(Rumuz-e-Bekhudi-15) (در معنی اینکہ ملت محمدیہ نہایت زمانی ہم ندارد) Dar Ma’ani Aynke Millat-e-Muhammadia Nihayat-e-Zamani Hum Nadarad

در معنی اینکہ ملت محمدیہ نہایت زمانی ہم ندارد

 

در معنی اینکہ ملت محمدیہ نہایت زمانی ہم ندارد کہ دوام این ملت شریفہ موعود است

در بہاران جوش بلبل دیدہ ئی

رستخیز غنچہ و گل دیدہ ئی

اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملّت محمدیہ (صلعم) حدود زماں سے آزاد ہے کہ اس ملّت شریفہ کا اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے۔

 

تو نے بہار میں بلبل کا جوش اور کلیوں کا پھوٹنا اور پھولوں کا کھلنا دیکھا ہے۔

چون عروسان غنچہ ہا آراستہ

از زمین یک شہر انجم خاستہ

کلیاں دلہن کی مانند یوں آراستہ نظر آتی ہیں؛ گویا زمین سے ایک شہر انجم اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

سبزہ از اشک سحر شوئیدہ ئی

از سرود آب جو خوابیدہ ئی

سبزہ صبح کے آنسوؤں (شبنم ) سے دھویا ہوا اور ندی کے نغمہ سے سویا ہوا (نظر آتا ہے)۔

غنچہ ئی بر می دمد از شاخسار

گیردش باد نسیم اندر کنار

شاخساروں سے غنچے پھوٹ رہے ہیں؛ اور باد نسیم انہیں اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہیں۔

غنچہ ئی از دست گلچین خون شود

از چمن مانند بو بیرون رود

مگر گلچیں کے ہاتھ سے کلی خوں ہو جاتی ہے اور خوشبو کی مانند چمن سے باہر نکل آتی ہے۔

بست قمری آشیان بلبل پرید

قطرہ ی شبنم رسید و بو رمید

بلبل اڑ گئی اور قمری نے آشیانہ بنایا ؛ خوشبو رخصت ہوئی اور قطرہء شبنم آیا۔

رخصت صد لالہ ی ناپایدار

کم نسازد رونق فصل بہار

سینکڑوں فانی گل ہائے لالہ کے چلے جانے سے فصل بہار کی رونق کم نہیں ہو جاتی۔

از زیان گنج فراوانش ہمان

محفل گلہای خندانش ہمان

اس نقصان کے باوجود (حسن فطرت) کا گنج فراواں قائم رہتا ہے؛ اور مسکراتے ہوئے پھولوں کی محفل برقرار رہتی ہے۔

فصل گل از نسترن باقی تر است

از گل و سرو و سمن باقی تر است

اگرچہ نسترن ، گل، سرو و سمن بہار کے اجزا ہیں مگر ان میں سے کسی ایک کے ختم ہو جانے سے بہار ختم نہیں ہو جاتی۔

کان گوھر پروری گوہر گری

کم نگردد از شکست گوہری

گوہر پیدا کرنے اور گوہر بنانے والی کان میں کسی ایک گوہر کے ٹوٹ جانے سے کمی واقع نہیں ہوتی۔

صبح از مشرق ز مغرب شام رفت

جام صد روز از خم ایام رفت

مشرق سے کئی صبحیں اور مغرب سے کئی شامیں (پیدا ہوئیں اور) گزر گئیں ؛ خم ایّاّم سے سینکڑوں دنوں کے جام لنڈھائے گئے۔

بادہ ہا خوردند و صہبا باقی است

دوشہا خون گشت و فردا باقی است

لوگ آتے گئے ، شراب پیتے گئے مگر شراب ابھی باقی ہے؛ ماضی ناپید ہوتا گیا مگر مستقبل باقی ہے۔

ہمچنان از فردہای پی سپر

ہست تقویم امم پایندہ تر

اسی طرح افراد ایک دوسرے کے پیچھے آتے جاتے رہے؛ (لیکن قومیں باقی رہیں) کیونکہ قوم کا استحکام افراد سے پائیندہ تر ہے۔

در سفر یار است و صحبت قائم است

فرد رہ گیر است و ملت قائم است

دوست سفر میں ہیں مگر بزم یاراں قائم ہے؛ فرد مسافر ہے لیکن ملت قائم ہے۔

ذات او دیگر صفاتش دیگر است

سنت مرگ و حیاتش دیگر است

ملت کی ذات اور ہے ؛ اس کی صفات اور ہیں؛ اور اس کی موت و حیات کا قانون مختلف ہے۔

فرد بر می خیزد از مشت گلی

قوم زاید از دل صاحب دلی

فرد مٹھی بھر خاک سے پیدا ہوتا ہے؛ لیکن فوم کسی صاحبدل کے باطن سے پیدا ہوتی ہے۔

فرد پور شصت و ہفتاد است و بس

قوم را صد سال مثل یک نفس

فرد کی زندگی فقط ساٹھ ستّر سال ہے ؛ اور قوم کی زندگی میں سو سال ایک لمحہ کی مانند ہے۔

زندہ فرد از ارتباط جان و تن

زندہ قوم از حفظ ناموس کہن

فرد کی زندگی جان و تن کے تعلق سے قائم ہے ؛ اور قوم کی زندگی اپنی قدیم روایات کے تحفظ سے قائم رہتی ہے۔

مرگ فرد از خشکی رود حیات

مرگ قوم از ترک مقصود حیات

فرد کی موت جوئے حیات خشک ہو جانے سے واقع ہو جاتی ہے؛ اور قوم کی موت مقصود حیات ترک کر دینے سے ہے۔

گرچہ ملت ہم بمیرد مثل فرد

از اجل فرمان پذیرد مثل فرد

اگرچہ قومیں بھی افراد کی مانند فنا ہو جاتی ہیں اور ان پر بھی فرد کی مانند قانون اجل کا نفاذ ہوتا ہے۔

امت مسلم ز آیات خداست

اصلش از ہنگامہ ی “قالوا بلی” ست

امت مسلمہ اللہ تعالے کی آیات میں سے ہے؛ اس کی بنیاد عہد الست (توحید) پر ہے۔

از اجل این قوم بے پرواستی

استوار از “نحن نزلنا”ستی

یہ قوم دائرہ ء اجل سے باہر ہے؛ اس کا قیام نحن نزلنا پر ہے۔

ذکر قائم از قیام ذاکر است

از دوام او دوام ذاکر است

ذکر (قرآن پاک) کا قائم رہنا ذاکر (امت مسلمہ ) کے قیام سے وابستہ ہے؛ اس لیے قرآن پاک کے دوام میں امت مسلمہ کا دوام موجود ہے۔

تا خدا “ان یطفئوا” فرمودہ است

از فسردن این چراغ آسودہ است

چونکہ اللہ تعالے نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالے کا نور نہیں بجھایا جا سکے گا؛ اس لیے چراغ ملت بھی بجھنے سے محفوظ ہے۔

امتے در حق پرستی کاملے

امتے محبوب ہر صاحبدلے

یہ امت جو توحید میں کامل ہے ہر صاحب دل کی محبوب ہے۔

حق برون آورد این تیغ اصیل

از نیام آرزوہای خلیل

اس تیغ اصیل کو اللہ تعالے نے حضرت ابراہیم (علیہ) کی دعا سے (128:2) باہر نکالا۔

تا صداقت زندہ گردد از دمش

غیر حق سوزد ز برق پیہمش

تاکہ اس کے دم قدم سے صداقت زندہ رہے اور اس کی برق پیہم غیر اللہ کو جلا دے۔

ما کہ توحید خدارا حجتیم

حافظ رمز کتاب و حکمتیم

ہم چونکہ اللہ تعالے کی توحید کی حجت ہیں اس لیے کتاب حکمت کے راز کے نگہبان ہیں۔

آسمان با ما سر پیکار داشت

در بغل یک فتنہ ی تاتار داشت

آسمان کو ہم سے دشمنی رہی اور اس نے اپنی بغل میں فتنہ ء تاتار پالا۔

بندہا از پا گشود آن فتنہ را

بر سر ما آزمود آن فتنہ را

پھر اس فتنے کے پاؤں سے زنجیر کھول دی اور اسے ہم پر چھوڑ دیا۔

فتنہ ئی پامال راہش محشری

کشتہ ی تیغ نگاہش محشری

وہ ایسا فتنہ تھا کہ اس کی راہ میں فتنہ ء محشر پامال اور اس کی تیغ نگاہ کا کشتہ ہے۔

خفتہ صد آشوب در آغوش او

صبح امروزی نزاید دوش او

اس کی آغوش میں سینکڑوں ہنگامے خوابیدہ تھے ؛ اس کی تاریک رات کے بعد کسی صبح روشن کا نشان نہ تھا۔

سطوت مسلم بخاک و خون تپید

دید بغداد آنچہ روما ہم ندید

مسلمان کی شان و شوکت خاک و خون میں مل گئی؛ بغداد نے وہ کچھ دیکھا جو روما نے بھی نہ دیکھا تھا۔

تو مگر از چرخ کج رفتار پرس

زان نو آئین کہن پندار پرس

مگر تو چرخ کج رفتار سے جو پرانا پاپی ہے اور ہر دور میں نئے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے پوچھ۔

آتش تاتاریان گلزار کیست؟

شعلہ ہای او گل دستار کیست؟

کہ تاتاریوں کی آگ کے لیے گلزار بن گئی؛ اور اس کے شعلے کس کی دستار کے پھول بنے۔

زانکہ ما را فطرت ابراہیمی است

ہم بہ مولا نسبت ابراہیمی است

چونکہ ہماری فطرت ابراہیمی ہے اور اللہ تعالے سے ہماری نسبت بھی ابراہیمی ہے۔

از تہ آتش بر اندازیم گل

نار ھر نمرود را سازیم گل

اس لیے ہم ہر آگ کے اندر سے پھول کھلتے ہیں ؛ اور ہر نمرود کی آگ کو گلستان بنا دیتے ہیں۔

شعلہ ہای انقلاب روزگار

چون بباغ ما رسد گردد بہار

جب زمانے کے انقلاب کے شعلے ہمارے باغ تک پہنچتے ہیں تو وہ بہار بن جاتے ہیں۔

رومیان را گرم بازاری نماند

آن جہانگیری، جہانداری نماند

رومیوں کی شان و شوکت کی گرم بازاری نہ رہی ؛ نہ ان کی فتوحات باقی رہیں اور نہ ان کی حکومت باقی رہی۔

شیشہ ی ساسانیان در خون نشست

رونق خمخانہ یونان شکست

ساسانیوں کا شیشہ (شراب کی جگہ) خون سے بھر گیا؛ یونان کے خمخانہ کی رونق لٹ گئی۔

مصر ھم در امتحان ناکام ماند

استخوان او تہ اھرام ماند

مصر بھی امتحان میں ناکام رہا؛ اس کے فرعونوں کی ہڈیاں اہرام کے نیچے دفن ہیں۔

در جہان بانگ اذان بودست و ہست

ملت اسلامیان بودست و ہست

لیکن دنیا میں آذان کی آواز بلند تھی اور ہے؛ ملت اسلامیہ پہلے بھی تھی اور اب بھی موجود ہے۔

عشق آئین حیات عالم است

امتزاج سالمات عالم است

دنیا کی زندگی کا اصول عشق ہے؛ عناصر عالم کی باہمی پیوستگی اسی سے ہے۔

عشق از سوز دل ما زندہ است

از شرار لاالہ تابندہ است

اور عشق ہمارے دل کے سوز سے زندہ اور لاالہ کے شرر سے تابندہ ہے۔

گرچہ مثل غنچہ دلگیریم ما

گلستان میرد اگر میریم ما

اگرچہ آج ہم کلی کی مانند ملول و دلگیر ہیں ؛ لیکن ہم ختم ہو جائیں تو یہ دنیا بھی نہیں رہے گی۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: