(Rumuz-e-Bekhudi-05) (در معنی اینکہ یأس و حزن و خوف ام الحبا ئث است) Dar Ma’ani Aynke Yaas Wa Huzn Wa Khof Umm-ul-Khabais Ast

در معنی اینکہ یأس و حزن و خوف ام الحبا ئث است و قاطع حیات، و توحید ازالۂ این امراض خبیثہ می کند

(یس و حزن اور خوف ام الخبائث اور قاطع حیات ہیں، ان امراض خبیثہ کا ازالہ صرف توحید سے ہو سکتا ہے)

(اس مضمون کی وضاحت کہ نا امیدی غم اور ڈر سب برائیوں کی جڑ ہیں اور رشتہء حیات منقطع کرنے والی ہیں ، اور توحید ان امراض خبیثہ کا ازالہ کرتی ہے۔)


مرگ را سامان ز قطع آرزوست
زندگانی محکم از لاتقنطوا ست
امید چھوڑ دینا گویا موت کا سامان کرنا ہے؛ زندگی کا استحکام اسی سے ہے کہ انسان اللہ تعالے کی رحمت سے نا امید نہ ہو۔

تا امید از آرزوی پیہم است
نا امیدی زندگانی را سم است
(چونکہ مسلسل آرزو ہی سے امید قائم رہتی ہے اس لیے نا امید ی زندگی کے لیے زہر قاتل ہے۔)

نا امیدی ہمچو گور افشاردت
گرچہ الوندی ز پا می آردت
نا امیدی تجھے قبر کی طرح ریزہ ریزہ کر دیتی ہے؛ اگر تو پہاڑ بھی ہے تو یہ تجھے گرا دیتی ہے۔

ناتوانی بندہ ی احسان او
نامرادی بستہ ی دامان او
ناتوانی ناامیدی ہی کی لونڈی ہے اور ناکامی بھی اسی کے دامن سے وابستہ ہے۔

زندگی را یأس خواب آور بود
این دلیل سستی عنصر بود
نا امیدی زندگی کے لیے خواب آور ہے؛ یہ قوی کی کمزوری کی دلیل ہے۔

چشم جانرا سرمہ اش اعمی کند
روز روشن را شب یلدا کند
نا امیدی کا سرمہ جان کی آنکھ کو اندھا کر دیتا ہے اور اس کی وجہ سے روز روشن شب تاریک میں بدل جاتا ہے۔

از دمش میرد قوای زندگی
خشک گردد چشمہ ہای زندگی


خفتہ با غم در تہ یک چادر است
غم رگ جان را مثال نشتر است
نا امیدی غم کے ساتھ ایک چادر کے اندر سوئی رہتی ہے۔غم رگ جان کے لیے نشتر کی مانند ہے۔

اے کہ در زندان غم باشی اسیر
از نبی تعلیم لاتحزن بگیر
اے وہ شخص جو غم کے قید خانے میں اسیر ہے؛ جناب رسول پاک (صلعم) کے ارشاد (لاتحزن 40:9 – غم نہ کھا) سے سبق حاصل کر۔

این سبق صدیق را صدیق کرد
سر خوش از پیمانہ ی تحقیق کرد
اس سبق نے ابو بکر کو صدیق بنا دیا ؛ اور وہ حق الیقین کی مئے سے سرمست ہو گئے۔

از رضا مسلم مثال کوکب است
در رہ ہستی تبسم بر لب است
راضی بر رضا رہنے سے مسلمان ستارے کی مانند راہ حیات میں ہمیشہ متبسّم رہتا ہے۔

گر خدا داری ز غم آزاد شو
از خیال بیش و کم آزاد شو
اگر اللہ پر ایمان ہے تو ہر طرح کے غم اور نفع و نقصان کے خیال سے آزاد ہو جائے۔

قوت ایمان حیات افزایدت
ورد “لا خوف علیہم” بایدت
ایمان کی قوّت تیری زندگی بڑھاتی ہے (اس لیے) ’لا خوف علیہم‘ (38:2) کا ورد رکھنا چاہیے۔

چون کلیمی سوی فرعونی رود
قلب او از لاتخف محکم شود
جب موسی (علیہ) فرعون کی طرف گئے ؛ ان کا قلب لاتخف (68:20) سے مضبوط ہوا۔

بیم غیر اللہ عمل را دشمن است
کاروان زندگی را رہزن است
غیر اللہ کا خوف عمل کا دشمن اور قافلہ ءحیات کا رہزن ہے۔

عزم محکم ممکنات اندیش ازو
ھمت عالی تأمل کیش ازو
اس سے عزم محکم تشکیک کا شکار ہو جاتا ہے اور ہمت عالی تذبذب میں پڑ جاتی ہے۔

تخم او چون در گلت خود را نشاند
زندگی از خود نمائی باز ماند
جب غیر اللہ کے خوف کا بیج تیری مٹی (بدن) میں بیٹھ جاتا ہے؛ تو زندگی اپنی قوّتوں کے اظہار سے باز رہتی ہے۔

فطرت او تنگ تاب و سازگار
با دل لرزان و دست رعشہ دار
اس کی فطرت کمزور اور لرزنے والے دل اور کانپنے والے ہاتھ کے مطابق ہو جاتی ہے۔

دزدد از پا طاقت رفتار را
می رباید از دماغ افکار را
خوف اس کے پاؤں سے چلنے کی طاقت چرا لیتا ہے اور اس کے دماغ سے اعلی افکار چھین لیتا ہے۔

دشمنت ترسان اگر بیند ترا
از خیابانت چو گل چیند ترا
جب دشمن تجھے خوف زدہ دیکھتا ہے تو ایسے توڑ لیتا ہے جیسے کیاری سے پھول توڑا جاتا ہے۔

ضرب تیغ او قوی تر می فتد
ہم نگاہش مثل خنجر می فتد
اس کی تلوار کی ضرب تجھ پر اور زور سے پڑتی ہے؛ بلکہ اس کی نگاہ بھی خنجر کا اثر پیدا کرتی ہے۔

بیم چون بند است اندر پای ما
ورنہ صد سیل است در دریای ما
خوف ہمارے پاؤں میں زنجیر کی مانند ہے؛ ورنہ ہمارے دریائے (ہمت) میں سینکڑوں سیلاب موجود ہیں۔

بر نمے آید اگر آہنگ تو
نرم از بیم است تار چنگ تو
اگر تیرے ساز سے لے نہیں اٹھتی تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کی تار خوف کے باعث نرم ہو چکی ہے۔

گوشتابش دہ کہ گردد نغمہ خیز
بر فلک از نالہ آرد رستخیز
اس کے تار کس تاکہ ان سے نغمہ پیدا ہو؛ اور اس کا نالہ آسمان پر پہنچ کر محشر بپا کر دے۔

بیم، جاسوسی است از اقلیم مرگ
اندرونش تیرہ مثل میم مرگ
خوف حکومت مرگ کا جاسوس ہے؛ اور اس کے اندرون میم مرگ کی مانند تاریک ہے۔

چشم او برھمزن کار حیات
گوش او بزگیر اخبار حیات
اس جاسوس کی آنکھ زندگی کے معاملات کو درہم برہم کر دیتی ہے؛ اور اس کے کان زندگی کی بڑی بڑی خبریں چرا لے جاتے۔

ہر شر پنہان کہ اندر قلب تست
اصل او بیم است اگر بینی درست
تیرے دل کے اندر جو بھی برائی پنہاں ہے؛ اگر تو غور سے دیکھے تو اس کی بنیاد خوف ہے۔

لابہ و مکاری و کین و دروغ
این ہمہ از خوف می گیرد فروغ
خوشامد، مکّاری ، کینہ، جھوٹ یہ سب برائیاں خوف ہی سے فروغ پاتی ہیں۔

پردہ ی زور و ریا پیراہنش
فتنہ را آغوش مادر دامنش
خوف کا پیرہن جھوٹ اور ریا کاری کا پردہ ہے؛ اور اس کا دامن فتنے کے لیے آغوش مادر ہے۔

زانکہ از ھمت نباشد استوار
می شود خوشنود با ناسازگار
جو کوئی ہمت سے محکم نہیں وہ ناسازگار چیزوں سے بھی خوشی خوشی موافقت پیدا کر لیتا ہے۔

ہر کہ رمز مصطفی فہمیدہ است
شرک را در خوف مضمر دیدہ است
جس کسی نے حضور اکرم (صلعم) کے ارشادات کی حقیقت سمجھ لی وہ اس نے شرک و خوف کے اندر پوشیدہ دیکھ لیا ہے۔

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close