(Javed Nama-51) (قصر شرف النسا) Qasar-e-Sharaf-Al-Nisa

قصر شرف النسا

گفتم این کاشانہ ئی از لعل ناب
آنکہ میگیرد خراج از آفتاب
میں نے رومی سے پوچھا یہ لعل ناب کا محل جو آفتاب سے بھی زیادہ چمک دمک رکھتا ہے۔

این مقام این منزل این کاخ بلند
حوریان بر درگہش احرام بند
یہ مقام، یہ منزل، یہ بلند محل جہاں حوریں موءدب کھڑی ہیں

اے تو دادی سالکان را جستجوے
صاحب او کیست با من باز گوے
آپ رہرووں کو ذوق جستجو عطا کرتے ہیں ؛ مجھے بتائیے کہ اس کا مالک کون ہے؟

گفت “این کاشانۂ شرف النساست
مرغ بامش با ملائک ہم نواست
رومی نے کہا ‘یہ شرف النسا کا محل ہے، اس کے بام کے پرندے فرشتوں کے ہمنوا ہیں۔

قلزم ما اینچنین گوہر نزاد
ہیچ مادر اینچنین دختر نزاد
ہمارے سمندر سے اس قسم کا کوئی اور موتی پیدا نہیں ہوا ، کسی ماں کی کوکھ سے ایسی بیٹی نے جنم نہیں لیا۔

خاک لاہور از مزارش آسمان
کس نداند راز او را در جہان
اس کے مزار کی وجہ سے لاہور کی سر زمین نے آسمان کا رتبہ پایا ہے۔دنیا میں کوئی شخص اس کے راز کو نہیں سمجھا۔

آن سراپا ذوق و شوق و درد و داغ
حاکم پنجاب را چشم و چراغ
یہ خاتون سراپا ذوق و شوق اور درد و داغ تھی ، اس دور کے پنجاب کے گورنر کی بیٹی تھی۔

آن فروغ دودۂ عبد الصمد
فقر او نقشی کہ ماند تا ابد
اس سے عبد الصمد کے خاندان کی عزت افزائی ہوئی؛ اس نے ایسا نقش چھوڑا جو ابد تک رہے گا۔

تا ز قرآن پاک می سوزد وجود
از تلاوت یک نفس فارغ نبود
چونکہ اس کا وجود قرآن پاک سے سوز حاصل کرتا تھا ، وہ ہر لمحہ تلاوت میں مشغول رہتی تھی۔

در کمر تیغ دو رو، قرآن بدست
تن بدن ہوش و حواس اﷲ مست
کمر میں دو دھاری تلوار اور ہاتھ میں قرآن ، تن بدن ہوش و حواس اللہ مست۔

خلوت و شمشیر و قرآن و نماز
ایخوش آن عمری کہ رفت اندر نیاز
خلوت، شمشیر، قرآن پاک اور نماز ، مبارک ہے وہ عمر جو اس طرح کی نیاز مندی میں گزر گئی۔

بر لب او چون دم آخر رسید
سوی مادر دید و مشتاقانہ دید
جب اس کے لبوں پر آخری سانس تھا تو اس نے اپنی والدہ کی طرف دیکھا اور مشتاقانہ دیکھا۔

گفت اگر از راز من داری خبر
سوی این شمشیر و این قرآن نگر
شرف النسا نے کہا اگر آپ میری زندگی کا راز جاننا چاہتی ہیں تو میری تلوار اور قرآن پاک پر نگاہ ڈالیں۔

این دو قوت حافظ یکدیگرند
کائنات زندگے را محورند
یہ دونوں قوّتیں ایک دوسری کی حفاظت کرتی ہیں، زندگی کی کائنات انہی دو کے گرد گھومتی ہے۔

اندرین عالم کہ میرد ہر نفس
دخترت را ایندو محرم بود و بس
اس جہان میں جہاں ہر شخص پر موت آتی ہے، یہ دو چیزیں تیری بیٹی کی محرم تھیں۔

وقت رخصت با تو دارم این سخن
تیغ و قرآن را جدا از من مکن
اب آخری وقت آپ سے یہی گذارش ہے کہ تیغ و قرآن کو مجھ سے جدا نہ کیجئے گا۔

دل بہ آن حرفی کہ میگویم بنہ
قبر من بے گنبد و قندیل بہ
میری بات کو حرز جان بنا لیں؛ میری قبر گنبد و قندیل کے بغیر اچھی ہے۔

مومنان را تیغ با قرآن بس است
تربت ما را ہمین سامان بس است
کے لیے قرآن کے ساتھ تلوار کافی ہے؛ ہماری تربت کے لیے بھی یہی سامان بہت ہے۔مومنوں

عمر ہا در زیر این زرین قباب
بر مزارش بود شمشیر و کتاب
اس زرّیں قبے کے نبچے برسوں اس کے مزار پر شمشیر و قرآن رکھے رہے۔

مرقدش اندر جہان بے ثبات
اہل حق را داد پیغام حیات
اور اس طرح اس جہان بے ثبات کے اندر اس کا مرقد اہل حق کو زندگی کا پیغام دیتا رہا۔

تا مسلمان کرد با خود آنچہ کرد
گردش دوران بساطش در نورد
یہانتک کہ مسلمانوں نے اپنے ساتھ کیا جو کچھ کیا؛ اور گردش دوراں نے ان کی بساط لپیٹ دی۔

مرد حق از غیر حق اندیشہ کرد
شیر مولا روبہی را پیشہ کرد
سے ڈرنے لگے؛ شیر مولا نے لومڑی کا پیشہ اختیار کر لیا۔اللہ تعالے کے بندے غیر اللہ

از دلش تاب و تب سیماب رفت
خود بدانی آنچہ بر پنجاب رفت
مسلمان کے دل سے سیماب کی آب و تاب و اضطراب جاتا رہا ، تو خود جانتا ہے پھر پنجاب پر کیا گزری۔

خالصہ شمشیر و قرآن را ببرد
اندر آن کشور مسلمانی بمرد”
سکھ اس کے مرقد پر سے قرآن پاک اور شمشیر اٹھا کر لے گئے اور پنجاب میں مسلمانی ختم ہو گئی۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: