(Rumuz-e-Bekhudi-28) (اﷲالصمد) Allahu assamad

اﷲالصمد

گر بہ اﷲ الصمد دل بستہ ئی
از حد اسباب بیرون جستہ ئی
(اگر تو نے اﷲ الصمد سے دل لگایا ہے تو تو اسباب کی حدود کو پھلانگ گیا۔)

بندۂ حق بندۂ اسباب نیست
زندگانی گردش دولاب نیست
(اللہ تعالے کا بندہ بندہء اسباب نہیں؛ اس کے لیے زندگی رہٹ کی گردش نہیں۔)

مسلم استی بے نیاز از غیر شو
اھل عالم را سراپا خیر شو
(اگر تو مسلمان ہے تو غیر اللہ سے بے نیاز ہو جا اور دنیا والوں کے لیے سراپا خیر بن جا۔)

پیش منعم شکوۂ گردون مکن
دست خویش از آستین بیرون مکن
(دولتمند کے سامنے قسمت کی شکایت نہ کر اور رہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلا۔)

چون علی در ساز بانان شعیر
گردن مرحب شکن خیبر بگیر
(سیدنا علی مرتضی (رضی اللہ) کی طرح جؤ کی روٹی پر گذارہ کر؛ اور مرحب کی گردن توڑ اور خیبر فتح کر۔)

منت از اہل کرم بردن چرا
نشتر لا و نعم خوردن چرا
(دولتمند وں کا احسان کیوں اٹھائے گا ؛ ان کے ‘ہاں’ اور ‘نہ’ سے کیوں غم کھائے گا۔)

رزق خود را از کف دونان مگیر
یوسف استی خویش را ارزان مگیر
(رذیلوں کے ہاتھ سے رزق نہ لے؛ تو یوسف ہے اپنی قیمت کم نہ لگا۔)

گرچہ باشی مور و ھم بے بال و پر
حاجتی پیش سلیمانی مبر
(اگر تو بے بال و پر چیونٹی ہو تو بھی سلیمان (علیہ) کے سامنے اپنی حاجت پیش نہ کر۔)

راہ دشوار است سامان کم بگیر
در جہان آزاد زی آزاد میر
(راہ کٹھن ہے تھوڑا سامان لے؛ دنیا میں آزاد رہ اور آزاد مر۔)

سبحۂ “اقلل من الدنیا” شمار
از “تعش حراً” شوی سرمایہ دار
(دنیا سے ‘بہت قلیل لے’ کی تسبیح پھیر تاکہ تو ‘آزادانہ زندگی’ کا سرمایہ پائے۔)

تا توانی کیمیا شو گل مشو
در جھان منعم شو و سائل مشو
(جہاں تک ہو سکے کیمیا بن؛ مٹی نہ بن، دنیا میں غنا اختیار کر سائل نہ بن۔)

اے شناسای مقام بوعلی
جرعہ ئی آرم ز جام بوعلی
(تو حضرت بو علی (رضی اللہ) کے مقام کو پہچانتا ہے؛ میں تیرے لیے ان کے جام سے ایک الگ گھونٹ لایا ہوں۔)

“پشت پا زن تخت کیکاوس را
سر بدہ از کف مدہ ناموس را”
(‘تخت کیکاؤس کو ٹھوکر مار ؛ جان دے دے مگر ناموس ہاتھ سے نہ دے’)

خود بخود گردد در میخانہ باز
بر تہے پیمانگان بے نیاز
(ایسے خود دار لوگ جن کے پیمانے خالی ہیں ؛ ان پر میخانے کے دروازے خود بخود کھل جائیں گے۔)

قاید اسلامیان ہارون رشید
آنکہ نقفور آب تیغ او چشید
(عباسی فرمانروا ہارون الرشید جس کی تلوار کی کاٹ کا مزہ نقفور نے چکھا۔)

گفت مالک را کہ اے مولای قوم
روشن از خاک درت سیمای قوم
(اس نے امام مالک (رحمتہ اللہ) سے کہا اے آقائے قوم تیرے دروازے کی خاک سے قوم کی پیشانی چمک اٹھی ہے۔)

اے نوا پرداز گلزار حدیث
از تو خواہم درس اسرار حدیث
(گلزار حدیث کے نغمہ خواں میں آپ سے حدیث شریف کا درس لینا چاہتا ہوں۔)

لعل تا کی پردہ بند اندر یمن
خیز و در دارالخلافت خیمہ زن
(کب تک لعل یمن کے اندر پردہ بند رہے گا ؛ آپ اٹھیں اور دارا لخلافہ میں تشریف فرما ہوں۔)

اے خوشا تابانی روز عراق
اے خوشا حسن نظر سوز عراق
(عراق کے دنوں کی چمک کیا خوب ہے؛ عراق کا حسن ، نظر سوز کیا سہانا ہے۔)

میچکد آب خضر از تاک او
مرھم زخم مسیحا خاک او
(یہاں کے انگور سے آب حیات ٹپکتا ہے؛ یہاں کی خاک زخموں کے لیے مرہم مسیحا کا کام کرتی ہے۔)

گفت مالک مصطفی را چاکرم
نیست جز سودای او اندر سرم
(امام مالک (رحمتہ اللہ ) نے فرمایا میں جناب رسول پاک (صلعم) کا غلام ہوں ؛ میرے اندر صرف حضور (صلعم) کی غلامی کا سودا سمایا ہوا ہے۔)

من کہ باشم بستۂ فتراک او
بر نخیزم از حریم پاک او
(میں ان (صلعم) کی محبت کے فتراک میں بندھا ہوا ہوں اس لیے ان کے حریم پاک (مدینہ منوّرہ سے) کہیں جا نہیں سکتا۔)

زندہ از تقبیل خاک یثربم
خوشتر از روز عراق آمد شبم
(خاک یثرب کو بوسہ دینا ہی میری زندگی ہے؛ اس وجہ سے میری رات روز عراق سے بہتر ہے۔)

عشق می گوید کہ فرمانم پذیر
پادشاہان را بخدمت ہم مگیر
(عشق کہتا ہے کہ صرف میرا حکم مان؛ بادشاہوں کا حکم نہ مان۔)

تو ہمی خواہی مرا آقا شوی
بندۂ آزاد را مولا شوی
(تو چاہتا ہے کہ تو میرا آقا بنے؛ اور مجھ جیسے بندہء آزاد کو اپنا غلام بنائے۔)

بہر تعلیم تو آیم بر درت
خادم ملت نگردد چاکرت
(تجھے پڑھانے کے لیے میں تیرے دروازے پر آؤں ؛ ملّت کا خادم کسی فرد کا چاکر نہیں ہو سکتا۔)

بہرہ ئی خواہی اگر از علم دین
در میان حلقۂ درسم نشین
(تو اگر علم دین حاصل کرنا چاہتا ہے تو آ کر میرے حلقہء درس میں بیٹھ۔)

بے نیازی نازہا دارد بسی
ناز او اندازہا دارد بسے
(بے نیازی کے اندر بھی بہت سے ناز ہیں؛ اور اس ناز کے انداز بھی بہت سے ہیں۔)

بے نیازی رنگ حق پوشیدن است
رنگ غیر از پیرہن شوئیدن است
(بے نیازی اللہ تعالے کا رنگ اپنا اور غیر کا رنگ اپنے آپ سے دھو دینا ہے۔)

علم غیر آموختی اندوختی
روی خویش از غازہ اش افروختی
(تو نے غیروں کا علم سیکھا اور اسے اکٹھا کیا؛ ان کے غازے سے اپنا چہرہ چمکایا۔)

ارجمندی از شعارش میبری
من ندانم تو توئے یا دیگری
(ان کے شعار اختیار کر کے ارجمند ہونے کی کوشش کی؛ میں نہیں جانتا کہ تو تو ہے، یا کوئی اور (اب تیری شکل بھی پہچانی نہیں جاتی)۔)

از نسیمش خاک تو خاموش گشت
وز گل و ریحان تہی آغوش گشت
(غیروں کی نسیم نے تیری خاک کو بنجر بنا دیا اور گل و ریحان سے خالی کر دیا۔)

کشت خود از دست خود ویران مکن
از سحابش گدیۂ باران مکن
(اپنی کھیتی اپنے ہاتھ سے ویران نہ کر؛ غیروں کے بادل سے بارش کی بھیک نہ مانگ۔)

عقل تو زنجیری افکار غیر
در گلوی تو نفس از تار غیر
(تیری عقل بھی غیروں کے افکار کی قیدی بن چکی ہے؛ تیرے گلے میں جو سانس ہے وہ بھی غیروں کا مرہون منت ہے۔)

بر زبانت گفتگوہا مستعار
در دل تو آرزوہا مستعار
(تیری زبان کی گفتگو اور دل کی آرزو سب مستعار ہیں۔)

قمریانت را نواہا خواستہ
سروہایت را قباہا خواستہ
(تیری قمریوں کی نوا، اور تیرے سرو کی قبا مانگی ہوئی ہے۔)

بادہ می گیری بجام از دیگران
جام ھم گیری بوام از دیگران
(اپنے جام میں دوسروں سے شراب لیتا ہے؛ اور جام بھی دوسروں سے قرض لیتا ہے۔)

آن نگاہش سر “ما زاغ البصر”
سوی قوم خویش باز آید اگر
(وہ پاک ذات (صلعم) جن کی نگاہ ’ما زاغ البصر‘ کا راز تھی اگر وہ موجودہ مسلمانوں کی طرف دوبارہ تشریف لائیں۔)

می شناسد شمع او پروانہ را
نیک داند خویش و ہم بیگانہ را
(تو آپ (صلعم) کی شمع اپنے پروانے کو پہچان لے کہ کون ان میں سے اپنے ہیں اور کون بیگانے۔)

“لست منی” گویدت مولای ما
وای ما، اے وای ما، اے وای ما،
(ہم پر افسوس صد افسوس کہ (ہم میں سے بیشتر کے بارے میں) حضور (صلعم) یہ ارشاد فرمائیں کہ ‘تو مجھ سے نہیں ہے’۔)

زندگانی مثل انجم تا کجا
ہستی خود در سحر گم تا کجا
(کب تک ستاروں کی مانند اپنی ہستی کو دور حاضر کی صبح کاذب میں گم کیے رکھو گے۔)

ریوی از صبح دروغی خوردہ ئی
رخت از پہنای گردون بردہ ئی
(تو نے صبح کاذب سے فریب کھا کر اپنے آپ کو آسمان کی وسعت سے گم کر لیا ہے۔)

آفتاب استی یکی در خود نگر
از نجوم دیگران تابے مخر
(ذرا اپنی طرف نظر ڈال تو آفتاب ہے؛ تجھے دوسروں کے ستاروں سے روشنی لینے کی ضرورت نہیں۔)

بر دل خود نقش غیر انداختی
خاک بردی کیمیا در باختی
(تو نے اپنے دل پر غیروں کا نقش ثبت کر لیا ہے؛ تو نے ان سے خاک لے لی اور اپنی کیمیا کھو دی۔)

تا کجا رخشی ز تاب دیگران
سر سبک ساز از شراب دیگران
(تو کب تک دوسروں کی روشنی سے چمکے گا؛ غیروں کی شراب کا نشہ اپنے سر سے اتار دے۔)

تا کجا طوف چراغ محفلی
ز آتش خود سوز اگر داری دلی
(کب تک چراغ محفل کا طواف کرے گا؛ اگر دل رکھتا ہے تو اپنی آگ میں جل۔)

چون نظر در پردہ ہای خویش باش
می پر و اما بجای خویش باش
(نظر کی مانند اپنے پردوں کے اندر رہ؛ پرواز کر مگر اپنی جگہ پر رہتے ہوئے۔)

در جہان مثل حباب اے ہوشمند
راہ خلوت خانہ بر اغیار بند
(اے عقلمند حباب کی مانند اپنے خلوت خانے کے دروازے دوسروں پر بند رکھ۔)

فرد، فرد آمد کہ خود را وا شناخت
قوم، قوم آمد کہ جز با خود نساخت
(فرد وہ فرد ہے جس نے اپنے آپ کو پرانی طرح سمجھ لیا؛ قوم وہ قوم ہے جس نے اپنے سوائے کسی اور سے موافقت نہ کی۔)

از پیام مصطفی آگاہ شو
فارغ از ارباب دون اﷲ شو
(حضور اکرم (صلعم) کے پیغام کو سمجھ لے اور اللہ تعالے کے سوائے اور جتنے آقا ہیں ان سے فارغ ہو جا۔)

از- علامہ محمد اقبال ؒ

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close