(Rumuz-e-Bekhudi-18) (پختگی سیرت ملیہ از اتباع آئین الہیہ است) Dar Ma’ani Aynke Pukhtagi Seerat Milya Az Itba’a Ayin Elahia Ast

پختگی سیرت ملیہ از اتباع آئین الہیہ است

 

در معنی اینکہ پختگی سیرت ملیہ از اتباع آئین الہیہ است

در شریعت معنی دیگر مجو

غیر ضو در باطن گوھر مجو

اس مضمون کی وضاحت میں کہ کردار کی پختگی شریعت کے اتباع سے ہے۔

 

شریعت میں کوئی اور معنی نہ ڈھونڈ؛ گوہر کے باطن میں بھی چمک کے سوا اور کچھ نہیں۔

این گہر را خود خدا گوہر گر است

ظاہرش گوہر بطونش گوہر است

شریعت ایسا موتی ہے جسے خود اللہ تعالے نے بنایا ہے؛ اس کا ظاہر بھی موتی ہے اور باطن بھی۔

علم حق غیر از شریعت ہیچ نیست

اصل سنت جز محبت ہیچ نیست

سچا علم شریعت کے علاوہ اور کچھ نہیں اور سنت رسول پاک (صلعم) کی بنیاد محبت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

فرد را شرع است مرقات یقین

پختہ تر از وی مقامات یقین

فرد کے لیے شرع ایمان کا زینہ ہے؛ اسی سے ایمان کے مقامات میں پختگی آتی ہے۔

ملت از آئین حق گیرد نظام

از نظام محکمی خیزد دوام

ملّت کو بھی شریعت ہی سے نظام حاصل ہوتا ہے اور نظام محکم اسے دوام عطا کرتا ہے۔

قدرت اندر علم او پیداستی

ہم عصا و ھم ید بیضاستی

شریعت کے علم ہی سے (عمل پر) قدرت حاصل ہوتی ہے؛ یہ ایسا ( قوت کا نشان ) اور ید بیضا (نور ہدایت) بھی۔

با تو گویم سر اسلام است شرع

شرع آغاز است و انجام است شرع

میں یہ کہتا ہوں کہ اسلام کا راز شرع ہے؛ شرع ہی آغاز اور شرع ہی انجام۔

اے کہ باشی حکمت دین را امین

با تو گویم نکتہ ی شرع مبین

تو جو دین کی حکمت کا امانتدار ہے میں تمہیں شرع مبین کا نکتہ بتاتا ہوں۔

چون کسی گردد مزاحم بے سبب

با مسلمان در ادای مستحب

اگر کوئی مسلمان کے مستحب ادا کرنے کے راستے میں بے سبب رکاوٹ بنے۔

مستحب را فرض گرادنیدہ اند

زندگی را عین قدرت دیدہ اند

تو مستحب کو فرض قرار دے دیا گیا ہے؛ گویا زندگی کو عین قدرت عمل قرار دیا گیا ہے۔

روز ہیجا لشکر اعدا اگر

بر گمان صلح گردد بے خطر

اگر جنگ کے دوران دشمن کا لشکر صلح کے گمان پر اپنے آپ کو بے خطر سمجھنا شروع کر دے۔

گیرد آسان روزگار خویش را

بشکند حصن و حصار خویش را

وہ سہل انگاری اختیار کر لے اور اپنے دفاعی انتظامات ختم کر دے۔

تا نگیرد باز کار او نظام

تاختن بر کشورش آمد حرام

تو جب تک وہ دوبارہ اپنا نظام (دفاع) درست نہ کر لے اس کے ملک پر حملہ کرنا حرام ہے۔

سر این فرمان حق دانی کہ چیست

زیستن اندر خطرہا زندگیست

کیا تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالے کے اس حکم کا راز کیا ہے، یہ کہ خطروں میں جینا ہی زندگی ہے۔

شرع می خواہد کہ چون آئی بجنگ

شعلہ گردی واشکافی کام سنگ

شرع یہ چاہتی ہے کہ جب تو جنگ کے لیے آئے تو شعلہ بن کر پتھر میں شگاف کر دے۔

آزماید قوت بازوی تو

می نہد الوند پیش روی تو

شرع تیرے قوت بازو کو آزماتی ہے؛ تیرے سامنے (مشکلات ) کا پہاڑ رکھتی ہے۔

باز گوید سرمہ ساز الوند را

از تف خنجر گداز الوند را

پھر کہتی ہے کہ اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر دے؛ اپنے خنجر کی گرمی سے اسے پگھلا دے۔

نیست میش ناتوانی لاغری

درخور سر پنچہ ی شیر نری

کمزور اور لاغر بھیڑ ، شیر نر کے پنجہ کے لائق نہیں۔

باز چون با صعوہ خوگر می شود

از شکار خود زبون تر می شود

جب باز ممولے کے شکار کا عادی ہو جائے؛ تو وہ اپنے شکار سے بھی زیادہ عاجز و خوار ہو جاتا ہے۔

شارع آئین شناس خوب و زشت

بہر تو این نسخہ ی قدرت نوشت

جناب رسول اللہ (صلعم) نے جو خوب و زشت کے آئین شناس ہیں تیرے لیے شریعت کا یہ نسخہ جو تجھے عمل پر قدرت عطا کرتا ہے تحریر فرمایا۔

از عمل آہن عصب می سازدت

جای خوبی در جہان اندازدت

یہ عمل کے ذریعے تیرے اعصاب کو آہنی بناتا ہے اور تجھے دنیا میں بلند مقام عطا کرتا ہے۔

خستہ باشی استوارت می کند

پختہ مثل کوہسارت می کند

اگر تو کمزور ہے تو یہ تجھے استوار کر دیتا ہے اور پہاڑ کی مانند پختہ بنا دیتا ہے۔

ہست دین مصطفی دین حیات

شرع او تفسیر آئین حیات

حضور اکرم (صلعم) کا دین ہی دین فطرت ہے؛ اور شرع محمدی (صلعم) آئین حیات کی تفسیر ہے۔

گر زمینی آسمان سازد ترا

آنچہ حق می خواہد آن سازد ترا

اگر تو پست ہے تو یہ نسخہء شریعت تجھے آسمان جیسی بلندی عطا کرتا ہے؛ اللہ تعالے نے جو کچھ تمہیں کہا (کنتم خیرا لامۃ) تمہیں وہی بنا دیتا ہے۔

صیقلش آئینہ سازد سنگ را

از دل آہن رباید زنگ را

شریعت کا صیقل پتھر کو آئینہ بنا دیتا ہے ؛ اور لوہے کے دل سے زنگ دور کر دیتا ہے۔

تا شعار مصطفی از دست رفت

قوم را رمز بقا از دست رفت

جب حضور اکرم (صلعم) کا شعار (شریعت) ہاتھ سے نکل گیا تو قوم رمز بقا سے محروم ہو گئی۔

آن نہال سربلند و استوار

مسلم صحرائی اشتر سوار

وہ شتر سوار صحرائی مسلمان جو درخت کی مانند سربلند و استوار تھا۔

پای تا در وادی بطحا گرفت

تربیت از گرمی صحرا گرفت

وادیء بطحا میں رہائش پذیر تھا اور جس نے گرمیء صحرا سے تربیت پائی تھی۔

آن چنان کاہید از باد عجم

ہمچو نے گردید از باد عجم

وہ باد عجم سے نے کی طرح کمزور ہو گیا۔

آنکہ کشتی شیر را چون گوسفند

گشت از پامال موری دردمند

وہ جو شیر کو بکری کی طرح کمزور سمجھ کر مار دیتا تھا ؛ اب چیونٹی کے پاؤں تلے آ کر آہ و پکار کر دیتا ہے۔

آنکہ از تکبیر او سنگ آب گشت

از صفیر بلبلی بیتاب گشت

جس کی تکبیر سے پتھر پانی ہو جاتے تھے اب وہ بلبل کی آواز سے گبھرا جاتا ہے۔

آنکہ عزمش کوہ را کاہی شمرد

با توکل دست و پای خود سپرد

جس کا عزم پہاڑ کو تنکا سمجھتا تھا اب اس نے توکّل کے نام پر اپنے ہاتھ پاؤں باندھ لیے ہیں۔

آنکہ ضربش گردن اعدا شکست

قلب خویش از ضربہای سینہ خست

جس کے ہاتھ کی ضرب دشمنوں کی گردن توڑ دیتی تھی؛ اب وہ سینہ کوبی سے اپنے قلب کو زخمی کر رہا ہے۔

آنکہ گامش نقش صد ہنگامہ بست

پای اندر گوشہ ی عزلت شکست

جس کے نقش قدم سے سینکڑوں ہنگامے وابستہ تھے اب وہ گوشہء عجلت میں پاؤں توڑ کے بیٹھ گیا ہے۔

آنکہ فرمانش جہان را ناگزیر

بر درش اسکندر و دارا فقیر

جس کا حکم دنیا پر چلتا تھا ، جس کے دروازے پر سکندر و دارا فقیروں کی مانند کھڑے رہتے تھے۔

کوشش او با قناعت ساز کرد

تا بہ کشکول گدائی ناز کرد

اب اس نے اپنی کوشش کو قناعت کے سپرد کر دیا ہے؛ یہاں تک کہ وہ کشکول گدائی پر ناز کرتا ہے۔

شیخ احمد سید گردون جناب

کاسب نور از ضمیرش آفتاب

شیخ احمد سرہندی (رحمتہ) جن کا آستانہ آسمان کی طرح بلند ہے آفتاب بھی ان کے نور سے کسب ضیا کرتا ہے۔

گل کہ می پوشد مزار پاک او

لاالہ گویان دمد از خاک او

ان کے مزار پاک کو جو پھول ڈھانپے ہوئے ہیں وہ اس خاک سے لاالہ پڑھتے ہوئے اگتے ہیں۔

با مریدی گفت اے جان پدر

از خیالات عجم باید حذر

انہوں نے اپنے ایک مرید سے کہا کہ اے جان من! عجمی خیالات سے بچنا چاہیے۔

زانکہ فکرش گرچہ از گردون گذشت

از حد دین نبی بیرون گذشت

گو فکر عجم آسمان کی بلندیوں سے بھی آگے نکل گیا ہے؛ لیکن وہ دین نبی (صلعم) کی حدود سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔

اے برادر این نصیحت گوش کن

پند آن آقای ملت گوش کن

میرے بھائی ! اس نصیحت کو اچھی طرح سن اور ملت کے پاسبان (مجدد) کی اس بات کو حرز جان بنا لے۔

قلب را زین حرف حق گردان قوی

با عرب در ساز تا مسلم شوی

اپنے قلب کو اس قول راست سے مضبوط کر (عجمی خیالات چھوڑ کر) عربی اخلاق ستودہ اختیار کر تاکہ تو صیحح معنوں میں مسلمان بن جائے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: