(Rumuz-e-Bekhudi-17) (در زمانۂ انحطاط تقلید از اجتہاد اولی تراست) Dar Ma’ani Aynke Dar Zamana Intihat Taqleed Az Ijtihad Aula Tar Ast

در زمانۂ انحطاط تقلید از اجتہاد اولی تراست

 

در معنی اینکہ در زمانۂ انحطاط تقلید از اجتہاد اولی تراست

عہد حاضر فتنہ ہا زیر سر است

طبع ناپروای او آفت گر است

اس مضمون کی وضاحت میں کہ انحطاط کے دور میں تقلید اجتحاد سے بہتر ہے۔

 

موجودہ دور اپنے اندر بہت سے فتنے رکھتا ہے؛ اس کی بے باک طبیعت سراپا آفت ہے۔

بزم اقوام کہن برھم ازو

شاخسار زندگی بے نم ازو

عہد حاضر نے گذشتہ اقوام کی بزم کو برہم کر دیا اور زندگی کی شاخوں کو نمی سے محروم کر دیا۔

جلوہ اش ما را ز ما بیگانہ کرد

ساز ما را از نوا بیگانہ کرد

دور جدید کے جلوں نے ہمیں اپنا آپ بھلا دیا ہے اور ہمارے ساز زندگی کو نغمہ سے محروم کر دیا ہے۔

از دل ما آتش دیرینہ برد

نور و نار لاالہ از سینہ برد

اس نے ہمارے دل سے عشق کی قدیم آگ چھین لی ہے اور ہمارے سینوں سے لاالہ کا نور و نار نکال دیا ہے۔

مضمحل گردد چو تقویم حیات

ملت از تقلید می گیرد ثبات

جب زندگی کی ساخت کمزور پڑ جاتی ہے تو اس وقت قوم تقلید ہی سے استحکام پاتی ہے۔

راہ آبا رو کہ این جمعیت است

معنی تقلید ضبط ملت است

اپنے آبا کے راستے پر چل کہ اسی میں جمیّت ہے؛ تقلید کا مطلب ملت کو ایک ضبط کے تحت لانا ہے۔

در خزان اے بے نصیب از برگ و بار

از شجر مگسل بہ امید بھار

اگر خزاں کے دوران درخت پھل پھول سے محروم ہو؛ تو بہار کی امید میں اس سے اپنا تعلق منقطع نہ کر لے۔

بحر گم کردی زیان اندیش باش

حافظ جوی کم آب خویش باش

اگر تو بحر گم کر چکا ہے تو اپنے نقصان کا احساس کر ؛ کم از کم اپنی کم آب ندی کا تحفظ کر لے۔

شاید از سیل قہستان برخوری

باز در آغوش طوفان پروری

ہو سکتا ہے کہ اس ندی کے اندر دوبارہ کوہسار کا سیال آ جائے اور وہ اپنی آغوش میں نئے طوفان کی پرورش کر لے۔

پیکرت دارد اگر جان بصیر

عبرت از احوال اسرائیل گیر

اگر تیرے بدن میں جان بصیر موجود ہے تو بنی اسرائیل کے احوال سے عبرت حاصل کر۔

گرم و سرد روزگار او نگر

سختی جان نزار او نگر

اس کے حالات کی سختی و نرمی پر غور کر اور پھر دیکھ اس کمزور جان نے اسے کس ہمت سے برداشت کیا ہے۔

خون گران سیر است در رگہای او

سنگ صد دہلیز و یک سیمای او

اس کی رگوں میں خوں کی گردش سست پڑ چکی ہے ؛ اس کی پیشانی سینکڑوں دہلیزوں پر سجدہ ریز ہے۔

پنجہ ی گردون چو انگورش فشرد

یادگار موسے و ہارون نمرد

آسمان کے پنجے نے اسے انگور کی طرح نچوڑ ڈالا ؛ مگر یہ قوم جو موسی و ہارون (علیہ) کی یادگار ہے مٹ نہ سکی۔

از نوای آتشینش رفت سوز

لیکن اندر سینہ دم دارد ہنوز

اس کی نوائے آتشیں سے سوز جاتا رہا؛ لیکن اس کے سینے میں ابھی تک دم موجود ہے۔

زانکہ چون جمعیتش ازہم شکست

جز براہ رفتگان محمل نبست

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اس کی جمیت ختم ہو گئی ؛ تو اس نے بزرگوں کی راہ نہ چھوڑی۔

اے پریشان محفل دیرینہ ات

مرد شمع زندگی در سینہ ات

اے مسلمان! تیری قدیم محفل پریشان ہو چکی ہے؛ تیرے سینے کے اندر زندگی کی شمع بجھ چکی ہے۔

نقش بر دل معنی توحید کن

چارہ ی کار خود از تقلید کن

تو اپنے دل پر دوبارہ توحید کا نقش کندہ کر اور اپنے اسلاف کی تقلید سے اپنی مشکلات کی چارہ سازی کر۔

اجتہاد اندر زمان انحطاط

قوم را برہم ہمی پیچد بساط

انحطاط کے زمانے میں اجتحاد قوم کا شیرازہ بکھیر دیتا اور اس کی بساط لپیٹ دیتا ہے۔

ز اجتہاد عالمان کم نظر

اقتدا بر رفتگان محفوظ تر

کوتاہ نظر عالموں کے اجتحاد سے اسلاف کی پیروی (خطرات سے) زیادہ محفوظ ہے۔

عقل آبایت ہوس فرسودہ نیست

کار پاکان از غرض آلودہ نیست

تیرے آباؤ اجداد کی عقل ہوس کا شکار نہیں تھی؛ پاک بازوں کے کام خود غرضی سے آلودہ نہیں ہوتے۔

فکر شان ریسد ہمی باریک تر

ورعشان با مصطفی نزدیک تر

ان کے فکر نے بڑی باریکیاں پیدا کیں؛ ان کا تقوي حضور (صلعم) کے قریب تر ہے۔

ذوق جعفر کاوش رازی نماند

آبروی ملت تازی نماند

اب امام جعفر (رحمتہ) کا ذوق و شوق اور امام رازی (رحمتہ) کی کاوش باقی نہیں رہی نہ ملت حجازی کی وہ شان و شوکت ہے۔

تنگ بر ما رہگذار دین شد است

ہر لئیمی راز دار دین شد است

ہم پر دین کا راستہ تنگ ہو چکا ہے؛ ہر فرد مایہء دین کے راز جاننے کا دعویدار ہے۔

اے کہ از اسرار دین بیگانہ ئی

با یک آئین ساز اگر فرزانہ ئی

تو جو اسرار دین سے نا آشنا ہے؛ اگر تو سمجھ رکھتا ہے تو ایک آئین کی پابندی اختیار کر۔

من شنیدستم ز نباض حیات

اختلاف تست مقراض حیات

میں نے نبّاظ حیات سے سنا ہے کہ اختلافات زندگی کے لیے قینچی کی طرح ہیں۔

از یک آئینی مسلمان زندہ است

پیکر ملت ز قرآن زندہ است

مسلمان وحدت آئین ہی سے زندہ ہے اور وہ آئین قرآن ہے۔

ما ھمہ خاک و دل آگاہ اوست

اعتصامش کن کہ حبل اللہ اوست

ہم سب خاک ہیں اور ہمارے دلوں کو بصیرت دینے والا قرآن پاک ہے اسے مظبوتی سے پکڑ لے کہ یہی حبل اللہ (اللہ کی رسی ) ہے۔

چون گہر در رشتہ ی او سفتہ شو

ورنہ مانند غبار آشفتہ شو

اپنے آپ کو موتیوں کی مانند قرآن پاک کے رشتہ میں پرو لے؛ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو غبار راہ کی طرح بکھر جائے گا۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: