(Rumuz-e-Bekhudi-16) (در معنی اینکہ نظام ملت غیر ازئین) Dar Ma’ani Aynke Nizam -e-Millat Ghair Az Aain Soorat

در معنی اینکہ نظام ملت غیر ازئین صورت نبنددوئین ملت محمدیہ قرآن است

ملتی را رفت چون آئین ز دست
مثل خاک اجزای او از ہم شکست
اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملت کا نظام آئین کے بغیر قائم نہیں ہو سکتااور ملت محمدیہ کا آئین قرآن پاک ہے۔

جب کسی ملت کے ہاتھ سے آئین جاتا رہتا ہے تو اس کے اجزا خاک کی مانند بکھر جاتے ہیں۔
ہستی مسلم ز آئین است و بس
باطن دین نبی این است و بس
مسلمان کی ہستی صرف آئین پر موقوف ہے؛ حضور اکرم (صلعم) کے دین کی معنویّت یہی ہے۔
برگ گل شد چون ز آئین بستہ شد
گل ز آئین بستہ شد گلدستہ شد
جب پتّی آئین میں منسلک ہو جاتی ہے تو پھول بن جاتی ہے اور پھول پابند آئین ہو کر گلدستہ بن جاتا ہے۔
نغمہ از ضبط صدا پیداستی
ضبط چون رفت از صدا غوغاستی
آواز کو ضبط کے تحت لائیں تو وہ نغمہ بنتی ہے ؛ اور اگر اس میں ضبط نہ ہو تو وہ محض شور و غوغا ہے۔
در گلوے ما نفس موج ہواست
چون ہوا پابند نے گردد، نواست
ہمارے گلے میں سانس ہوا کی موج ہے جب یہ ہوا بانسری میں پابند ہو جاتی ہے تو نوا بن کر نکلتی ہے۔
تو ہمی دانی کہ آئین تو چیست؟
زیر گردون سر تمکین تو چیست؟
کیا تو جانتا ہے کہ تیرا آئین کیا ہے؟ اس آسمان کے نیچے تیرے وقار کا راز کیا ہے؟
آن کتاب زندہ قرآن حکیم
حکمت او لایزال است و قدیم
(یہ راز) قرآن حکیم ہے جو ایک زندہ کتاب ہے؛ جس کی حکمت قدیم بھی ہے اور کبھی نہ ہونے والی بھی۔
نسخہ ی اسرار تکوین حیات
بے ثبات از قوتش گیرد ثبات
یہ تخلیق حیات کے اسرار ظاہر کرنے والا نسخہ ہے؛ اس کی قوّت سے ناپائدار پائدار ہو جاتے ہیں۔
حرف او را ریب نے تبدیل نے
آیہ اش شرمندہ ی تأویل نے
اس کے الفاظ میں نہ شک ہے اور نہ وہ تبدیل ہو سکتے ہیں؛ اس کی آیات واضح ہیں ؛ ان کے لیے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔
پختہ تر سودای خام از زور او
در فتد با سنگ، جام از زور او
اس کی قوّت سے خام جذبہ پختہ تر ہو جاتا ہے؛ اس کا یہ اعجاز ہے کہ اس کی برکت سے جام پتھر سے ٹکرا جاتا ہے۔
می برد پابند و آزاد آورد
صید بندان را بفریاد آورد
یہ انسانوں کو آئین کا پابند کر کے آزادی عطا کرتا ہے؛ اس کی وجہ سے انسانیت کے شکاری بے بس ہو جاتے ہیں۔
نوع انسان را پیام آخرین
حامل او رحمة للعالمین
یہ نوع انسان کے لیے آخری پیغام ہے اور اسے لانے والے رحمتہ العالمین (صلعم) ہیں۔
ارج می گیرد ازو ناارجمند
بندہ را از سجدہ سازد سر بلند
بے وقعت شخص قرآن پاک کی برکت سے قدر و منزلت پا لیتا ہے؛ یہ کتاب بندے کو سجدہ کی تعلیم دے کر سربلند کر دیتی ہے۔
رہزنان از حفظ او رہبر شدند
از کتابی صاحب دفتر شدند
رہزن اسے حفظ کر کے رہبر بن گئے؛ ایک کتاب سے وہ صاحب دفتر ہو گئے۔
دشت پیمایان ز تاب یک چراغ
صد تجلی از علوم اندر دماغ
صحرا کے رہنے والوں نے اس ایک چراغ کی روشنی سے اپنے دماغ میں سینکڑوں علوم کی تجلّیات پا لیں۔
آنکہ دوش کوہ بارش بر نتافت
سطوت او زہرہ ی گردون شکافت
وہ کتاب جس کے بوجھ کو پہاڑ برداشت نہ کر سکے ، جس کی سطوت سے آسمان کا کلیجہ پھٹ گیا۔
بنگر آن سرمایہ ی آمال ما
گنجد اندر سینہ ی اطفال ما
وہ کتاب جو ہماری امیدوں کا سرمایہ ہے، ہمارے بچوں کے سینوں میں سمائی ہوئی ہے۔
آن جگر تاب بیابان کم آب
چشم او احمر ز سوز آفتاب
وہ کم آب صحرا کی سختی برداشت کرنے والا جس کی آنکھ آفتاب کی حدت سے سرخ ہے۔
خوشتر از آہو رم جمازہ اش
گرم چون آتش دم جمازہ اش
جس کی اونٹنی کی رفتار رم آہو سے خوب تر اور آگ کی طرح گرم ہے۔
رخت خواب افکندہ در زیر نخیل
صبحدم بیدار از بانگ رحیل
جو رات کو درخت کے نیچے سو جاتا ہے اور صبح کے وقت بانگ رحیل سے بیدار ہوتا ہے۔
دشت سیر از بام و در ناآشنا
ہرزہ گردد از حضر ناآشنا
جو صحرا نورد ہے اور آبادی سے نا آشنا ہے؛ جس کی زندگی صحرا میں آوارگی پر منحصر ہے اور جو مقام سے نا آشنا ہے۔
تا دلش از گرمی قرآن تپید
موج بیتابش چو گوہر آرمید
جب تک اس کا دل قرآن پاک کی گرمی سے تپش حاصل کرتا رہا ؛ اس کی موج بیتاب گوہر کی مانند آسودہ رہی۔
خواند ز آیات مبین او سبق
بندہ آمد خواجہ رفت از پیش حق
جب تک وہ قرآن کی واضح آیات سے سبق حاصل کرتا رہا؛ وہ اللہ تعالے کی جناب میں بندہ بن کر حاضر ہوا اور وہاں سے آقائی پا کر نکلا۔
از جہانبانی نوازد ساز او
مسند جم گشت پا انداز او
اللہ تعالے نے اس کے ساز کو جہانبانی سے نوازا ؛ اور جمشید کا تخت اس کے پاؤں تلے روندا گیا۔
شہر ہا از گرد پایش ریختند
صد چمن از یک گلش انگیختند
اس کی گرد پا سے کئی شہر آباد ہوئے ؛ اس کے ایک پھول سے کئی چمن پیدا ہوئے۔
اے گرفتار رسوم ایمان تو
شیوہ ہای کافری زندان تو
(اس کے بعد آج کل کے مسلمان سے خطاب فرما رہے ہیں۔)
تو دین کی رسوم میں گرفتار ہے؛ کافرانہ طور طریقے تیرے لیے زندان بنے ہوئے ہیں۔
قطع کردی امر خود را در زبر
جادہ پیمای الی “شئی نکر”
تو نے اپنے معاملات کو تفرقہ بازی کا شکار بنا دیا؛ اور تو ایک نا پسندیدہ چیز کی طرف چل نکلا۔
گر تو میخواہی مسلمان زیستن
نیست ممکن جز بقرآن زیستن
اگر تو مسلمان بن کر زندہ رہنا چاہتا ہے تو ایسی زندگی قرآن پاک کے بغیر ممکن نہیں۔
صوفی پشمینہ پوش حال مست
از شراب نغمہ ی قوال مست
آج کل کے گدڑی پوش اور مال مست صوفی قوال کے نغموں کی شراب سے مست ہیں۔
آتش از شعر عراقی در دلش
در نمی سازد بقرآن محفلش
عراقی کے اشعار ان کے دلوں میں گرمی پیدا کرتے ہیں؛ مگر قرآن پاک ان کی محفلوں کو راس نہیں آتا۔
از کلاہ و بوریا تاج و سریر
فقر او از خانقاہان باج گیر
انہوں نے کلّاہ و بوریا کو تاج و تخت بنا رکھا ہے ؛ اور ان کا فقر خانقاہوں سے اپنا خراج وصول کرتا ہے۔
واعظ دستان زن افسانہ بند
معنی او پست و حرف او بلند
واعظوں کا یہ حال ہے کہ وہ ہاتھ ہلا ہلا کر کہانیاں بیان کرتے ہیں؛ ان کی تقریروں میں لفّاظی بہت ہوتی ہے مگر معنی کم۔
از خطیب و دیلمی گفتار او
با ضعیف و شاذ و مرسل کار او
وہ اپنے واعظ صرف خطیب اور دیلمی جیسے محدثین کے حوالے دیتے ہیں اور احادیث کی مختلف اقسام بیان کرتے ہیں (قرآن پاک کے مطالب بیان نہیں کرتے)۔
از تلاوت بر تو حق دارد کتاب
تو ازو کامی کہ میخواہی بیاب
قرآن پاک کا بھی تجھ پر حق ہے کہ تو اس کی تلاوت کر کے اس کے ذریعے تو اپنا ہر مقصد پا سکتا ہے۔

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close