(Rumuz-e-Bekhudi-30) (ولم یکن لہ کفواً احد) Walam yakun lahu kufuwan ahad

ولم یکن لہ کفواً احد

مسلم چشم از جہان بر بستہ چیست؟
فطرت این دل بحق پیوستہ چیست؟
(مسلمان جس نے دنیا سے آنکھیں بند کر لی ہیں (اسے قابل التفات نہیں سمجھا) اور اللہ تعالے سے دل لگایا ہے اس کی فطرت کیا ہے؟)

لالہ ئی کو بر سر کوہی دمید
گوشۂ دامان گلچینی ندید
(اس کی مثال یوں ہے جیسے گل لالہ پہاڑ کی چوٹی پر اگا؛ اس نے گل چیں کا گوشہء دامن نہیں دیکھا۔)

آتش او شعلہ ئی گیرد بہ بر
از نفس ہای نخستین سحر
(صبح کے اوّلین جھونکوں سے آگ بھڑک کر شعلہ بن گئی۔)

آسمان ز آغوش خود نگذاردش
کوکب واماندہ ئی پنداردش
(آسمان نے اسے اپنی آغوش سے باہر نہ جانے دیا ؛ بلکہ اسے ایسا ستارہ سمجھا جو دوسرے ستاروں سے پیچھے رہ گیا ہو۔)

بوسدش اول شعاع آفتاب
شبنم از چشمش بشوید گرد خواب
(پہلی شعاع آفتاب نے اسے بوسہ دیا ؛ شبنم نے اس کی آنکھوں سے نیند کی گرد دھو ڈالی۔)

رشتۂ ئی با لم یکن باید قوی
تا تو در اقوام بے ہمتا شوی
(تجھے اللہ تعالے کی اس صفت ‘کہ کوئی اس کا ہمسر نہیں’ کے ساتھ اپنا تعلق قوی رکھنا چاہیئے تا کہ تو اقوام عالم میں بے مثل ہو جائے۔)

آنکہ ذاتش واحد است و لاشریک
بندہ اش ہم در نسازد با شریک
(وہ جس کی ذات واحد اور لا شریک ہے اس کا بندہ بھی اپنے ساتھ کسی کا شریک ہونا گوارا نہیں کرتا۔)

مومن بالای ھر بالاتری
غیرت او بر نتابد ہمسری
(مومن ہر بلند تر سے بھی اونچا ہے؛ اس کی غیرت کوئی ہمسر برداشت نہیں کرتی۔)

خرقۂ “لا تحزنوا” اندر برش
“انتم الاعلون” تاجی بر سرش
(اس نے ’لا تحزنوا‘ (غم نہ کھا ) کا خرقہ پہن رکھا ہے ؛ اور ’انتم الاعلون‘ (تم ہی بلند ہو گے) کا تاج اپنے سر پر سجا رکھا ہے۔)

می کشد بار دو عالم دوش او
بحر و بر پروردۂ آغوش او
(اس نے اپنے کندھوں پر دونوں جہانوں کا بوجھ اٹھا رکھا ہے؛ بحر و بر دونوں اس کی آغوش میں پرورش پاتے ہیں۔)

بر غو تندر مدام افکندہ گوش
برق اگر ریزد ہمی گیرد بدوش
(وہ ہر وقت بجلی کی کڑک سننے کا منتظر رہتا ہے ؛ اگر برق گرے تو اسے اپنے کندھوں پر برداشت کرتا ہے۔)

پیش باطل تیغ و پیش حق سپر
امر و نہی او عیار خیر و شر
(وہ باطل کے مقابلے میں تلوار ہے اور حق (کی مدافعت میں) سپر؛ اس کا کسی کام کا کرنا خیر و شر کہ معیار ہے۔)

در گرہ صد شعلہ دارد اخگرش
زندگی گیرد کمال از جوہرش
(اس کا انگارہ اپنے اندر سینکڑوں شعلے رکھتا ہے؛ اس کے جوہر سے زندگی کمال تک پہنچتی ہے۔)

در فضای این جہان ہای و ہو
نغمہ پیدا نیست جز تکبیر او
(اس جہان ہائے و ہو کی فضا میں صرف اس کا نعرہء تکبیر ہی نغمہ پیدا کرتا ہے۔)

عفو و عدل و بذل و احسانش عظیم
ہم بقہر اندر مزاج او کریم
(وہ عفو، عدل، سخاوت اور احسان کی عظیم صفات کا حامل ہے؛ قہر کے اندر بھی اس کے مزاج پر لطف و کرم غالب رہتا ہے۔)

ساز او در بزم ہا خاطر نواز
سوز او در رزم ہا آہن گداز
(بزم احباب میں اس کا ساز دلوں کو خوش کرتا ہے؛ جنگ میں اس کی حرارت پگھلا دیتی ہے۔)

در گلستان با عنادل ہم صفیر
در بیابان جرہ باز صید گیر
(گلستان میں وہ بلبلوں کے ساتھ ہمنوا ہوتا ہے؛ اور صحرا میں نر باز کی طرح شکار کرتا ہے۔)

زیر گردون می نیاساید دلش
بر فلک گیرد قرار آب و گلش
(اس کا دل دنیا میں آسودگی نہیں پاتا؛ اس کا بدن آسمان پر قرار پاتا ہے۔)

طایرش منقار بر اختر زند
آنسوی این کہنہ چنبر بر زند
(اس کا پرندہ ستاروں پر چونچ مارتا ہے؛ وہ اس بوڑھے آسمان سے پرلی طرف اڑتا ہے۔)

تو بہ پروازی پری نگشودہ ئی
کرمک استی زیر خاک آسودہ ئی
(مگر پرواز کے لیے اپنے پر نہیں کھولتا تو، کیڑے کی طرح خاک کے اندر ہی خوش رہتا ہے۔)

خوار از مہجوری قرآن شدی
شکوہ سنج گردش دوران شدی
(تو قرآن پاک (پر عمل ) چھوڑنے کی وجہ سے ذلیل و خوار ہو چکا ہے اور شکوہ گردش دوراں کا کرتا ہے۔)

اے چو شبنم بر زمین افتندہ ئی
در بغل داری کتاب زندہ ئی
(اے وہ جو زمین پر گرے ہوئے شبنم کے قطرے کی مانند ہے (اس بات کو سمجھ ) کہ تیری بغل میں کتاب زندہ موجود ہے۔)

تا کجا در خاک می گیری وطن
رخت بردار و سر گردون فکن
(تو کب تک خاک کو اپنا وطن بنائے رکھے گا؛ یہاں سے اپنا سامان اٹھا اور اسے آسمان تک لے جا۔)

از- علامہ محمد اقبال ؒ

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: