ مقامات ہیں، جہاں مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں کی اسلامی روح بغیر کاردو خنجر ذبح کی جاتی ہے بڑی بیدروی کے ساتھ زبح کی جاتی ہے. اور جب تک موجودہ نظام کو تبدیل نہ کیا جائے اصلاح حال کوئی صورت نہیں ہے.

اس نظم میں محراب گل اپنے کوہستانی وطن سے خطاب کرتا ہے کہ.

(ا) اے میرے وطن! مجھے تجھ سے بید الفت ہے .میں تجھے کسی قیمت پر غیروں کے حوالہ نہیں کرسکتا. میری تمام خاندانی روایات تیری چٹانوں سے وابستہ ہیں. اور ان میرے بزرگوں کی ہڈیاں مدفون ہیں. واضح ہو کہ اس شعر سے اس محبت کا اظہار ہوتا ہے جو ہر شخص کو اپنے وطن سے قدرتی طور پر ہوتی ہے اس جگہ یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ اقبال تو یہ کہتے ہیں. مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا پھر وہ افغانوں کو اپنے کوہستانی وطن سے محبت کرنے کی تلقین کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وطن کے دو معنی ہیں. 

(ا) وطن مبعنی وطنیت یعنی ایک سیاسی تصور، جس کی روسے ایک شخص صرف اپنے وطن سے محبت کرتا ہے اور دوسرے ملکوں یا قوموں سے نفرت کرتا ہے، اور اپنے وطن کو وہ درجہ دیتا ہے جو اسلام نے اللہ کو دیا ہے. اس معنی میں وطن کی محبت اقبال کے یہاں مذموم ہے. وطن مبعنی وہ ملک جہاں ایک شخص پیدا ہوا ہو، اور اس سے قدرتی طور پر محبت ہوتی ہے. یہ محبت اقبال کے یہاں محمود ہے اور اسی اعتبار سے شیخ سعدی نے یہ رباعی لکھی تھی جو زبان زد خاص وعام ہے. حب وطن ازملک سلیماں خوشتر خاروطن ازسنبل وریحاں خوشتر یوسف کہ مبصر پادشاہی میکرو میگفت گدا بودن کنعاں خوشتر اقبال نے جو یہ کہا ہے کہ مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا یہ قول، وطن سے محبت کے خلاف نہیں ہے بلکہ نظریہ وطنیت کے خلاف ہے. یعنی اقبال وطن پرستوں سے یہ کہتے ہیں کہ جو مرتبہ تم اپنے مخصوص وطن کو دیتے ہو، وہی درجہ ہم ساری دنیا کو دیتے ہیں تو میں اپنی ساری ہمدردی ایک مخصوص خطہ ارضی سے وابستہ کرتے ہو، لیکن ہم اپنی ہمدردی ساری دنیا سے وابستہ کرتے ہیں. کیونکہ کہ ہم جس اللہ پر ایمان لائے وہ صرف اٹلی یا افغانستان جرمنی یا فرانس کا رب نہیں ہے بلکہ رب العالمین ہے ساری کائنات کا پرودش کرنیوالا ہے اس لئے ہم اس کے پرستار ہونیکی حیثیت سے مجبور ہیں کہ کسی قوم سے نفرت نہ کریں کسی سے دشمنی نہ کریں. سب انسانوں کو اپنا بھائی سمجھیں، سب کی خیر خواہی کریں. اب رہا اپنا وطن، اس سے محبت کرنا بالکل قدرتی بات ہے اور اگر کوئی دشمن ہو پر حملہ آور ہو تو ہم اپنے وطن کی حفاظت میں اپنے خون کا آخری قطرہ بہا دیں گے، لیکن تم وطن پرستوں کی طرح ہم اپنے وطن کو اپنا معبود نہیں سمجھتے، مثلاً اگر ہمیں اپنے وطن میں اللہ کا نام لینے کی اجازت نہ ہو یا ہم وہاں اسلامی زندگی بسر نہ کر سکیں. تو پھر ہم اپنے وطن سے، نجوشی ہجرت کرکے دوسری جگہ چلے جائیں گے. جہاں ہم اللہ کا نام لے سکیں. وطن کی محبت ہمیں ترک اسلام پر آمادہ نہیں کرسکتی. اگر ہمارے سامنے یہ دو صورتیں ہوں کہ، یہ اسلام ترک کرو، یا وطن ترک کرو. تو ہم بلاتامل دوسری صورت اختیار کریں گے یہ ہے مفہوم اس مصرع کا ک. 

“مسلم ہے ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا” 

اے میرے کوہستان! تیری سب سے بڑی خوبی یہ ہے، کہ تو قدیم زمانہ سے باز، شاہین، چرغ اور دوسرے شکاری پرندوں کا مسکن ہے اور بلبل کے نغموں اور گلاب اور لالہ کے پھولوں سے پاک ہے. بظاہر یہ شعر بہت آسان ہے اس میں کوئی لفظ مشکل نہیں ہے لیکن اقبال نے رمزوایما سے کام لے کر اس میں بڑے شاندار معانی پوشیدہ کر دئے ہیں. شاہین تو ایک مشہور ومعروف شکاری پرندہ ہے، اور اقبال کا محبوب ہے کیونکہ وہ ان خصوصیات کا حامل ہے جو وہ اپنی قوم کے نوجوانوں میں پیدا کرنا چاہتے تھے. لیکن چرغ غیرمعروف ہے. واضح ہو کہ یہ شکاری پرندہ جسامت میں شاہین سے بڑا اور باز کے برابر ہوتا ہے اور جس طرح ہر شکاری پرندہ میں ایک خصوصیت ہوتی ہے اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ زبردست پرندہ چیل جیسی طاقتور اور چالاک ہستی کا شکار کرتا ہے جو خود دوسروں کا شکار کرتی ہے. چرغ کو چونچ اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ وہ اس کی مدد سے چیل کی گردن کی ہڈی توڑ دیتا ہے ہے اور اپنے سے بڑے پرندے کو اپنی چونچ میں اس طرح لٹکائے اترتا ہے، جس طرح چیل، چوہے کو. چرغ اور چیل کی لڑائی بلامبالغہ دنیا کا دلکش ترین مناظر میں سے ہے یہ ناممکن ہے اگر کوئی شخص منظر کو مدۃ العمر فراموش کر سکے. اگرچہ اس دلکشی کا اظہار لفظوں سے کسی طرح ممکن نہیں، تاہم میں اس جنگ کا تھوڑا سا حال ضرور بیان کروں گا تاکہ ناظرین پر یہ حقیقت منکشف ہوجائے کہ اقبال نے چرغ کا تذکرہ بلاوجہ نہیں کیا. قاعدہ یہ ہے کہ جنگل میں پہنچ کر، چرغ کی آنکھوں سے ٹوپی اتار کر اسے اشارہ سے کوئی چپل دکھا دیتے ہیں، تو وہ مقام الف سے چڑھائی شروع کرتا ہے. عموماً الف اور ب کا فاصلہ ایک ہزار فٹ سے کم نہیں ہوتا. یہ اس لیے کہ چپل اگر فورا آگاہ ہوجائے تو چرغ چڑھائی ایک لطف جاتا رہے تھوڑی دیر کے بعد چپل جس کی آنکھ بہت تیز ہوتی ہے، بلکہ تیز ضرب المثل ہوتی ہے چرغ کو دیکھ لیتی ہے اور اونچی ہونے لگتی ہے.چرغ بھی ساتھ ساتھ اونچا ہوتا ہے اور اپنی جسمانی طاقت اور بازوؤں کی بے پناہ قوت کی بدولت، جب چپل نقطہ حیم پر پہنچتی ہے تو وہ نقطہ ب پر پہنچ جاتا ہے یعنی چپل سے١٥تا ٢٥ بلند تر یہاں سے وہ کندے تول کر چپل پر گرتا ہے( ٹھیک جس طرح آجکل تیراک اوپر سے حوض میں گرتا ہے) چپل کن آنکھیوں سے دیکھتی رہتی ہے اور جس وقت چرغ، اس سے ایک فٹ کے فاصلہ پر رہ جاتا ہے، نہایت پھرتی کے ساتھ کا واکاٹ دیتی ہے. جسے شکاریوں کی اصلاح میں ڈاج دنیا کہتے ہیں. چرغ اس سرعت کے ساتھ آتا ہے کہ وہ نقطہ دال تک ڈوب جاتا ہے. اور چپل فوراً اور اونچی ہو جاتی ہے. اب چرغ مقام دال سے کمال سرعت کے ساتھ پلٹ کر نجط مستقیم پھر چپل کا تعاقب کرتا ہے. اور اس صعودیعنی بالکل سیدھی چڑھائی میں، اپنی جسمانی طاقت، حوصلہ بازوؤں کی قوت، اور سرگرمی (بلکہ اقبال کی اصطلاح میں پڑومی) کا وہ مظاہرہ کرتا ہے کہ دنیا کا کوئی پرندہ اس کی نظیر پیش نہیں کرسکتا. الغرض وہ دوبارہ چپل سے١٥ تا ٢٥ فٹ بلند ہوتا ہے. واضح ہو کہ چپل اب اس مقام پر نہیں ہے، بلکہ کچھ فاصلہ پر ہوتی ہے. جسے میں نے نقطہ سے واضح کیا ہے اور پھر پہلاسین منظر دوبارہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے. تماشائی لوگ ایسے ازخود رفتہ ہو جاتے ہیں کہ اس موقع پر خود تماشہ بن جاتے ہیں. میں نے بعض اوقات چرغ کو بیس مرتبہ اسی طرح چپل پر گرتے دیکھا ہے. اور بعض اوقات تین تین میل تک جنگل میں بھاگتا چلا گیا ہوں، تاکہ یہ منظر نگاہوں سے اوجھل نہ ہو جائے. انجام کار ایک دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ چپل، چرغ کی زد میں آجاتی ہے اور وہ اس کی گردن پکڑ کر ایک ہی جھٹکے میں اسے آدھ موا کر دیتا ہے. اور نیچے کے بجائے چونچ ہی میں لیے ہوئے زمین پر اترتا ہے. تماشائیوں کا یعنی شکاریوں کا ہجوم بے تحاشا اس کے پاس جا پہنچتا ہے. اور بازوار( جس نے اس کو سدھایا ہے) چپل اس کے نیچے سے نکال کر مرغ کاسینہ یاران اس کو کھانے کے لئے دیتا ہے. جب تک میں نے چرغ کو ڈوب کر دوبارہ چڑھتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، اقبال کا یہ مصرع میری سمجھ میں نہیں آیا تھا. 

 

“پر دم ہے اگر تو، تو نہیں خطرہ افتاد” 

اب ہم اس شعر کے مفہوم پر غور کرتے ہیں. 

اقبال نے کوہستان کی دو خوبیاں بیان کی ہیں. ‏ ‏

(ا) یہ علاقہ، شاہین اور چرغ کا مسکن ہے. 

(٢) یہاں گل (گلاب) لالہ اور بلبل نہیں ہوتا. 

اور اقبال یہی دو خوبیاں اپنی قوم کے نوجوانوں میں دیکھنی چاہتے تھے وہ چاہتے تھے کہ قوم کے نوجوان اپنے اندر شاہینی صفات پیدا کریں. اور آرائش جسمانی اور رقص وموسیقی سے اجتناب کریں. کیونکہ ان باتوں سے نسوانی صفات پیدا ہوتی ہیں اور جدوجہد کا جذبہ سرد ہو جاتا ہے. جب محراب گل، اپنے کوستانی وطن کی یہ خوبیاں بیان کرتا ہے تو وہ درپردہ قوم کو یہ پیغام دیتا ہے. کہ شاہین اور چرغ کی طرح اپنے بازوؤں میں طاقت پیدا کرو. اور بلبلوں کی طرح رنگ وبو پر فریفتہ مت ہو. یہ باتیں چونکہ صحرائی زندگی میں پیدا ہوتی ہیں. اس لیے اقبال اس طرز زندگی کو، شہری زندگی پر ترجیح دیتے ہیں. حضرات انبیاء علیہ السلام کی زندگیوں کے مطالعہ سے بھی یہی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سیرت کی تشکیل، اس خطہ میں ہو سکتی ہے. جو نغمہ بلبل سے پاک ہو. اسی چیز کو اقبال نے اس مصرع میں بیان کیا ہے. ‏ ہوائے دشت دشعیب وشبائی شب وردز

(٣) اے میرے کوہستانی وطن! تو مجھے اس قدر عزیز ہے کہ تیرے خم وپیچ میری نگاہ میں بہثت بریں ہیں. تیری خاک میری نگاہ میں غبر کی طرح قیمتی اور خوشبودار ہے. اور اس میں تو کوئی شک نہیں کہ تیرا پانی نہایت چمکدار اور شفاف ہے. 

(٤) جس طرح باز، کبھی تیتر اور کبوتر کی غلامی نہیں کرسکتا، اس طرح میں کبھی انگریز کی غلامی نہیں کرسکتا. اور ایسا کر بھی کیسے سکتا ہوں؟ بیشک مجھے “خان بہادر” کا خطاب مل جائے گا، اور موٹر بھی میرے پاس ہوگی. لیکن میرا ضمیر (کائنات میں سب سے قیمتی چیز، خدا کی سب سے بڑی نعمت) مردہ ہو جائیگا. اور جب ضمیر مردہ ہوگیا تو انسان اور گدھے یا گھوڑے میں کوئی فرق نہیں رہتا، یعنی ضمیر کے مردہ ہوجانے کے بعد پھر حضرت انسان کے پاس وہ چیز کونسی ہے جس کی بدولت اسے حیوان پر تفوق یا برتری حاصل ہو سکتی ہے؟ محراب گل کی رائے میں غلامی سے انسان پر موت طاری ہوجاتی ہے، “صرف حیوان” باقی رہ جاتا ہے اور اس حیوان اور دیگر حیوانات میں کوئی فرق نہیں ہے. 

(٥) محراب گل اپنی شان فقر سے خطاب کرکے کہتا ہیں کہ اگر میں انگریز کی غلامی اختیار کر لوں، تو آج میری ظاہری حالت میں انقلاب پیدا ہوسکتا ہے. جب وہ پشاور، یا کوئٹہ، میں دربار منعقد کرے گا تو دوسرے غلاموں کے ساتھ مجھے بھی شرکت کی دعوت آئے گی. اور خلعت فاخرہ عنایت ہوگا. لیکن میں اس خلعت پر جو ضمیر فروشی کے بعد حاصل ہو، اپنی پھٹی ہوئی شلوار کو ترجیح دیتا ہوں، اور حقیقت یہ ہے، کہ محراب گل کا فیصلہ صحیح ہے.

Mehrab-e-Gul Afghan Ke Afkar

Reflections Of Mihrab Gul Afghan


(1)


Mere Kuhistan! Tujhe Chor Ke Jaun Kahan
Teri Chitanon Mein Hai Mere Ab-o-Jad Ki Khak

My hills and dales! Where can I go, leaving everything behind?
The dust and bones of my ancestors lie scattered here and everywhere.


Roz-e-Azal Se Hai Tu Manzil-e-Shaheen-o-Charkh
Lala-o-Gul Se Tehi, Naghma-e-Bulbul Se Pak

You had been the rendezvous of hawks and falcons since eternity,
Unaware of the rose and tulip, and songs of nightingale.


Tere Kham-o-Paich Mein Meri Behisht-e-Bareen
Khak Teri Ambreen, Aab Tera Taabnaak

My paradise lies in serpentine roads:
Your soil smells like amber and water shines like crystal.


Baaz Na Ho Ga Kabhi Banda-e-Kubak-o-Hamam
Hifz-e-Badan Ke Liye Rooh Ko Kar Doon Halaak!

One accustomed to pigeons and doves can hardly be like a hawk.
For the sake of body, how can I kill my soul?


Ae Mere Faqr-e-Ghayyur! Faisal Tera Hai Kya
Khilat-e-Angraiz Ya Pairhan-e-Chaak Chaak!

O My Zealous Faqr! Which would you prefer:
Englishman’s robes or tattered clothes?

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: