(Rumuz-e-Bekhudi-19) (حسن سیرت ملیہ از تأدب بہ داب محمدیہ است) Dar Ma’ani Aynke Husn Seerat Milya Az Tadab Ba-Adaabe-e-Muhammadia (S.A.W.) Ast

حسن سیرت ملیہ از تأدب بہ داب محمدیہ است

 

در معنی اینکہ حسن سیرت ملیہ از تأدب بہ داب محمدیہ است

سائلے مثل قضاے مبرمے

بر در ما زد صدای پیہمی

اس مضمون کی وضاحت میں کہ ملت کا حسن سیرت جناب رسول (صلعم) کے آداب اختیار کرنے سے ہے۔

 

ایک مانگنے والا نہ ٹلنے والی قضا کی طرح ہما نے دروازے پر متواتر صدا دیئے جا رہا تھا۔

از غضب چوبی شکستم بر سرش

حاصل دریوزہ افتاد از برش

میں نے غصّے سے اس کے سر پر ڈنڈا دے مارا جس سے اس کی جھولی میں جو بھیک جمع تھی وہ نیچے گر گئی۔

عقل در آغاز ایام شباب

می نیندیشد صواب و ناصواب

جوانی کے آغاز میں عقل نیک و بد میں تمیز نہیں کرتی۔

از مزاج من پدر آزردہ گشت

لالہ زار چہرہ اش افسردہ گشت

میرے مزاج سے میرے والد صاحب آزردہ خاطر ہوئے؛ ان کے چہرے کی سرخی ماند پڑ گئی۔

بر لبش آہی جگر تابی رسید

در میان سینہ ی او دل تپید

ان کے لب سے آہ جگر سوز نکلی، ان کے سینے میں دل تڑپ اٹھا۔

کوکبے در چشم او گردید و ریخت

بر سر مژگان دمی تابید و ریخت

ان کی آنکھ میں ستارے کی مانند آنسو پیدا ہوا، تھوڑی دیر پلکوں پر چمکا اور ٹپک پڑا۔

ہمچو آن مرغی کہ در فصل خزان

لرزد از باد سحر در آشیان

اس پرندے کی مانند جو خزاں کے موسم میں آشیانے میں بیٹھا ہوا صبح کی ٹھنڈی ہوا میں لرز جاتا ہے۔

در تنم لرزید جان غافلم

رفت لیلای شکیب از محملم

غفلت میں پڑی ہوئی میری جان بھی میرے بدن میں لرز اٹھی؛ اور صبر کی لیلی میرے محمل سے نکل گئی۔

گفت فردا امت خیرالرسل

جمع گردد پیش آن مولای کل

میرے والد صاحب نے کہا، کہ کل جب خیر الرسول (صلعم) کی امت اس مولائے کل (صلعم) کے گرد و پیش جمع ہو گی۔

غازیان ملت بیضای او

حافظان حکمت رعنای او

ایک طرف ملّت بیضا کے غازیان کھڑے ہونگے ؛ دوسری طرف اس کی حکمت رعنا کے حافظان ہونگے۔

ہم شہیدانی کہ دین را حجت اند

مثل انجم در فضای ملت اند

اسی طرح شہیدان بھی موجود ہوں گے جو دین کے لیے حجت ہیں؛ اور ملّت کی فضا میں ستاروں کی مانند چمک رہے ہوں گے۔

زاہدان و عاشقان دل فگار

عالمان و عاصیان شرمسار

زاہد بھی ہوں گے ، دل فگار عاشق بھی ہوں گے؛ عالم بھی ہوں گے اور شرمسار گنہگار بھی۔

در میان انجمن گردد بلند

نالہ ہای این گدای دردمند

وہاں اس محفل میں اس دردمند گدا کی فریاد بلند ہو گی۔

اے صراطت مشکل از بے مرکبی

من چہ گویم چون مرا پرسد نبے

اے بیٹے وہاں سواری (اعمال حسنہ ) کے بغیر تیرا راستہ طے کرنا مشکل ہو جائے گا؛ میں کیا جواب دوں گا جب حضور اکرم (صلعم) مجھ سے دریافت فرمائیں گے۔

“حق جوانی مسلمی با تو سپرد

کو نصیبی از دبستانم نبرد

‘اللہ تعالے نے ایک مسلم نوجوان تیرے سپرد کیا تھا (کہ تو اس کی صیحح تربیت کرے) مگر وہ میری ادب گاہ سے سبق حاصل نہ کر سکا۔

از تو این یک کار آسان ہم نشد

یعنی آن انبار گل آدم نشد”

تو اتنا سا کام بھی سرانجام نہ دے سکا یعنی اس مٹی کے انبار کو آدمی نہ بنا سکا۔

در ملامت نرم گفتار آن کریم

من رہین خجلت و امید و بیم

وہ کریم الطبع ذات (صلعم)، ملامت میں نرم گفتار ، اور میں شرم میں ڈوبا ہوا اور امید و بیم کا شکار۔

اندکی اندیش و یاد آر اے پسر

اجتماع امت خیرالبشر

اے بیٹے ذرا سوچ اور امت خیر ا لبشر (صلعم) کے اس اجتماع کا تصوّر کر۔

باز این ریش سفید من نگر

لرزہ ی بیم و امید من نگر

پھر میری اس سفید ریش کا خیال کر اور (اس لمحہ ) مجھے امید و بیم سے کانپتے ہوئے دیکھ۔

بر پدر این جور نازیبا مکن

پیش مولا بندہ را رسوا مکن

اپنے آپ پر نازیبا ظلم نہ کر ؛ اس غلام کو اپنے آقا (صلعم) کے حضور رسوا نہ کر۔

غنچہ ئی از شاخسار مصطفی

گل شو از باد بھار مصطفی

تو حضور اکرم (صلعم) کی شاخسار کا ایک غنچہ ہے؛ باد بہار مصطفے (صلعم) سے کھل کر پھول بن۔

از بہارش رنگ و بو باید گرفت

بہرہ ئی از خلق او باید گرفت

مجھے آپ (صلعم) کی بہار سے رنگ و بو حاصل کرنا چاہیے؛ تجھے آپ (صلعم) کےخلق (عظیم) سے حصّہ لینا چاہیے۔

مرشد رومی چہ خوش فرمودہ است

آنکہ یم در قطرہ اش آسودہ است

مرشد رومی (رحمۃ) نے کیا خوب فرمایا ہے اس کے کلام کے ہر قطرے میں سمندر سمایا ہوا ہے۔

“مگسل از ختم رسل ایام خویش

تکیہ کم کن بر فن و بر گام خویش”

‘اپنی زندگی کو خاتم ا لرسول (صلعم) سے منقطع نہ کر اپنے فن اور اپنی رفتار پر اعتماد نہ کر’۔

فطرت مسلم سراپا شفقت است

در جہان دست و زبانش رحمت است

مسلمان کی فطرت سراپا شفقت ہے؛ اس کے ہاتھ اور زبان دنیا کے لیے باعث رحمت ہیں۔

آنکہ مہتاب از سر انگشتش دونیم

رحمت او عام و اخلاقش عظیم

آپ (صلعم) کی ذات مبارک وہ ہے جن کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا؛ آپ (صلعم) کی رحمت عام اور خلق عظیم ہے۔

از مقام او اگر دور ایستی

از میان معشر ما نیستی

اگر تو حضور (صلعم) کے مقام سے دور ہے تو ہمارے گروہ میں سے نہیں ہے۔

تو کہ مرغ بوستان ماستی

ہم صفیر و ھم زبان ماستی

تو ہمارے باغ کا پرندہ ہے؛ تو ہمارا ہم آواز اور ہم زبان ہے۔

نغمہ ئی داری اگر تنہا مزن

جز بشاخ بوستان ما مزن

اگر تو کوئی نغمہ رکھتا ہے تو اسے اکیلے نہ گا؛ ہمارے باغ کی شاخ کے علاوہ اور کہیں جا کے نہ گا۔

ہر چہ ہست از زندگی سرمایہ دار

میرد اندر عنصر ناسازگار

جو بھی زندگی سے سرمایہ دار ہے؛ وہ ناسازگار ماحول میں زندہ نہیں رہ سکتا۔

بلبل استی در چمن پرواز کن

نغمہ ئی با ھم نوایان ساز کن

اگر تو بلبل ہے تو چمن میں پرواز کر اور ہم نواؤں کے ساتھ مل کر گا۔

ور عقاب استی تہ دریا مزی

جز بخلوت خانہ ی صحرا مزی

اور اگر تو عقاب ہے تو دریا کی تہ میں نہ رہ صرف صحرا کے خلوت خانہ میں زندگی بسر کر۔

کوکبی ! می تاب بر گردون خویش

پا منہ بیرون ز پیرامون خویش

اگر تو ستارہ ہے تو اپنے آسمان پر چمک؛ اپنے ماحول سے باہر پاؤں نہ رکھ۔

قطرہ ی آبی گر از نیسان بری

در فضای بوستانش پروری

اگر تو بارش سے ایک قطرہ لے اور اسے باغ کی فضا میں پرورش کرے۔

تا مثال شبنم از فیض بہار

غنچہ ی تنگش بگیرد در کنار

یہاں تک کہ وہ فیض بہار سے شبنم کی مانند بند کلی کو اپنی آغوش میں لے لے۔

از شعاع آسمان تاب سحر

کز فسونش غنچہ می بندد شجر

پھر صبح کی آسمان کو روشن کرنے والی شعاع کے فسوں سے پودے میں کلیاں لگ جائیں۔

عنصر نم بر کشی از جوہرش

ذوق رم از سالمات مضطرش

لیکن اگر تو اس قطرے کے جوہر سے نمی کا عنصر نکال لے اور اس کے مرتعش اجزائے ترکیبی سے ذوق ارتعاش چھین لے۔

گوہرت جز موج آبی ہیچ نیست

سعی تو غیر از سرابی ہیچ نیست

اور پھر یہ توقع رکھے کہ وہ گوہر بن جائے تو وہ گوہر نہیں بنے گا، صرف موج آب رہے گا تو تیری یہ ساری کوشش سراب ثابت ہو گی۔

در یم اندازش کہ گردد گوہری

تاب او لرزد چو تاب اختری

تو اس قطرے کو دریا میں ڈال کہ وہ گوہر بنے اور اس کی آب و تاب سے ستارے لرزاں ہوں۔

قطرہ ی نیسان کہ مہجور از یم است

نذر خاشاکی مثال شبنم است

بارش کا وہ قطرہ جو دریا سے دور ہے، وہ شبنم کی مانند خس و خاشاک ہو جاتا ہے۔

طینت پاک مسلمان گوہر است

آب و تابش از یم پیغمبر است

مسلمان کی پاک طینت گوہر کی مانند ہے اور اس کی آب و تاب جناب رسول پاک (صلعم) کے دریا سے ہے۔

آب نیسانی بہ آغوشش در آ

وز میان قلزمش گوہر بر آ

تو بارش کا قطرہ ہے اس دریا کی آغوش میں آ اور حضور (صلعم) کے سمندر سے گوہر بن کر نکل۔

در جہان روشن تر از خورشید شو

صاحب تابانی جاوید شو

پھر دنیا میں آفتاب سے بھی زیادہ روشن ہو کر (چمک) اور ہمیشہ کی تابانی پا لے۔

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: