(Rumuz-e-Bekhudi-31) (عرض حال مصنف با حضور رحمتہ للعالمین) A’rz-e-Hal-e-Musanif Ba Huzur Rahmatul-lil-Alameen (S.A.W)

عرض حال مصنف بحضور رحمة للعالمین
عرض حال مصنّف بحضور رحمتہ ا لعالمین (صلعم)۔


اے ظہور تو شباب زندگی
جلوہ ات تعبیر خواب زندگی
(آپ (صلعم) کی تشریف آوری سے زندگی اپنے شباب کو پہنچی ؛ آپ (صلعم) کا ظہور خواب زندگی کی تعبیر ہے ( آپ صلعم) مقصود کائنات ہیں۔)

اے زمین از بارگاہت ارجمند
آسمان از بوسۂ بامت بلند
(اس زمین نے آپ (صلعم) کی بارگاہ کے سبب شرف پایا ؛ آسمان نے آپ (صلعم) کی بارگاہ کے بام کو بوسہ دے کر بلند مرتبہ حاصل کیا۔)

شش جہت روشن ز تاب روی تو
ترک و تاجیک و عرب ہندوی تو
(آپ (صلعم) کے چہرہ مبارک کے نور سے شش جہات روشن ہیں؛ ترک، تاجک اور عرب سب آپ (صلعم) کے غلام ہیں۔)

از تو بالا پایۂ این کائنات
فقر تو سرمایۂ این کائنات
(اس کائنات کا مرتبہ آپ (صلعم) کی وجہ سے بلند ہوا؛ آپ (صلعم) کا فقر کائنات کی دولت ہے۔)

در جہان شمع حیات افروختی
بندگان را خواجگی آموختی
(آپ (صلعم) نے جہان میں زندگی کی شمع روشن کی ؛ اور غلاموں کو آقائی سکھائی۔)

بے تو از نابودمندیہا خجل
پیکران این سرای آب و گل
(آپ (صلعم) کے بغیر اس سارے آب و گل (دنیا ) کے سارے پیکر اپنی کم مائیگی کے سبب شرمسار ہیں۔)

تا دم تو آتشے از گل گشود
تودہ ہای خاک را آدم نمود
(جب آپ (صلعم) نے مٹی کے پیکروں کے اندر سے (عشق) کی آگ نکالی؛ تو ان خاک کے تودوں نے آدم کی صورت اختیار کر لی۔)

ذرہ دامن گیر مہر و ماہ شد
یعنی از نیروی خویش آگاہ شد
(پھر یہ انسان جو ذرّہ تھا ، مہر و ماہ کا ہم پایہ ہو گا؛ یعنی اس نے اپنی قوّتوں سے آگاہی پائی۔)

تا مرا افتاد بر رویت نظر
از اب و ام گشتۂ ئی محبوب تر
(جب سے میری نظر آپ (صلعم) کے چہرہ مبارک پر پڑی ہے؛ آپ (صلعم) مجھے ماں باپ سے زیادہ محبوب ہو گئے۔)
(تم میں سے کوئی شخص صاحب ایمان نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین ، اولاد اور تمام انسانوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں – حدیث شریف۔)

عشق در من آتشے افروخت است
فرصتش بادا کہ جانم سوخت است
(آپ (صلعم) کے عشق نے میرے اندر آگ بھڑکا دی ہے؛ عشق کو فرصت مبارک کیونکہ اب میری جان جل چکی ہے۔)

نالہ ئی مانند نے سامان من
آن چراغ خانۂ ویران من
(بانسری کی مانند نالہ ہی میرا سامان ہے اور یہی میرے خانہء ویران کا چراغ ہے۔)

از غم پنہان نگفتن مشکل است
بادہ در مینا نہفتن مشکل است
(غم پنہاں کی بات نہ کرنا بہت مشکل ہے جیسے شراب کو مینا میں چھپانا مشکل ہے۔)

مسلم از سر نبی بیگانہ شد
باز این بیت الحرم بتخانہ شد
(مسلمان عشق نبی (صلعم) سے بیگانہ ہوا اور اس کی وجہ سے یہ بیت الحرم (دل) دوبارہ بتخانہ بن گیا۔)

از منات و لات و عزی و ھبل
ہر یکی دارد بتی اندر بغل
(ہر مسلمان لات، منات، عزی اور ہبل جیسے بتوں میں سے کوئی نہ کوئی بت اپنی بغل میں رکھے ہوئے ہے۔)

شیخ ما از برہمن کافر تر است
زانکہ او را سومنات اندر سر است
(ہمارا شیخ برہمن سے زیادہ کافر ہے کیونکہ اس کا سومنات اس کے سر کے اندر ہے۔)

رخت ہستی از عرب برچیدہ ئی
در خمستان عجم خوابیدہ ئی
(اس نے عرب سے اپنی زندگی کا تعلق منقطع کر لیا ہے اور عجم کے خمستان میں جا کے سو گیا ہے۔)

شل ز برفاب عجم اعضای او
سرد تر از اشک او صہبای او
(عجم کے برفاب سے اس کے اعضا شل ہو گئے ہیں ؛ اس کی شراب اس کے آنسوؤں سے بھی زیادہ سرد ہے۔)

ہمچو کافر از اجل ترسندہ ئی
سینہ اش فارغ ز قلب زندہ ئی
(وہ کافروں کی طرح موت سے ڈرتا ہے؛ اس کا سینہ قلب زندہ سے محروم ہے۔)

نعشش از پیش طبیبان بردہ ام
در حضور مصطفی آوردہ ام
(میں نے اس کی نعش کو طبیبوں کے سامنے سے اٹھایا اور اسے جناب رسول پاک (صلعم) کے حضور میں لے آیا۔)

مردہ بود از آب حیوان گفتمش
سری از اسرار قرآن گفتمش
(میں نے عرض کیا) یہ مردہ تھا ، میں نے اسے آب حیات کی باتیں سنائیں ہیں؛ میں نے اسے قرآن پاک کے اسرار میں سے بعض سرّ بیان کیے۔)

داستانی گفتم از یاران نجد
نکہتی آوردم از بستان نجد
(میں نے اسے یاران نجد کی داستان سنائ ؛ میں اس کے لیے نجد کے گلستان کی خوشبو لایا۔)

محفل از شمع نوا افروختم
قوم را رمز حیات آموختم
(میں نے محفل کو اپنی آواز کی شمع سے روشن کیا اور قوم کو رمز حیات سکھائی۔)

گفت بر ما بندد افسون فرنگ
ہست غوغایش ز قانون فرنگ
(اس نے کہا کہ یہ شخص ہم پر فرنگیوں کا افسوں پھونک رہا ہے ؛ اس کا سارا غوغا ساز فرنگ کا مرہون منت ہے۔)

اے بصیری را ردا بخشندہ ئی
بربط سلما مرا بخشندہ ئی
(آپ (صلعم) نے بصیری کو اپنی چادر مبارک عطا فرمائی تھی اور آپ (صلعم) نے مجھے بربط سلمی عطا فرمائی ہے۔)

ذوق حق دہ این خطا اندیش را
اینکہ نشناسد متاع خویش را
(ان غلط سوچ رکھنے والوں کو جو اپنی متاع کو بھی نہیں پہحانتے سچائی کا ذوق عطا فرمایئے۔)

گر دلم آئینۂ بے جوہر است
ور بحرفم غیر قرآن مضمر است
(اگر میرے دل کا آئینہ جوہر کے بغیر ہے ، اگر میرے اشعار میں قرآن پاک کے علاوہ کچھ اور پوشیدہ ہے۔)

اے فروغت صبح اعصار و دہور
چشم تو بینندۂ ما فی الصدور
(آپ (صلعم) کا نور اعصار و دہور (عصر و دہر کی جمع) کی صبح ہے؛ آپ (صلعم) کی آنکھ پر دلوں کی بات روشن ہے۔)

پردۂ ناموس فکرم چاک کن
این خیابان را ز خارم پاک کن
(اگر میں قرآن پاک کے علاوہ کچھ اور کہہ رہا ہوں ) تو آپ (صلعم) میرے فکر کے شرف کا پردہ چاک کر دیجیئے اور خیابان (دنیا) کو میرے کانٹے سے پاک کر دیجیئے۔)

تنگ کن رخت حیات اندر برم
اہل ملت را نگہدار از شرم
(زندگی کے لباس کو مجھ پر تنگ کر دیجئے اور مسلمان کو میری شاعری کی شرم سے محفوظ رکھیئے۔)

سبز کشت نابسامانم مکن
بہرہ گیر از ابر نیسانم مکن
(میری کشت ویران کو سرسبز نہ کیجیئے ؛ اسے ابر بہار سے بہرہ مند نہ فرمائیے۔)

خشک گردان بادہ در انگور من
زہر ریز اندر مے کافور من
(میرے انگور کے اندر جو شراب ہے اسے خشک کر دیجئے ؛ میری کافوری شراب کے اندر زہر ڈال دیجئے۔)

روز محشر خوار و رسوا کن مرا
بے نصیب از بوسۂ پا کن مرا
(مجھے قیامت کے روز خوار و رسوا کیجئے ؛ یعنی اپنے بوسہء پا سے محروم رکھیئے۔)

گر در اسرار قرآن سفتہ ام
با مسلمانان اگر حق گفتہ ام
(لیکن اگر میں نے اپنی شاعری میں قرآن پاک کے موتی پروئے ہیں اور اگر میں نے مسلمانوں سے حق بات کہی ہے۔)

اے کہ از احسان تو ناکس ، کس است
یک دعایت مزد گفتارم بس است
(تو اے وہ ذات جس کے احسان سے ناکس کس بن جاتا ہے؛ (میرے لیے دعا فرمایئے ) اور یہ کہ دعا ہی میری ساری گفتار کا اجر ہو گا۔)

عرض کن پیش خدای عزوجل
عشق من گردد ھم آغوش عمل
(خدائے عزّ و جل کے سامنے عرض کیجیئے کہ میرا عشق عمل سے ہمکنار ہے۔)

دولت جان حزین بخشیدہ ئی
بہرہ ئی از علم دین بخشیدہ ئی
(آپ نے مجھے غمگسار جان کی دولت عطا فرمائی ہے ؛ آپ نے مجھے علم و دین کا وافر حصّہ بخشا ہے۔)

در عمل پایندہ تر گردان مرا
آب نیسانم گہر گردان مرا
(مجھے عمل میں پائیندہ تر کر دیجیے ؛ میں بارش کا قطرہ ہوں مجھے گوہر بنا دیجیے۔)

رخت جان تا در جہان آوردہ ام
آرزوی دیگرے پروردہ ام
(جب سے میں دنیا میں جان کا سامان لایا ہوں (پیدا ہوا ہوں) ؛ میرے دل میں ایک آرزو بھی پرورش پا رہی ہے۔)

ہمچو دل در سینہ ام آسودہ است
محرم از صبح حیاتم بودہ است
(یہ آرزو میرے سینے میں دل کی مانند آسودہ رہتی ہے؛ اور صبح حیات (شروع ہی سے ) میرے ساتھ رہی ہے۔)

از پدر تا نام تو آموختم
آتش این آرزو افروختم
(جب سے میں نے اپنے والد صاحب سے آپ کا نام سیکھا ؛ اسی وقت سے اس آرزو کی آگ میرے دل میں روشن رہی۔)

تا فلک دیرینہ تر سازد مرا
در قمار زندگی بازد مرا
(جب زمانے نے مجھے معمر کیا؛ اور زندگی کے کھیل میں مجھے آگے بڑھایا۔)

آرزوی من جوان تر می شود
این کہن صہبا گران تر می شود
(میری یہ آرزو اور جوان ہوتی گئی ؛ یہ شراب پرانی ہو کر اور قیمتی بن گئی۔)

این تمنا زیر خاکم گوہر است
در شبم تاب ہمین یک اختر است
(میری خاک بدن کے اندر یہ تمنا موتی بن کر چمکتی رہی؛ میری زندگی کی تاریک رات اسی ایک ستارے سے روشن ہے۔)

مدتے با لالہ رویان ساختم
عشق با مرغولہ مویان باختم
(ایک عمر تک میں نے حسینوں سے راہ و رسم رکھی اور گنگریالے بالوں والے محبوبوں سے عشق کرتا رہا۔)

بادہ ہا با ماہ سیمایان زدم
بر چراغ عافیت دامان زدم
(ماہ رخوں کے ساتھ میں نے شراب کے جام لنڈھائے اور اطمینان و سکون کا چراغ بجھاتا رہا۔)

برقہا رقصید گرد حاصلم
رھزنان بردند کالای دلم
(میرے خرمن کے گرد بجلیاں رقص کرتا رہیں اور ان رہزنوں نے میرے دل کی دولت لوٹ لی۔)

این شراب از شیشۂ جانم نریخت
این زر سارا ز دامانم نریخت
(مگر اس تمنا کی شراب میری جان کے جام سے نہ نکل سکی ؛ یہ زر خالص میرے دامن میں محفوظ رہا۔)

عقل آزر پیشہ ام زنار بست
نقش او در کشور جانم نشست
(میری عقل آزر پیشہ نے زنّار باندھا ؛ اور میری جان کی ولایت میں اس کا نقش بیٹھ گیا۔)

سالہا بودم گرفتار شکی
از دماغ خشک من لاینفکی
(کئی برس تک میں شکوک میں گرفتار رہا ؛ اور یہ شکوک میرے خشک دماغ کا جزو لاینفک بن گیا۔)

حرفی از علم الیقین ناخواندہ ئی
در گمان آباد حکمت ماندہ ئی
(میرے دماغ نے علم ا لیقین کا کوئی حرف نہ پڑھا ؛ وہ فلسفے کے گماں آباد ہی میں بھٹکتا رہا۔)

ظلمتم از تاب حق بیگانہ بود
شامم از نور شفق بیگانہ بود
(میرے دماغ کی سیاہی حق کی روشنی سے نا آشنا تھی ؛ میری شام نور شفق سے بیگانہ تھی۔)

این تمنا در دلم خوابیدہ ماند
در صدف مثل گہر پوشیدہ ماند
(مگر یہ تمنا میرے دل میں خوابیدہ رہی ؛ اور صدف میں موتی کی طرح پوشیدہ رہی۔)

آخر از پیمانۂ چشمم چکید
در ضمیر من نواہا آفرید
(آخر یہ میری آنکھوں کے پیمانے سے چھلک پڑی اور اس نے میرے ضمیر کے اندر سے نغمے پیدا کیے۔)

اے ز یاد غیر تو جانم تہی
بر لبش آرم اگر فرمان دہی
(میری جان آپ (صلعم) کی یاد کے علاوہ کسی اور کی یاد سے خالی ہے (میرے دل میں صرف آپ (صلعم) ہی بستے ہیں) اگر اجازت ہو تو میں وہ آرزو لبوں تک لے آؤں۔)

زندگی را از عمل سامان نبود
پس مرا این آرزو شایان نبود
(میں جانتا ہوں کہ میری زندگی میں عمل کا کوئی سامان نہیں اس لیے مجھے یہ آرزو زیب نہیں دیتی۔)

شرم از اظہار او آید مرا
شفقت تو جرأت افزاید مرا
(اس کے اظہار سے میں شرم محسوس کرتا ہوں، لیکن آپ (صلعم) کی شفقت میرا حوصلہ بڑھتی ہے۔)

ہست شأن رحمتت گیتی نواز
آرزو دارم کہ میرم در حجاز
(آپ (صلعم) کی شان رحمت ایک زمانے کو نوازتی ہے، میری یہ آرزو ہے کہ میرا آخری وقت حجاز میں آئے۔)

مسلمی از ماسوا بیگانہ ئی
تا کجا زناری بتخانہ ئی
(وہ مسلم جو غیر اللہ سے بیگانہ ہے؛ کب تک بتخانے کا زنّار رہے۔)

حیف چون او را سرآید روزگار
پیکرش را دیر گیرد در کنار
(صد حیف کہ جب اس کا آخری وقت آئے تو اس کے بدن کو بتخانہ اپنے پہلو میں جگہ دے۔)

از درت خیزد اگر اجزای من
وای امروزم خوشا فردای من
(لیکن) اگر میرے بدن کے اجزا آپ (صلعم) کے در مبارک سے اٹھیں؛ تو اگرچہ میرا امروز اچھا نہیں (مگر) میرا کل مبارک ہو جائے۔)

فرخا شھری کہ تو بودی در آن
اے خنک خاکی کہ آسودی در آن
(مبارک ہے وہ شہر جہاں آپ (صلعم) تشریف فرما ہیں ؛ کیا ٹھنڈی ہے وہ خاک جس میں آپ (صلعم) آرام فرما ہیں۔)

“مسکن یار است و شہر شاہ من
پیش عاشق این بود حب الوطن”
(‘یہ ہمارے شاہ کا شہر اور ہمارے محبوب کا مسکن ہے؛ عاشقوں کے ہاں یہی حب الوطنی ہے ‘۔)

کوکبم را دیدۂ بیدار بخش
مرقدی در سایۂ دیوار بخش
(میری قسمت کے ستارے کو بھی دیدہء بیدار عطا فرمایئے (میری قسمت بھی چمک اٹھے) اپنی دیوار کے سائے میں مجھے مراد نصیب فرمایئے۔)

تا بیاساید دل بے تاب من
بستگی پیدا کند سیماب من
(تاکہ میرے دل بیدار کو سکون نصیب ہو اور میرا دل جو سیماب کی طرح مضطرب ہے اسے قرار آ جائے۔)

با فلک گویم کہ آرامم نگر
دیدہ ئی آغازم، انجامم نگر
(اور میں فلک سے کہہ سکوں کہ میری آخری آرام گاہ دیکھ؛ تو نے میرا آغاز بھی دیکھا تھا اب میرا انجام بھی دیکھ۔)

از- علامہ محمد اقبال ؒ

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: