(Rumuz-e-Bekhudi-03) (در معنی اینکہ ملت از اختلاط افراد پیدا میشود) Dar Ma’ani Aynke Millat Az Ikhtilat-e-Afrad Paida Mee Shawad

در معنی اینکہ ملت از اختلاط افراد پیدا میشود

در معنی اینکہ ملت از اختلاط افراد پیدا میشود و تکمیل تربیت او از نبوت است

از چہ رو بر بستہ ربط مردم است

رشتہ ی این داستان سر در گم است

اس مطلب کی وضاحت کے لیے کہ ملّت افراد کے اختلاط سے وجود میں آتی ہے اور اس کی تربیّت کی تکمیل نبوّت سے ہوتی ہے۔

انسانوں کا باہمی ربط کس طرح وجود میں آیا ؛ اس کہانی کا آغاز معلوم نہیں۔

در جماعت فرد را بینیم ما

از چمن او را چو گل چینیم ما

ہم جماعت میں (صرف) فرد کو دیکھتے ہیں ؛ اور اسے باغ سے پھول کی مانند چن لیتے ہیں۔

فطرتش وارفتہ ی یکتائی است

حفظ او از انجمن آرائی است

اس کی فطرت انفرادیت کی دلدادہ ہے؛ مگر اس کا تحفظ اجتماعیت سے ہے۔

سوزدش در شاہراہ زندگی

آتش آوردگاہ زندگی

شاہراہ حیات میں رزمگاہ ء زندگی کی آگ اس کی انفرادیت کو جلا دیتی ہے ( اجتماعیت کے ماتحت لے آتی ہے)۔

مردمان خوگر بیکدیگر شوند

سفتہ در یک رشتہ چون گوہر شوند

چنانچہ افراد ایک دوسرے سے مانوس ہو جاتے ہیں اور موتیوں کی طرح ایک لڑی میں پروئے جاتے ہیں۔

در نبرد زندگی یار ھمند

مثل ہمکاران گرفتار ہمند

وہ زندگی کی کشمکش میں ہمدرد ساتھی بن جاتے ہیں اور ایک ہی پیشہ رکھنے والوں کی مانند ایک ہونے کا احساس پیدا کر لیتے ہیں۔

محفل انجم ز جذب باہم است

ہستی کوکب ز کوکب محکم است

ستاروں کی محفل باہمی کشش سے قائم ہے؛ ہر ایک کے وجود کو دوسرے سے استحکام ملتا ہے۔

خیمہ گاہ کاروان کوہ و جبل

مرغزار و دامن صحرا و تل

پہاڑ ، مرغزار، صحرا، ٹیلے سب کاروان (حیات) کی خیمہ گاہ ہیں۔

سست و بیجان تار و پود کار او

نا گشودہ غنچہ ی پندار او

فرد کے کام کا تانا بانا ، کمزور اور بے جان تھا ؛ اس کے تصوّرات کی کلی کھلتی نہیں تھی (عزائم جلیلہ پورے نہیں ہوئے تھے)۔

ساز برق آہنگ او ننواختہ

نغمہ اش در پردہ نا پرداختہ

فرد کا بجلیاں پیدا کرنے والا ساز بھی کوئی نوا نہیں پیدا کرتا تھا ؛ پردہء ساز میں اس کا نغمہ ترتیب نہیں پایا تھا (پردہ موسیقی کی اصطلاح ہے)۔

گوشمال جستجو نا خوردہ ئی

زخمہ ہای آرزو نا خوردہ ئی

شوق جستجو نے اس کی گوشمالی نہیں کی تھی (اس کو عمل پر نہیں اکسایا تھا) اس کے ساز کے تار آرزو کے مضراب سے نا آشنا تھے۔

نا بسامان محفل نوزادہ اش

می توان با پنبہ چیدن بادہ اش

اوّلین محفل انسان کسی سر و سامان کے بغیر تھی؛ اس کی شراب (اتنی کم تھی) کہ اسے روئی کے ایک پنبہ میں جذب کیا جا سکتا تھا۔

نو دمیدہ سبزہ ی خاکش ہنوز

سرد خون اندر رگ تاکش ہنوز

اس کی خاک سے سبزے نے ابھی سر نکالا تھا؛ اس کے انگور کی رگ میں خون ابھی سرد تھا۔

منزل دیو و پری اندیشہ اش

از گمان خود رمیدن پیشہ اش

اس کی سوچ جنّوں اور پریوں کے قصّوں تک محدود تھی؛ وہ اپنے اوہام سے ڈر کر بھاگتا تھا۔

تنگ میدان ہستی خامش ہنوز

فکر او زیر لب بامش ہنوز

اس کے ہنگاموں سے خالی وجود کا میدان ابھی تک تنگ تھا؛ اور اس کی سوچ ا بھی تک زیر لب بام (پست) تھی۔

بیم جان سرمایہ ی آب و گلش

ہم ز باد تند می لرزد دلش

اسے ہر وقت جان کا خطرہ لگا رہتا تھا؛ ذرا تیز ہوا چلتی تو اس کا بدن کانپنے لگتا۔

جان او از سخت کوشی رم زند

پنچہ در دامان فطرت کم زند

ابھی اس کی جان سخت محنت سے گھبراتی تھی؛ اس نے فطرت کے رازوں کو جاننے کی کبھی کوشش نہ کی تھی۔

ہر چہ از خود می دمد برداردش

ہر چہ از بالا فتد برداردش

جو کچھ زمین سے خود بخود پیدا ہوتا وہ اسے اٹھا لیتا؛ اور جو پھل درختوں سے گرتا اس پر گزارہ کر لیتا۔

تا خدا صاحبدلی پیدا کند

کو ز حرفی دفتری املا کند

یہاں تک کہ اللہ تعالے نے ایک صاحب دل (نبی) پیدا کیا؛ اس نے ایک حرف (فرد) سے دفتر (اللہ) لکھوا دیا۔

ساز پردازی کہ از آوازہ ئی

خاک را بخشد حیات تازہ ئی

وہ ایک ایسا صاحب ساز ہوتا ہے جو اپنے نغمہ سے خاک (انسان) کو نئی زندگی عطا کر دیتا ہے۔

ذرہ ی بے مایہ ضو گیرد ازو

ہر متاعی ارج نو گیرد ازو

ذرہء ناچیز (فرد) اس سے روشنی پاتا ہے اور (زندگی کی) ہر متاع اس کی وجہ سے قدر و نئی قیمت پاتی ہے۔

زندہ از یک دم دو صد پیکر کند

محفلی رنگین ز یک ساغر کند

وہ اپنی ایک پھونک سے سینکڑوں انسانوں کو زندہ کر دیتا ہے اور ایک ساغر سے پوری محفل کو سرشار کر دیتا ہے۔

دیدہ ی او می کشد لب جان دمد

تا دوئی میرد یکی پیدا شود

اس کی نگاہ دوئی کو فنا کر دیتی ہے اور اس کے لب (افراد میں) یک رنگی کی جان پھونک دیتے ہیں۔

رشتہ اش کو بر فلک دارد سری

پارہای زندگی را ہمگری

اس کی (وحی) کا رشتہ جس کا سرا آسمان سے ملتا ہے؛ ٹکڑوں میں بٹی ہوئی زندگی کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔

تازہ انداز نظر پیدا کند

گلستان در دشت و در پیدا کند

وہ لوگوں میں نیا زاویہء نگاہ پیدا کر دیتا ہے؛ اور اس طرح دشت و در کے اندر گلستاں پیدا کر دیتا ہے۔

از تف او ملتی مثل سپند

بر جہد شور افکن و ہنگامہ بند

اس کی تپش سے حرمل کی مانند ملّت شور و ہنگامہ کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔

یک شرر می افکند اندر دلش

شعلہ ی در گیر می گردد گلش

وہ فرد کے دل میں ایک شرر ڈالتا ہے جس سے اس کا بدن سراپا شعلہ بن جاتا ہے۔

نقش پایش خاک را بینا کند

ذرہ را چشمک زن سینا کند

صاحب دل کا نقش پا مٹی کو صاحب نظر بنا دیتا ہے ؛ خاک کا ہر ذرّہ رشک طورسینا ہو جاتا ہے۔

عقل عریان را دہد پیرایہ ئی

بخشد این بے مایہ را سرمایہ ئی

وہ عقل عریاں کو لباس (عمل) عطا کرتا ہے؛ اور اس طرح اس ناچیز کو مالدار بنا دیتا ہے۔

دامن خود میزند بر اخگرش

ہر چہ غش باشد رباید از زرش

وہ اس کے انگارے کو اپنے دامن سے ہوا دیتا ہے اور اس کے سونے سے سارا کھوٹ نکال دیتا ہے۔

بندہا از پا گشاید بندہ را

از خداوندان رباید بندہ را

وہ غلام کے پاؤں کی زنجیریں کھول دیتا ہے اور اسے آقاؤں کے پنجے سے رہائی دلاتا ہے۔

گویدش تو بندہ ی دیگر نہ ئی

زین بتان بے زبان کمتر نہ ئی

اسے بتاتا ہے کہ تو کسی کا غلام نہیں ؛ تو ان بے زبان بتوں سے کمتر نہیں۔

تا سوی یک مدعایش می کشد

حلقہ ی آئین بپایش می کشد

یہاں تک کہ وہ اسے ایک مقصد کی طرف کھینچتا ہے اور اسے شریعت کا پابند بناتا ہے۔

نکتہ ی توحید باز آموزدش

رسم و آئین نیاز آموزدش

اسے از سر نو توحید کا سبق دیتا ہے اور اللہ تعالے سے نیازمندی ، رسوم و آداب سکھاتا ہے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: