(Rumuz-e-Bekhudi-29) (لم یلد ولم یولد) Lam yalid walam yoolad

لم یلد ولم یولد

قوم تو از رنگ و خون بالاتر است
قیمت یک اسودش صد احمر است
(ملت اسلامیہ رنگ و خون سے بالا تر ہے؛ اس کے ایک سیاہ فام کی قیمت سینکڑوں گوروں سے بڑھ کر ہے۔)

قطرۂ آب وضوی قنبری
در بھا برتر ز خون قیصری
(قنبر (حضرت علی (رحمتہ اللہ ) کا غلام) کے وضو کے پانی کا قطرہ خون قیصر کے قطرے سے قیمت میں کہیں بڑھ کر ہے۔)

فارغ از باب و ام و اعمام باش
ہمچو سلمان زادۂ اسلام باش
(باپ، ماں، اور چچاؤں کے رشتے سے فارغ ہو کر حضرت سلمان فارسی (رضی اللہ) کی طرح صرف اسلام زادہ بن۔)

نکتہ ئی اے ہمدم فرزانہ بین
شھد را در خانہ ہای لانہ بین
(اے عقلمند دوست بات کو سمجھنے کے لیے شہد کو شہد کے چھتے میں دیکھ۔)

قطرہ ئی از لالۂ حمراستی
قطرہ ئی از نرگس شہلاستی
(اس کا ایک قطرہ سرخ لالے سے بنا ہوتا ہے اور دوسرا نرگس شہلا سے۔)

این نمے گوید کہ من از عبہرم
آن نمی گوید من از نیلوفرم
(نہ یہ قطرہ کہتا ہے کہ میں نرگس سے ہوں اور نہ وہ قطرہ کہتا ہے کہ میں نیلوفر سے ہوں۔)

ملت ما شان ابراہیمی است
شہد ما ایمان ابراہیمی است
(ہماری ملت ابرہیمی شہد کا چھتہ ہے اور ہمارا شہد ایمان ابراہیمی ہے۔)

گر نسب را جزو ملت کردہ ئی
رخنہ در کار اخوت کردہ ئی
(اگر تو نے نسب کو ملت کا جزو بنایا تو اخوّت کے کام میں رخنہ ڈالا۔)

در زمین ما نگیرد ریشہ ات
ہست نا مسلم ہنوز اندیشہ ات
(تیری جڑ ہماری زمین میں مستحکم نہ ہو گی؛ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تیری سوچ ابھی تک نا مسلم ہے۔)

ابن مسعود آن چراغ افروز عشق
جسم و جان او سراپا سوز عشق
حضرت ابن مسعود (رحمتہ اللہ ) جو چراغ عشق کی (روشنی بڑھانے والے تھے؛ اور جن کے جسم و جان سوز عشق کے بڑھانے والے تھے۔)

سوخت از مرگ برادر سینہ اش
آب گردید از گداز آئینہ اش
(بھائی کی موت سے ان کا سینہ جل گیا؛ اور ان کے دل کا آئینہ گداز ہو کر پانی بن گیا۔)

گریہ ہای خویش را پایان ندید
در غمش چون مادران شیون کشید
(ان کے آنسو تھمتے ہی نہ تھے؛ وہ بھائی کے غم میں ماں کی طرح نالہ و فریاد کر رہے تھے۔)

“اے دریغا آن سبق خوان نیاز
یار من اندر دبستان نیاز”
(اور کہتے تھے) ‘ہائے افسوس میرا وہ بھائی جو نیاز عشق کا سبق خواں تھا؛ جو مکتب نیاز میں میرا ساتھی تھا’۔)

“آہ آن سرو سہی بالای من
در رہ عشق نبے ہمپای من”
(‘آہ وہ میرا بلند قامت سرو؛ جو نبی (صلعم) کے عشق کی راہ میں میرا ہمسفر تھا’۔)

“حیف او محروم دربار نبی
چشم من روشن ز دیدار نبی”
(‘افسوس وہ دربار نبی (صلعم) کی حاضری سے محروم ہو گیا ہے اور میری آنکھ دیدار نبی (صلعم) سے روشن ہے’۔)

نیست از روم و عرب پیوند ما
نیست پابند نسب پیوند ما
(ہمارا باہمی تعلق روم و عرب کی وجہ سے نہیں؛ نہ یہ تعلق نسب کا پابند ہے۔)

دل بہ محبوب حجازی بستہ ایم
زین جہت با یکدگر پیوستہ ایم
(ہم نے اپنا دل محبوب حجازی سے لگایا ہے ؛ اس لحاظ سے ہم ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔)

رشتۂ ما یک تولایش بس است
چشم ما را کیف صہبایش بس است
(صرف آپ (صلعم) کی محبت ہی سے ہمارا باہمی رشتہ ہے؛ ہماری آنکھ صرف آپ (صلعم) ہی کی (محبت کی) شراب سے مست ہے۔)

مستی او تا بخون ما دوید
کہنہ را آتش زد و نو آفرید
(جب آپ (صلعم) کی محبت کی سرمستی ہمارے خون میں رچ گئی تو فرسودہ (افکار ) جل گئے اور نئے پیدا ہوئے۔)

عشق او سرمایۂ جمعیت است
ہمچو خون اندر عروق ملت است
(آپ (صلعم) کا عشق ملت کی جمیعت کا سرمایہ ہے؛ وہ ملت کی رگوں میں خون کی مانند دوڑ رہا ہے۔)

عشق در جان و نسب در پیکر است
رشتۂ عشق از نسب محکم تر است
(عشق کا تعلق جان سے ہے اور نسب کا بدن سے؛ اس لیے عشق کا رشتہ نسب سے زیادہ پختہ ہے۔)

عشق ورزی از نسب باید گذشت
ہم ز ایران و عرب باید گذشت
(اگر تو نے عشق اختیار کیا ہے تو نسب کو ترک کر ؛ ایران و عرب وغیرہ ممالک سے تعلق چھوڑ دے۔)

امت او مثل او نور حق است
ہستی ما از وجودش مشتق است
(حضور (صلعم) کی امت آپ (صلعم) کی مانند اللہ تعالے کا نور ہے اور ہماری ہستی اس کے نور سے وجود میں آئی ہے۔)

“نور حق را کس نجوید زاد و بود
خلعت حق را چہ حاجت تار و پود”
(‘کوئی شخص اللہ تعالے کے نور کی جائے پیدائش نہیں دھونڈتا؛ حق تعالے کے لباس کو تار و پود کی کیا ضرورت ہے’۔)

ہر کہ پا در بند اقلیم و جد است
بے خبر از لم یلد لم یولد است
(جو شخص ملک اور نسب کی بندشوں میں گرفتار ہے وہ لم یلد لم یولد کے معنی سے بے خبر ہے۔)

از- علامہ محمد اقبال ؒ

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: