(Rumuz-e-Bekhudi-04) (رکن اول – توحید) Rukan-e-Awal : Touheed

رکن اول: توحید

در جہان کیف و کم گردید عقل

پی بہ منزل برد از توحید عقل

ملّت مسلمہ کے بنیادی ارکان

پہلا رکن: توحید

جذبات و پیمائش کی اس دنیا میں عقل آوارہ پھر رہی تھی؛ توحید سے اسے منزل کی طرف رہنمائی حاصل ہوئی۔

ورنہ این بیچارہ را منزل کجاست

کشتی ادراک را ساحل کجاست

ورنہ عقل کو منزل کہاں نصیب تھی؛ فہم کی کشتی کے لیے کوئی ساحل نہیں تھا۔

اہل حق را رمز توحید ازبر است

در “اتی الرحمن عبدا”ٔ مضمر است

اہل حق توحید کی رمز کو خوب جانتے ہیں ؛ یہی راز میں “اتی الرحمن عبدا”ٔمضمر ہے۔

تا ز اسرار تو بنماید ترا

امتحانش از عمل باید ترا

تیرے عقیدہ توحید کا امتحان عمل سے ہونا چاہئے تا کہ وہ تجھ پر تیری مخفی صلاحیتیں ظاہر کرے۔

دین ازو حکمت ازو آئین ازو

زور ازو قوت ازو تمکین ازو

دین، حکمت، شریعت سب توحید ہی سے ہیں؛ اسی سے (افراد و قوم ) میں زور، قوّت اور ثبات و استحکام پیدا ہوتا ہے۔

عالمان را جلوہ اش حیرت دہد

عاشقان را بر عمل قدرت دہد

اس کا جلوہ عالموں کو حیرت میں مبتلا کر دیتا ہے اور عاشقوں کو عمل کی قدرت عطا کرتا ہے۔

پست اندر سایہ اش گردد بلند

خاک چون اکسیر گردد ارجمند

اس کے سائے کے نیچے پست بلند ہو جاتے ہیں اور خاک اکسیر کی مانند قیمتی بن جاتی ہے۔

قدرت او برگزیند بندہ را

نوع دیگر آفریند بندہ را

توحید کی قدرت بندے کو برگزیدہ بنا دیتی ہے؛ اور اسے نئی نوع میں تبدیل کر دیتی ہے۔

در رہ حق تیز تر گردد تکش

گرم تر از برق خون اندر رگش

اس سے اللہ تعالے کی راہ میں بندے کی تگ و دو تیز ہو جاتی ہے؛ اور اس کی رگوں میں دوڑتا ہوا خون برق سے بھی زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔

بیم و شک میرد عمل گیرد حیات

چشم می بیند ضمیر کائنات

توحید سے بیم و شک ختم ہو جاتا ہے اور عمل زندہ ہوتا ہے؛ اور انسان کی نگاہ کائنات کے پوشیدہ راز دیکھنےلگتی ہے۔

چون مقام عبدۂ محکم شود

کاسہ ی دریوزہ جام جم شود

جب ‘عبدۂ’ کا مقام محکم ہوتا ہے تو کشکول گدائی جام جم بن جاتا ہے۔

ملت بیضا تن و جان لاالہ

ساز ما را پردہ گردان لاالہ

ملّت مسلمہ بدن ہے، اور توحید اس کی جان ہے؛ لاالہ ہمارے ساز کے سارے نغموں میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

لاالہ سرمایہ ی اسرار ما

رشتہ اش شیرازہ ی افکار ما

لاالہ ہمارے (روحانی ) اسرار کا سرمایہ ہے؛ اسی سے ہمارے افکار کی شیرازہ بندی ہے۔

حرفش از لب چون بدل آید ہمی

زندگی را قوت افزاید ہمی

جب یہ لفظ لب سے دل میں اتر جاتا ہے تو زندگی کی قوّت میں بے پناہ اضافہ کر دیتا ہے۔

نقش او گر سنگ گیرد دل شود

دل گر از یادش نسوزد گل شود

اگر پتھر بھی اس کا نقش اپنا لے تو وہ دل بن جاتا ہے؛ اور اگر دل اس کی یاد سے سوز حاصل نہ کرے تو وہ مٹی کے برابر ہے۔

چون دل از سوز غمش افروختیم

خرمن امکان ز آہی سوختیم

جب ہم نے اپنے دلوں میں توحید کی آگ روشن کی تو ایک ہی آہ نے امکانات کے خرمن کو جلا دیا۔(دور اوّل کے مسلمانوں نے چند ہی برسوں میں عمل کے میدان میں تا حد امکان کامیابیاں حاصل کر لیں۔)

آب دلہا در میان سینہ ہا

سوز او بگداخت این آئینہ ہا

توحید قلوب ملّت کی آب و تاب ہے؛ اسی کا سوز ان آئینوں میں گداز پیدا کرتا ہے۔

شعلہ اش چون لالہ در رگہای ما

نیست غیر از داغ او کالای ما

ہماری رگوں میں توحید کا شعلہ لالہ کی مانند (فروزاں) ہے؛ توحید کا نشان ہی ہمارا سر و سامان ہے۔

اسود از توحید احمر می شود

خویش فاروق و ابوذر می شود

توحید کی برکت سے حبشی سرخ رنگ والوں کے برابر ہو جاتا ہے؛ اور فاروق و ابوذر (رحمتہ) کا رشتہ دار شمار ہونے لگتا ہے (حضرت بلال (رحمتہ) کی مثال سامنے ہے)۔

دل مقام خویشی و بیگانگی است

شوق را مستی ز ہم پیمانگی است

اپنایت اور غیریت کا مقام دل ہے؛ اکٹھے بیٹھ کر (مئے توحید ) پینے والوں میں شوق کی مستی برابری پیدا کر دیتی ہے۔

ملت از یک رنگی دلہاستی

روشن از یک جلوہ این سیناستی

ملّت کا وجود دلوں کی یک رنگی سے ہے؛ یہ سینا ایک ہی جلوت (توحید ) سے روشن ہے۔

قوم را اندیشہ ہا باید یکی

در ضمیرش مدعا باید یکی

قوم کی سوچ ایک ہونی چاہئے اور اس کے رگ و ریشہ میں ایک ہی مقصود رچ جانا چاہئے۔

جذبہ باید در سرشت او یکی

ہم عیار خوب و زشت او یکی

اس کی سرشت میں ایک ہی جذبہ ہونا چاہئے ؛ اور اس کی اچھائی اور برائی کا معیار بھی ایک ہی ہونا چاہئے۔

گر نباشد سوز حق در ساز فکر

نیست ممکن این چنین انداز فکر

جب تک فکر کے ساز میں توحید کا سوز شامل نہ ہو ؛ اس قسم کا اندازفکر ممکن نہیں۔

ما مسلمانیم و اولاد خلیل

از “ابیکم” گیر اگر خواہی دلیل

ہم مسلمان ہیں اور حضرت خلیل اللہ (علیہ) کی اولاد ہیں؛ اگر دلیل چاہتا ہے تو ‘ابیکم’ (آیت 78:22) دیکھ لے۔

با وطن وابستہ تقدیر امم

بر نسب بنیاد تعمیر امم

قومیں اپنی تقدیر وطن سے وابستہ کرتی ہیں ؛ یا نسب کو اپنی تعمیر کی بنیاد بناتی ہیں۔

اصل ملت در وطن دیدن کہ چہ

باد و آب و گل پرستیدن کہ چہ

ملّت کی اصل وطن میں دیکھنے کا کیا مطلب ؛ مٹی اور آب و ہوا پوجنے کے کیا معنی؟

بر نسب نازان شدن نادانی است

حکم او اندر تن و تن فانی است

نسب پر فخر کرنا نادانی ہے؛ نسب کا تعلق بدن سے ہے اور بدن فانی ہے۔

ملت ما را اساس دیگر است

این اساس اندر دل ما مضمر است

ہماری ملّت کی بنیاد اور ہے؛ اور یہ بنیاد ہمارے دلوں کے اندر نہاں ہے۔

حاضریم و دل بغایب بستہ ایم

پس ز بند این و آن وارستہ ایم

ہم حاضر ہیں لیکن ہمارے دلوں کا تعلق غائب (اللہ) سے ہے؛ یہی وجہ ہے کہ ہم وطن اور نسب کے بندھنوں سے آزاد ہیں۔

رشتہ ی این قوم مثل انجم است

چون نگہ ہم از نگاہ ما گم است

ملّت اسلامیہ کا باہمی تعلق ستاروں کے تعلق کی مانند ہے؛ اور یہ تعلق نگاہ کی طرح ہماری نگاہ سے گم ہے۔

تیر خوش پیکان یک کیشیم ما

یک نما یک بین یک اندیشیم ما

ہم ایک ہی ترکش کے تیز آہنی نوک والے تیر ہیں ؛ ہم ایک سے نظر آتے ہیں ، ہم ایک ہی طرح دیکھتے ہیں اور ایک ہی طرح سے سوچتے ہیں۔

مدعای ما مآل ما یکیست

طرز و انداز خیال ما یکیست

ہمارا مدّعا بھی ایک ہے اور ہمارا مقصد بھی ایک ہے؛ ہماری سوچ بھی ایک ہے اور اس کے اظہار کا طریقہ بھی ایک جیسا ہے۔

ما ز نعمتہای او اخوان شدیم

یک زبان و یکدل و یکجان شدیم

یہ اللہ تعالے کی نعمت ہے ، کہ ہم آپس میں بھائی بھائی ہو گئے ؛ یک زبان، یک دل اور یک جان ہو گئے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: