(Rumuz-e-Bekhudi-13) (در معنی اینکہ چون ملت محمدیہ) Dar Ma’ani Aynke Chun Millat-e-Muhammadia Mosas Bar Touheed Wa Risalat

در معنی اینکہ چون ملت محمدیہ موسس بر توحید و رسالت است پس نہایت مکانی ندارد

(اس مضمون کی وضاحت میں کہ چونکہ ملّت محمدیہ (صلعم) کی بنیاد توحید و رسالت پر ہے اس لیے یہ مکان کی حدود سے ماورا ہے۔)

 

 

جوہر ما با مقامی بستہ نیست

بادہ ی تندش بجامی بستہ نیست

ہماری ملّت کا جوہر کسی سر زمین سے وابستہ نہیں ہے؛ اس کی تیز و تند شراب کا دار و مدار جام پر ہے۔

 

ہندی و چینی سفال جام ماست

رومی و شامی گل اندام ماست

ہندی اور چینی ہمارے جام کی مٹی ہیں ؛ اور رومی و شامی ہمارے (ملّی ) بدن کی خاک ہیں۔

 

قلب ما از ہند و روم و شام نیست

مرز و بوم او بجز اسلام نیست

ہمارے قلب کا تعلق ہند، روم یا شام سے نہیں ہے؛ اسلام کے سوائے ہمارا کوئی اور وطن نہیں۔

 

پیش پیغمبر چو کعب پاک زاد

ھدیہ یی آورد از بانت سعاد

جب حضوت کعب (رضی اللہ) حضور اکرم (صلعم) کی خدمت میں قصیدہ بانت سعاد تحفہ لائے۔

 

در ثنایش گوہر شب تاب سفت

سیف مسلول از سیوف الہند گفت

کعب (رضی اللہ) نے آپ (صلعم) کی تعریف میں موتی پروئے اور آنجناب (صلعم) کو ہندی تلواروں میں ایک برہنہ تلوار کہا۔

 

آن مقامش برتر از چرخ بلند

نامدش نسبت بہ اقلیمی پسند

آنجناب (صلعم) جن کا مقام بلند آسمان سے بھی بلند تر ہے؛ آپ (صلعم) کو کسی سرزمین کے ساتھ اپنی نسبت پسند نہ آئی۔

 

گفت سیف من سیوف اللہ گو

حق پرستی جز براہ حق مپو

آپ (صلعم) نے فرمایا مجھے اللہ تعالے کی تلواروں میں سے ایک تلوار کہو؛ اب تو حق پرست ہے اس لیے صرف حق کی ہی بات کہو۔

 

ہمچنان آن رازدان جزو و کل

گرد پایش سرمہ ی چشم رسل

اس طرح حضور اکرم (صلعم) جو جزو کل کے رازدان ہیں اور جن کے پاؤں کی گرد دیگر رسل کی آنکھ کا سرمہ ہے۔

 

گفت با امت ز دنیای شما

دوست دارم طاعت و طیب و نسا

انہوں نے فرمایا کہ مجھے تمہاری دنیا سے طاعت (نماز) خوشبو اور عورت پسند ہے۔

 

گر ترا ذوق معانی رھنماست

نکتہ ئی پوشیدہ در حرف “شما”ست

اگر تو ذوق معنی سے بہرہ ور ہے؛ تو اس حدیث شریف کا راز لفظ شما میں ہے۔

 

یعنی آن شمع شبستان وجود

بود در دنیا و از دنیا نبود

گویا حضور اکرم (صلعم) جو شمع شبستان وجود ہیں ؛ دنیا میں ہوتے ہوئے بھی دنیا سے ماورا تھے۔

 

جلوہ ی او قدسیان را سینہ سوز

بود اندر آب و گل آدم ہنوز

آپ (صلعم) کا جلوہ اس وقت بھی فرشتوں کے سینوں کو گرما رہا تھا ؛ جب آدم کا بدن تخلیق کے اوّلین مراحل میں تھا۔

 

من ندانم مرز و بوم او کجاست

این قدر دانم کہ با ما آشناست

میں نہیں جانتا کہ حضور (صلعم) کا وطن کہاں ہے صرف اتنا جانتا ہوں کہ آپ (صلعم) ہم سے آشنا ہیں۔

 

این عناصر را جہان ما شمرد

خویشتن را میہمان ما شمرد

آپ (صلعم) نے عناصر کے اس جہان کو ہمارا جہان فرمایا؛ اور اپنے آپ (صلعم) کو ہمارا مہمان شمار کیا۔

 

زانکہ ما از سینہ جان گم کردہ ایم

خویش را در خاکدان گم کردہ ایم

چونکہ ہم اپنے سینہ سے جان گم کر چکے ہیں؛ اس لیے ہم اس خاکدان دنیا میں گم ہو گئے۔

 

مسلم استی دل بہ اقلیمی مبند

گم مشو اندر جہان چون و چند

تو مسلمان ہے اپنے آپ کو کسی ملک سے وابستہ نہ کر ؛ اس جہان میں اسباب و شمار میں گم نہ ہو جا۔

 

می نگنجد مسلم اندر مرز و بوم

در دل او یاوہ گردد شام و روم

مسلمان کسی وطن میں نہیں سماتا بلکہ سارے ممالک اس کے اندر گم ہو جاتے ہیں۔

 

دل بدست آور کہ در پہنای دل

می شود گم این سرای آب و گل

دل کو اپنے قبضے میں لا کیونکہ دل کی وسعتوں میں آب و گل کا یہ جہان گم ہے۔

 

عقدہ ی قومیت مسلم گشود

از وطن آقای ما ہجرت نمود

ہمارے آقائے نامدار (صلعم) نے وطن سے ہجرت کر کے قومیت کا عقدہ حل فرما دیا۔

 

حکمتش یک ملت گیتی نورد

بر اساس کلمہ ئی تعمیر کرد

آپ (صلعم) کی حکمت نے کلمہء توحید کی بنیاد پر ایک عالمگیر ملت کی بنیاد رکھی۔

 

تا ز بخششہای آن سلطان دین

مسجد ما شد ھمہ روی زمین

یہی وجہ ہے کہ اس سلطان دین (صلعم) کے کرم سے ساری زمین ہمارے لیے مسجد بنا دی گئی ہے۔

 

آنکہ در قرآن خدا او را ستود

آن کہ حفظ جان او موعود بود

آپ (صلعم) کی یہی شان ہے کہ اللہ تعالے قرآن پاک میں آپ (صلعم) کی تعریف فرماتے ہیں اور آپ (صلعم) کی جان کی حفاظت کا ذمہ لیتے ہیں۔

 

دشمنان بے دست و پا از ہیبتش

لرزہ بر تن از شکوہ فطرتش

آپ (صلعم) کی ہیبت سے دشمنوں کے ہاتھ پاؤں شل ہو جاتے تھے؛ آپ (صلعم) کے رعب سے ان کے بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔

 

پس چرا از مسکن آبا گریخت

تو گمان داری کہ از اعدا گریخت

تو پھر آپ (صلعم) نے اپنے آبا کا مسکن کیوں چھوڑا؟ کیا تیرا یہ گمان ہے کہ آپ (صلعم) نے دشمنوں سے ڈر کر ہجرت اختیار کی؟

 

قصہ گویان حق ز ما پوشیدہ اند

معنی ہجرت غلط فہمیدہ اند

قصّہ گو واعظوں نے سچی بات ہم سے چھپائی ہے؛ وہ ہجرت کے معنی غلط سمجھتے ہیں۔

 

ہجرت آئین حیات مسلم است

این ز اسباب ثبات مسلم است

ہجرت مسلمان کی زندگی کا آئین ہے اور ان اسباب میں سے ایک سبب ہے جن سے مسلم کے وجود کو ثبات حاصل ہوتا ہے۔

 

معنی او از تنک آبی رم است

ترک شبنم بہر تسخیر یم است

ہجرت کے معنی یہ ہیں کہ جہاں پانی (امکانات) کم ہو ؛ اس جگہ کو چھوڑ دیا جائے؛ شبنم کو چھوڑنا اس لیے تاکہ سمندر کو تسخیر کیا جائے۔

 

بگذر از گل گلستان مقصود تست

این زیان پیرایہ بند سود تست

پھول چھوڑ کر گلستان کو اپنا مقصود بنا؛ یہ نقصان فائدے کا پیش خیمہ ہے۔

 

مہر را آزادہ رفتن آبروست

عرصہ ی آفاق زیر پای اوست

آفتاب کی شان اسی میں ہے کہ وہ نسبت مکانی سے آزاد ہو؛ سارے آفاق کی پہنائی اس کے پاؤں تلے ہو۔

 

ہمچو جو سرمایہ از باران مخواہ

بیکران شو در جہان پایان مخواہ

ندی کی طرح بارش سے سرمایہ (آب) نہ طلب کر ؛ بیکراں ہو جا اور دنیا میں نہایت کا طلبگار نہ ہو۔

 

بود بحر تلخ رو یک سادہ دشت

ساحلی ورزید و از شرم آب گشت

بحر آب شور ایک سادہ بیابان تھا؛ اس نے ساحل اختیار کیا تو شرم سے پانی پانی ہو گیا۔

 

بایدت آہنگ تسخیر ھمہ

تا تو می باشی فراگیر ھمہ

تیرے اندر ہر شے کی تسخیر کا عزم ہونا چاہیے تاکہ تو سب کو اپنے اندر سمیٹ لے۔

 

صورت ماہی بہ بحر آباد شو

یعنی از قید مقام آزاد شو

مچھلی کی طرح سمندر میں آباد ہو اور مقام کی قید سے آزاد ہو جا۔

 

ہر کہ از قید جہات آزاد شد

چون فلک در شش جہت آباد شد

جو بھی اطراف حدود کی قید سے آزاد ہوا ؛ وہ آسمان کی طرح شش جہات میں آباد ہو گیا ( آسمان ہر جگہ نظر آتا ہے)۔

 

بوی گل از ترک گل جولانگر است

در فراخای چمن خود گسترست

پھول کی خوشبو پھول کو ترک کرنے سے ہر طرف جولانی اختیار کرتی ہے؛ اور چمن کی وسعت میں ہر طرف پھیل جاتی ہے۔

 

اے کہ یک جا در چمن انداختی

مثل بلبل با گلی در ساختی

اے وہ شخص جس نے باغ میں اپنے آپ کو ایک جگہ سے وابستہ کر لیا ہے؛ تو نے بلبل کی طرح ایک پھول سے دوستی لگا لی ہے۔

 

چون صبا بار قبول از دوش گیر

گلشن اندر حلقہ ی آغوش گیر

تجھے چاہئے کہ صبا کی مانند ایک جگہ ٹکے رہنے کا بوجھ کندھے سے اتار کر سارے گلشن کو اپنے حلقہ ء آغوش میں لے لے۔

 

از فریب عصر نو ہشیار باش

رہ فتد اے رہرو ہشیار باش

دور جدید کے (نظریہء نیشنلزم کے فریب سے ہوشیار رہ؛ یہاں قدم قدم پر ڈاکے پڑتے ہیں، آگاہ رہ۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: