(Rumuz-e-Bekhudi-02) (تمہید) Tamheed

تمہید

در معنی ربط فرد و ملت

فرد را ربط جماعت رحمت است

جوہر او را کمال از ملت است

تمہید: ربط فرد و ملّت

فرد کے لیے جماعت سے ربط رکھنا باعث رحمت ہے؛ ملّت کے اندر رہ کر ہی اس کا جوہر کمال حاصل کرتا ہے۔

تاتوانی با جماعت یار باش

رونق ہنگامہ ی احرار باش

جہاں تک ہو سکے جماعت کے ساتھ لگا رہ اور اس طرح ہنگامہء احرار کی رونق بن جا۔

حرز جان کن گفتہ ی خیرالبشر

ہست شیطان از جماعت دور تر

حضور اکرم (صلعم) کے اس فرمودہ کو اپنی جان کے لیے تعویذ بنا لے؛ کہ شیطان جماعت سے دور رہتا ہے۔

فرد و قوم آئینہ ی یک دیگرند

سلک و گوہر کہکشان و اخترند

فرد اور جماعت ایک دوسرے کے لیے آئینے کی مانند ہیں ؛ (افراد سے قوم بنتی ہے اور قوم کی روایات افراد میں جھلکتی ہیں) ان کی مثال دھاگے اور موتی اور کہکشاں اور ستارے کی مانند ہے۔

فرد می گیرد ز ملت احترام

ملت از افراد می یابد نظام

فرد کی توقیر ملّت سے ہے؛ اور ملّت کا نظام افراد پر مبنی ہے۔

فرد تا اندر جماعت گم شود

قطرہ ی وسعت طلب قلزم شود

جب فرد جماعت میں گم ہو جاتا ہے ؛ تو گویا وسعت کا متلاشی قطرہ دریا بن جاتا ہے۔

مایہ دار سیرت دیرینہ او

رفتہ و آیندہ را آئینہ او

فرد اپنی ملّت کی قدیم روایات کا حامل ہوتا ہے؛ اس کے اندر ملّت کے ماضی اور مستقبل کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔

وصل استقبال و ماضی ذات او

چون ابد لا انتہا اوقات او

فرد کی ذات ملّت کے ماضی و مستقبل کا نقطہء اتصال ہے (ملّت ہی سے ) فرد کے اوقات ابد کی طرح لا ا نتہا ہو جاتے ہیں۔

در دلش ذوق نمو از ملت است

احتساب کار او از ملت است

ملّت ہی کی وجہ سے فرد کے دل میں اپنی قوّتوں کے اظہار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے؛ فرد کی سرگرمیوں کا اندازہ ملّت ہی کے مقام سے لگایا جا سکتا ہے۔

پیکرش از قوم و ہم جانش ز قوم

ظاہرش از قوم و پنہانش ز قوم

قوم فرد کا پیکار بھی ہے اور اس کی جان بھی؛ قوم ہی اس کا ظاہر ہے اور قوم ہی اس کا باطن۔

در زبان قوم گویا مے شود

بر رہ اسلاف پویا می شود

فرد قوم ہی کی زبان سے بات کرتا ہے اور اسی کے ذریعے اسلاف کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔

پختہ تر از گرمی صحبت شود

تا بمعنی فرد ہم ملت شود

فرد ملّت میں مل کر اور زیادہ پختہ ہو جاتا ہے؛ گویا معنا فرد ملّت بن جاتا ہے۔

وحدت او مستقیم از کثرت است

کثرت اندر وحدت او وحدت است

فرد کی وحدت ملّت کی کثرت سے استقامت پاتی ہے اور افراد کی کثرت ملّت کے ذریعے وحدت بن جاتی ہے۔

لفظ چون از بیت خود بیرون نشست

گوہر مضمون بجیب خود شکست

جیسے لفظ کو اگر شعر سے نکال دیا جائے تو اس کی جیب مضمون کا معنی ٹوٹ جاتی ہے یعنی وہ بے معنی ہو جاتا ہے۔

برگ سبزی کز نہال خویش ریخت

از بھاران تار امیدش گسیخت

پتّہ اگر اپنے درخت سے گر جاتا ہے تو بہار کے موسم میں بھی اس کے سرسبز ہونے کی امید ختم ہو جاتی ہے۔

ہر کہ آب از زمزم ملت نخورد

شعلہ ہای نغمہ در عودش فسرد

جب فرد ملّت کے چشمہ زمزم سے پانی نہیں پیتا اس کے ساز کے اندر نغموں کے شعلے افسردہ ہو جاتے ہیں۔

فرد تنہا از مقاصد غافل است

قوتش آشفتگی را مایل است

فرد اکیلا ہو تو وہ اعلی مقاصد سے غافل رہتا ہے اور اس کی قوّتیں رو بہ انحطاط ہو جاتی ہیں۔

قوم با ضبط آشنا گرداندش

نرم رو مثل صبا گرداندش

قوم اسے ضبط سے متعارف کرتی ہے اور اسے صبا کی مانند ہولے ہولے چلتی ہے۔

پا بہ گل مانند شمشادش کند

دست و پا بندد کہ آزادش کند

قوم اسے شمشاد کی مانند مٹی کا پابند بناتی ہے ؛ اس کے ہاتھ پاؤں باندھتی ہے تاکہ اسے آزاد کرے۔

چون اسیر حلقہ ی آئین شود

آہوی رم خوی او مشکین شود

جب فرد اپنے آپ کو قانون کا پابند بناتا ہے تو اس کی رم خو فطرت میں خوشبو پیدا ہو جاتی ہے۔

تو خودی از بیخودی نشناختی

خویش را اندر گمان انداختی

تو نے خودی اور بے خودی میں فرق نہیں سمجھا ؛ اور اپنے آپ کو ظن و گمان میں ڈال دیا۔

جوہر نوریست اندر خاک تو

یک شعاعش جلوہ ی ادراک تو

خودی نور کا ایک جوہر ہے جو تیرے بدن کے اندر موجود ہے؛ تیرے فہم و ادراک کی روشنی خودی کی ایک شعاع ہے۔

عیشت از عیشش غم تو از غمش

زندہ ئی از انقلاب ہر دمش

تیرا عیش خودی کے عیش سے اور تیرا غم خودی کے غم سے وابستہ ہے؛ تیری زندگی کا دار و مدار اس کے ہر لحظہ انقلاب پر موقوف ہے۔

واحدست و بر نمی تابد دوئی

من ز تاب او من استم تو توئی

خودی واحد ہے، وہ دوئی کی تاب نہیں رکھتی؛ اسی کی تاب و تواں سے میں، میں ہوں اور تو، تو ہے۔

خویش دار و خویش باز و خویش ساز

نازہا می پرورد اندر نیاز

اپنی حفاظت اپنی اظہار، اور اپنی تعمیر اس کی صفت ہیں؛ اس کی نیاز مندی میں سینکڑوں ناز پرورش پاتے ہیں۔

آتشے از سوز او گردد بلند

این شرر بر شعلہ اندازد کمند

اس کے سوز سے آگ بلند ہوتی ہے؛ خودی کا شرر شعلے پر کمند ڈالتا ہے۔

فطرتش آزاد و ہم زنجیری است

جزو او را قوت کل گیری است

اس کی فطرت آزاد ہے اور مقیّد بھی؛ اس جزو میں کل (کائنات) پر قابو پا لینے کی قوّت ہے۔

خوگر پیکار پیہم دیدمش

ہم خودی ھم زندگی نامیدش

میں نے اسے مسلسل جدو جہد میں دیکھا ہے؛ میں اسے خودی بھی کہتا ہوں اور زندگی بھی۔

چون ز خلوت خویش را بیرون دہد

پای در ہنگامہ ی جلوت نہد

جب یہ خودی خلوت سے باہر نکلتی ہے اور ہنگامہء جلوت میں قدم رکھتی ہے۔

نقش گیر اندر دلش “او” می شود

“من” ز ھم می ریزد و “تو” می شود

اس کے دل کے اندر ملّت کا نقش بیٹھ جاتا ہے؛ اس کے مقاصد میں اس کی ذات کی جگہ ملّت لے لیتی ہے۔

جبر، قطع اختیارش می کند

از محبت مایہ دارش می کند

(ملّت کے مفادات کا) جبر اس کے اختیارات صلب کر لیتا ہے؛ اور اسے ملّی محبت سے سرشار کر دیتا ہے۔

ناز تا ناز است کم خیزد نیاز

ناز ہا سازد بہم خیزد نیاز

جب تک ناز ناز ہے اس سے نیازمندی پیدا نہیں ہوتی؛ نیازمندی اسی صورت میں پیدا ہوتی ہے جب بہت سے ناز آپس میں موافقت ( ایک دوسرے کے لیے ایثار) پیدا کریں۔

در جماعت خود شکن گردد خودی

تا ز گلبرگی چمن گردد خودی

جماعت کے اندر خودی خود شکنی (جماعت کے ساتھ مطابقت پیدا کرنا) کر لیتی ہے؛ اور اس طرح پھول کی پتّی سے پورا چمن بن جاتی ہے۔

“نکتہ ہا چون تیغ پولاد است تیز

گر نمی فہمی ز پیش ما گریز”

میرے کلام کے نکات تلوار کی مانند ہیں ؛ اگر تو نہیں سمجھ سکتا تو یہاں سے چلا جا۔

 

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: