(Rumuz-e-Bekhudi-14) (در معنی اینکہ وطن اساس ملت نیست) Dar Ma’ani Aynke Watan Asas-e-Millat Ast

در معنی اینکہ وطن اساس ملت نیست

 

آنچنان قطع اخوت کردہ اند

بر وطن تعمیر ملت کردہ اند

اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملّت اسلامیہ کی بنیاد وطن نہیں۔

 

اہل مغرب نے اس طرح اخوت کی جڑ کاٹی ہے کہ وطن کی بنا پر قوم کی تعمیر ہے۔

تا وطن را شمع محفل ساختند

نوع انسان را قبائل ساختند

وطن کو شمع محفل بنانے سے نوع انسان مختلف قبائل میں تقسیم ہم گئی ہے۔

جنتے جستند در بئس القرار

تا “احلوا قومہم دار البوار”

انہوں نے جہنم میں جنت تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کوشش میں اپنی قوم کو ہلاکت کے غار تک پہنچا دیا ہے۔

این شجر جنت ز عالم بردہ است

تلخی پیکار بار آوردہ است

وطنیت کے شجر نے دنیا سے جنت (امن و سکون) رخصت کر دیا ہے؛ اس درخت کا پھل جنگ کی تلخی کی صورت میں ظاہر ہوا ہے (دونوں عالمی جنگیں وطنیت کی بنا پر لڑی گئیں)۔

مردمی اندر جہان افسانہ شد

آدمی از آدمی بیگانہ شد

انسانیت دنیا میں افسانہ بن کر رہ گئی؛ آدمی آدمی سے بیگانہ ہو گیا۔

روح از تن رفت و ہفت اندام ماند

آدمیت گم شد و اقوام ماند

بدن سے روح نکل گئی اور صرف ڈھانچہ رہ گیا ؛ آدمیت گم ہو گئی اور قومیں باقی رہ گئیں۔

تا سیاست مسند مذہب گرفت

این شجر در گلشن مغرب گرفت

جب مغرب میں سیاست نے مذہب کی مسند پر قبضہ جمایا تو وہاں وطنیت کے درخت نے جڑ پکڑی۔

قصہ ی دین مسیحائی فسرد

شعلہ ی شمع کلیسائی فسرد

دین عیسوی کا قصّہ ختم ہوا، اور شمع کلیسا کا شعلہ بجھ گیا۔

اسقف از بے طاقتی در ماندہ ئی

مہرہ ہا از کف برون افشاندہ ئی

پوپ کے ہاتھ سے اختیار نکل گیا اور اس نے بیچارگی سے سیاست کے مہرے اپنے ہاتھ سے پھینک دیے۔

قوم عیسی بر کلیسا پازدہ

نقد آئین چلیپا وازدہ

عیسائی قوم نے کلیسا کو ٹھکرا دیا؛ عیسائی مذہب کے سکون کو رد کر دیا۔

دہریت چون جامہ ی مذہب درید

مرسلی از حضرت شیطان رسید

جب دہریت نے مذہب کا جامہ تار تار کیا تو شیطان کی طرف سے ایک مرسل بھی آ پہنچا۔

آن فلارنساوی باطل پرست

سرمہ ی او دیدہ ی مردم شکست

وہ فلارنس کا باطل پرست میکاولی تھا جس کے سرمہ نے انسانوں کی آنکھیں پھوڑ دیں۔

نسخہ ئی بہر شہنشاہان نوشت

در گل ما دانہ ی پیکار کشت

اس نے بادشاہوں کے لیے ایک کتاب لکھی؛ اور اس کے ذریعے نوع انسان کے اندر لڑائی جھگڑے کا بیج بویا۔

فطرت او سوی ظلمت بردہ رخت

حق ز تیغ خامہ ی او لخت لخت

اس کی فطرت انسانوں کے قافلے کو تاریکی کی طرف لے گئی ؛ اس کے قلم کی تلوار نے سچائی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔

بتگری مانند آزر پیشہ اش

بست نقش تازہ ئی اندیشہ اش

آزر کی مانند اس نے بھی بتگری کا پیشہ اختیار کیا؛ اس کی فکر نے ایک نئے نظریے کی بنیاد رکھی۔

مملکت را دین او معبود ساخت

فکر او مذموم را محمود ساخت

اس کے مذہب نے مملکت کو معبود قرار دے کر مذموم کو محمود بنا دیا۔

بوسہ تا بر پای این معبود زد

نقد حق را بر عیار سود زد

جب اس نے اس باطل معبود کے پاؤں پر بوسہ دیا؛ تو دینوی فائدے کو سچائی کا معیار ٹھہرایا۔

باطل از تعلیم او بالیدہ است

حیلہ اندازی فنی گردیدہ است

اس کی تعلیم سے باطل نے فروغ پایا؛ اور حیلہ اندازی نے فن کی صورت اختیار کر لی۔

طرح تدبیر زبون فرجام ریخت

این خسک در جادہ ی ایام ریخت

اس نے ایسے مسلک کی بنیاد رکھی جس کا انجام بہت برا تھا؛ اور اس طرح زمانے کی راہ میں کانٹے بکھیر دیے۔

شب بچشم اہل عالم چیدہ است

مصلحت تزویر را نامیدہ است

اس نے دنیا والوں کی آنکھوں کے سامنے رات کی تاریکی پھیلا دی اور مکر و فن کا نام مصلحت رکھ دیا۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: