(Rumuz-e-Bekhudi-06) (محاورۂ تیر و شمشیر) Mahawara Teer Wa Shamsheer

محاورۂ تیر و شمشیر

(تیر و شمشیر کی گفتگو)

سر حق تیر از لب سوفار گفت

تیغ را در گرمی پیکار گفت

(تیر نے اپنی سوفار (تیر کا پچھلا حصّہ) کی زبان سے سچی بات کہی؛ اس نے گھمسان کی جنگ میں تلوار سے کہا۔)

اے پریھا جوہر اندر قاف تو

ذوالفقار حیدر از اسلاف تو

تیرے جو پر کوہ قاف کی پریوں کی مانند ہيں ؛ ذوالفقار حیدر (رضی اللہ) تیرے اسلاف میں سے تھی۔

قوت بازوی خالد دیدہ ئی

شام را بر سر شفق پاشیدہ ئی

تو نے حضرت خالد (رحمتہ) کے بازو کی قوّت دیکھی ہے؛ اور ملک شام پر خون کی شفق بکھیری ہے۔

آتش قہر خدا سرمایہ ات

جنت الفردوس زیر سایہ ات

(ایک طرف) اللہ تعالے کے قہر کی آگ تیرا سرمایہ ہے؛ (دوسری طرف) جنت الفردوس تیرے سایہ کے نیچے ہے۔

در ہوایم یا میان ترکشم

ہر کجا باشم سراپا آتشم

میں فضا میں اڑ رہا ہوں یا ترکش میں پڑا ہوں ؛ جہاں بھی ہوتا ہوں سرا پا آتش ہوتا ہوں۔

از کمان آیم چو سوی سینہ من

نیک می بینم بہ توی سینہ من

میں جب کمان سے دشمن کے سینے کی جانب آتا ہوں تو پہلے اس کے سینے کے اندر غور سے دیکھتا ہوں۔

گر نباشد در میان قلب سلیم

فارغ از اندیشہ ہای یأس و بیم

اگر اس کے اندر یاس و بیم کے اندیشوں سے فارغ قلب سلیم نہ ہو۔

چاک چاک از نوک خود گردانمش

نیمہ ئی از موج خون پوشانمش

تو میں اسے اپنی نوک سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہوں اور خون کی پوشاک پہنا دیتا ہوں۔

ور صفای او ز قلب مومن است

ظاہرش روشن ز نور باطن است

لیکن اگر اس کے اندر قلب مومن کی صفائی ہو اور اس کا ظاہر نور باطن سے ردشن ہے۔

از تف او آب گردد جان من

ہمچو شبنم می چکد پیکان من

تو اس کی گرمی سے میری جان پانی پانی ہو کر میرے پیکان سے شبنم کی مانند ٹپک جاتی ہے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: