(Rumuz-e-Bekhudi-27) (قل ہواللہ احد) Qul huwa Allahu ahad

مطالب مثنوی کا خلاصہ سورہ اخلاص کی تفسیر کی صورت میں : قل ہواللہ احد

من شبی صدیق را دیدم بخواب
گل ز خاک راہ او چیدم بخواب
(میں نے ایک رات سیدنا صدیق اکبر (رضی اللہ ) کو خواب میں دیکھا اور ان کے راستے کی خاک سے پھول چنے (ان کے ارشادات سے استفادہ کیا)۔)

آن “امن الناس” بر مولای ما
آن کلیم اول سینای ما
(وہ جن کے احسانات ہمارے آقا (صلعم) پر سب لوگوں سے زیادہ تھے؛ وہ جو ہمارے طور سینا (اسلام کا نور ہدایت ) کے پہلے کلیم تھے۔)

ہمت او کشت ملت را چو ابر
ثانی اسلام و غار و بدر و قبر
(ان کی ہمت و کوشش نے ملّت کی کھیتی کے لیے ابر کا کام کیا؛ وہ جو اسلام غار ثور اور غزوہء بدر اور اب قبر میں بھی حضور (صلعم) کے ساتھ دوسرے ہیں۔)

گفتمش اے خاصۂ خاصان عشق
عشق تو سر مطلع دیوان عشق
(میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا ، اے خاصہء خاصان عشق (رسول پاک صلعم) آپ کا عشق دیوان عشق کا مطلع ہے۔)

پختہ از دستت اساس کار ما
چارہ ئی فرما پی آزار ما
(ہمارے کار اسلام کی بنیاد آپ کے ہاتھ سے پختہ ہوئے؛ ہمارے دکھ کا کوئی علاج تجویز فرمایئے۔)

گفت تا کی در ہوس گردی اسیر
آب و تاب از سورۂ اخلاص گیر
(انہوں نے فرمایا تو کب تک ہوس کا قیدی رہے گا؛ سورہ اخلاص سے حرارت اور چمک حاصل کر۔)

اینکہ در صد سینہ پیچد یک نفس
سری از اسرار توحید است و بس
(یہ توحید کے اسرار کا ایک سر ّ ہے جو سینکڑوں سینوں میں ایک ہی سانس کی طرح آتا جاتا ہے۔)

رنگ او بر کن مثال او شوی
در جہان عکس جمال او شوی
(اللہ تعالے کا رنگ اپنا اسی کی مانند ہو جائے گا تو اس کے جمال کا عکس بن جائے گا۔)

آنکہ نام تو مسلمان کردہ است
از دوئی سوی یکی آوردہ است
(یہ جو اس نے تیرا نام مسلمان رکھا ہے اس سے تجھے ، کثرت سے وحدت کی جانب لایا گیا ہے۔)

خویشتن را ترک و افغان خواندہ ئی
وای بر تو آنچہ بودی ماندہ ئی
(تو اپنے آپ کو ترک و افغان کہتا ہے، افسوس ہے تجھ پر تو جو تھا وہی رہا۔)

وارہان نامیدہ را از نامہا
ساز با خم در گذر از جامہا
(امت مسلمہ کو ان ناموں سے چھٹکارا دلا؛ خم (اسلام) سے اپنی نسبت قائم رکھ، پیالوں پر نہ جا۔)

اے کہ تو رسوای نام افتادہ ئی
از درخت خویش خام افتادہ ئی
(تو جو ان ناموں میں پڑ کر رسوا ہو چکا ہے؛ تو درخت اسلام سے کچے پھل کی طرح گر چکا ہے۔)

با یکی ساز از دوئی بردار رخت
وحدت خود را مگردان لخت لخت
(توحید کو اپنا اور کثرت کو خیر باد کہہ؛ اپنی وحدت کو ٹکڑے ٹکڑے نہ کر۔)

اے پرستار یکی گر تو توئی
تا کجا باشی سبق خوان دوئی
(اے توحید کے پر ستار اگر تو واقعی تو ہے تو کب تک دوئی کا سبق پڑھتا رہے گا۔)

تو در خود را بخود پوشیدہ ئی
در دل آور آنچہ بر لب چیدہ ئی
(تو نے اپنا دروازہ اپنے اوپر بند کر لیا ہوا ہے؛ جو کچھ لب سے پڑھتا ہے (کلمہء توحید) اسے اپنے دل میں بھی اتار۔)

صد ملل از ملتے انگیختی
بر حصار خود شبیخون ریختی
(تو نے ایک ملّت سے سینکڑوں ملتیں بنا لی ہیں؛ تو نے اپنے قلعہ پر خود ہی شبخون مار کے اسے تباہ و برباد کر دیا ہے۔)

یک شو و توحید را مشہود کن
غائبش را از عمل موجود کن
(ایک ہو جا اور توحید کا عملی نمونہ پیش کر ؛ نظریہ ء توحید کو عمل سے وجود میں لا۔)

لذت ایمان فزاید در عمل
مردہ آن ایمان کہ ناید در عمل
(عمل سے ایمان کی لذت بڑھ جاتی ہے؛ جو ایمان عمل میں نہ آئے مر جاتا ہے۔)

از- علامہ محمد اقبال ؒ

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: